کیبوورڈی اور پاکستان فیفا ورلڈ کپ 2026کےسنسنی خیز ناک آوٹ مرحلے کا آغاز ہوچکا ہے۔۔یہ ٹورنامنٹ فٹ بال کی تاریخ میں پہلی بار امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں کھیلا جا رہا ہے ۔۔دنیا بھر سے 48ممالک کی ٹیموں نے حصہ لیا جن میں سے 32نےناک آوٹ مرحلے تک رسائی حاصل کی۔۔میگاایونٹ میں جہاں کئی نامورسوکرزنئے ریکارڈ قائم کررہے ہیں وہاں ایک غیر معروف ملک کی فٹبال ٹیم نے اپنی غیرمعمولی کارکردگی سےسب کو حیران کر دیا ہے۔۔غیر معروف ملک کے الفاظ اس لئے استعمال کئے کہ مجھ سمیت شاید اکثریت پہلے اس نام سے واقف نہیں تھی۔۔جی ہاں وہ نام ہے کیبو ورڈی یا کیپ ورڈے کا۔۔اس کے محل وقو ع آبادی اور دیگرخصوصیات کے بارے میں بھی زکر کریں گے لیکن پہلےفیفا ورلڈ کپ 2026میں اس چھوٹے سے جزیرہ نما ملک کی شاندار کارکردگی کے بارے میں آگاہ کرنا ضروری ہے ۔۔فیفا ورلڈ کپ میں کیبو ورڈی نے اٹلانٹا سٹیڈیم میں اپنا ڈیبیو میچ 15جون کو سابق ورلڈ چیمپئن اور گروپ کی مضبوط ترین ٹیم سپین کے خلاف کھیلاجس کا اختتام بغیر کسی گول کے برابررہا ۔۔دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ ملا۔۔یہ یقینا فٹبال فین کے لئے کسی حیران کن خبر سے کم نہ تھا۔۔ سپین فیفاورلڈ کپ 2010کی فاتح ٹیم ہے اور 17بارورلڈ کپ کھیل چکی ہے یہی نہیں ہسپانوی ٹیم دوبار فیفا ورلڈ کپ کے سیمی فائنل اور 6بار کوارٹرفائنل تک بھی رسائی حاصل کر چکی ہے ۔۔دوسری طرف ایسا ملک جو پہلی بار میگا ایونٹ میں سامنے آیا اور تجربہ کار حریف کے خلاف میدان میں اپنی صلاحیتوں کا سکہ جما دیا ۔۔سپین کے خلاف میچ میں کیبو ورڈی کے گول کیپر 40سالہ ووزینہا ہیرو ثابت ہوئے جنہوں نے ہسپانوی ٹیم کے حملوں کا ناکام بنایا اورسات یقینی گول روک کرشائقین فٹبال کے فیورٹ پلئیر بن گئے۔۔ کیبو ورڈی کی شاندارکارکردگی کا سلسلہ جاری رہا اورگروپ کی دیگرتجربہ کار ٹیموں سعودی عرب اوریوراگوئے سے میچز برابر ہونے پر 3پوائنٹس کے ساتھ ناک آوٹ مر حلے کے لئے کوالیفائی کرلیا۔۔اس طرح کیبو ورڈی میگا ایونٹ کے ناک آؤٹ مرحلے (راؤنڈ آف 32) تک پہنچنے والا تاریخ کا سب سے چھوٹا ملک بن گیا ہے۔ یہ ٹیم جس نے اکتوبر 2025 میں ورلڈ کپ کے لئےکوالیفائی کیا، عالمی کپ میں شامل ہونے والی آبادی کے لحاظ سے دوسری سب سے چھوٹی ٹیم ہے۔۔کیبو ورڈی کی اس غیر معمولی کامیابی کو عالمی سطح پر بہت سراہا گیا اور ٹورنامنٹ کے ناک آوٹ مرحلے تک رسائی کو فٹ بال کی تاریخ کا انوکھا اورحیران کن واقعہ قرار دیا گیا۔۔ کیبو ورڈی، جسے پہلے کیپ ورڈے (Cape Verde) بھی کہا جاتا تھا، مغربی افریقہ کے ساحل سے دور بحرِ اوقیانوس میں واقع ایک خوبصورت جزیرہ نما ملک ہے۔ یہ دس بڑے اور کئی چھوٹے جزیروں پر مشتمل ہے۔ اس ملک کا دارالحکومت پرایا (Praia) ہے۔۔ کیبو ورڈی کی آبادی تقریباً چھ لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔ یہاں کی سرکاری زبان پرتگالی ہے، جبکہ زیادہ تر لوگ روزمرہ زندگی میں کیبو ورڈین کریول زبان بولتے ہیں۔ ملک کی معیشت کا انحصار بنیادی طور پر سیاحت، ماہی گیری اور خدمات کے شعبے پر ہے۔ خوبصورت ساحل، صاف پانی اور معتدل موسم کی وجہ سے ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں سیاح یہاں آتے ہیں۔۔ میری طرح آپ بھی شاید سوچ رہے ہوں کہ کل 6لاکھ آبادی والے جزیرہ نما ملک کی فٹبال ٹیم فیفاورلڈ کپ میں کیسے پہنچ گئی اورمیگا ایونٹ کے ناک آوٹ مرحلے تک کیسے رسائی حاصل کی ۔۔؟اگر کیبو ورڈی کی ٹیم فیفاورلڈ کپ 2026کے لئے کوالیفائی کرسکتی ہے تو کم وبیش 25کروڑآبادی اور بے پناہ وسائل سے مالا مال ملک کی فٹبال ٹیم کوالیفائنگ راونڈ کیوں عبور نہ کر سکی۔۔فٹبال کے شوقین میرے 12سالہ بیٹے نے بھی یہی سوال مجھ سے کیا کہ ہماراملک بڑا ہے اورآبادی بھی کیبو ورڈی سے زیادہ ہے۔۔ٹیلنٹ ہونے کے باوجودپاکستان اب تک فیفاورلڈکپ میں کیوں کوالیفائے نہ کر سکا۔۔۔؟میں اپنے بیٹے کے معصومانہ سوال پر مسکرادیا اوردل ہی دل میں جواب دیا کہ شایدمیرٹ کی خلاف ورزی ،کرپشن یا اقربا پروری ۔۔