ٹول پلازہ۔ کیا سرکاری ریکارڈ بڑے سوالات کا جواب دیتا ہے؟

*عبوری ٹول پلازہ آپریشنز، کیریک انکوائری اور عوامی احتساب – کیا سرکاری ریکارڈ بڑے سوالات کا جواب دیتا ہے؟*

*تحریر: رانا تصدق حسین*

*اسلام آباد -* عوامی احتساب آئینی جمہوریت کا ستون ہے۔

سرکاری اتھارٹی کی جانب سے وصول کیا جانے والا ہر روپیہ پاکستان کے عوام کی امانت ہے جس کا انتظام آئین، قانون، شفافیت، مالیاتی نظم و ضبط اور ادارہ جاتی جوابدہی کے اصولوں کے عین مطابق ہونا لازم ہے۔

نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) سے متعلق جن دستاویزات کا جائزہ لیا گیا ہے، ان سے عبوری انتظامات کے تحت ٹول پلازوں کی ایک بڑی تعداد کے آپریشن، ٹول محصولات کی وصولی، اس کے حسابات، مصالحت اور بعد ازاں کی جانے والی محکمانہ انکوائریوں کے دائرہ کار پر نہایت اہم سوالات جنم لیتے ہیں۔

یہ معاملہ عوامی وسائل کی خطیر رقم سے جڑا ہوا ہے، لہٰذا اس کا محتاط، آزادانہ اور شواہد پر مبنی جائزہ ناگزیر ہے۔

دستیاب ریکارڈ سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ 27 اگست 2025 کو جاری ہونے والے دو آفس آرڈرز کے ذریعے کیریک (CAREC) یعنی انڈس ہائی وے ایڈیشنل کیریج وے پراجیکٹ سے متعلق 2017 سے 2023 کے عرصے کے لیے محکمانہ انضباطی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔

تاہم بادی النظر میں ان کارروائیوں کا محور منصوبے پر عمل درآمد اور اس میں تاخیر جیسے امور ہیں، جبکہ عبوری ٹول پلازہ آپریشنز اور محصولات کے انتظام و انصرام جیسے وسیع تر اور بنیادی نوعیت کے سوالات کو ان میں بالواسطہ یا واضح طور پر شامل نہیں کیا گیا۔

آیا یہ دو بالکل الگ الگ نوعیت کے معاملات ہیں جن کی علیحدہ اور باضابطہ چھان بین ضروری ہے؟ یہ وہ نکتہ ہے جس پر مجاز حکام کی جانب سے باضابطہ وضاحت آنا باقی ہے۔

اس رپورٹ کا مقصد کسی فرد یا ادارے کو قصوروار ٹھہرانا یا کسی کے بارے میں قبل از وقت فیصلہ صادر کرنا ہرگز نہیں ہے۔

اس رپورٹ کا مقصد دستیاب دستاویزات کی روشنی میں پیدا ہونے والے سوالات کی نشاندہی کرنا، انہیں ان کے درست قانونی و انتظامی تناظر میں پیش کرنا اور آئینی طور پر ذمہ دار نگران اداروں کو اس امر کی دعوت دینا ہے کہ وہ ایک غیر جانبدار، شفاف اور قانون کے مطابق طریقہ کار کے ذریعے حقائق کا تعین کریں۔

یہاں معاملہ صرف انتظامی کارکردگی کا نہیں، بلکہ عوامی مالیاتی نظم و نسق کی سالمیت، ٹیکس دہندگان کے پیسے کے تحفظ اور سرکاری اداروں پر عوام کے اعتماد کا ہے۔

یہ تمام مقاصد صرف اور صرف آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، ضابطے کی پابندی اور سب کے لیے یکساں احتساب کے اصول پر عمل پیرا ہو کر ہی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

لہٰذا اس رپورٹ میں اٹھائے گئے سوالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ متعلقہ پارلیمانی کمیٹیاں، قومی احتساب بیورو (نیب)، وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے)، آڈیٹر جنرل آف پاکستان اور قومی خزانے کے تحفظ کے ذمہ دار دیگر تمام بااختیار نگران ادارے ان کا معروضی جائزہ لیں۔

*یہ تحقیق ایک ہی بنیادی اصول پر قائم ہے:*

*پاکستان سب سے پہلے – آئین سب سے پہلے – قانون کی حکمرانی سب سے بالاتر۔*

اپنا تبصرہ بھیجیں