کاروباری شخصیت کا قتل یا خودکشی ؟؟؟

پوسٹ مارٹم رپورٹ سے پہلے پولیس نے
واقعہ کو خودکشی قرار دے دیا؟
معروف کاروباری شخصیت رحمت خان کی پراسرار موت، قتل یا خودکشی؟ سوالات بڑھنے لگے
(اسلام آباد: سردار ظہیر)
28 اپریل 2026 کو معروف کاروباری شخصیت اور الحمد فارمیسی کے مالک رحمت خان کی پراسرار موت کا معمہ تاحال حل نہ ہو سکا۔ واقعے کو ایک ماہ گزرنے کے باوجود نہ صرف پوسٹ مارٹم رپورٹ منظرِ عام پر نہیں آ سکی بلکہ پولیس کی ابتدائی رائے نے بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ذرائع کے مطابق مرحوم کے لواحقین انصاف کے حصول اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے لیے کبھی تھانے اور کبھی ہسپتالوں کے چکر لگانے پر مجبور ہیں۔ دوسری جانب تھانہ سیکرٹریٹ کے تفتیشی افسر حنیف کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں “ایک دو چیزیں باقی” ہونے کی وجہ سے رپورٹ مکمل نہیں ہو سکی۔تاہم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ پہلے ہی تیار ہو چکی ہے، جس کے باوجود اسے لواحقین کو فراہم نہیں کیا جا رہا۔ مزید حیران کن بات یہ سامنے آئی کہ تفتیشی افسر نے پوسٹ مارٹم رپورٹ موصول ہونے سے پہلے ہی واقعے کو “خودکشی” قرار دے دیا۔
ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ پر موجود اسلحے اور گولی کے نشانات نے بھی کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جس سمت اسلحہ موجود تھا، اسی جانب زخم کا سوراخ بڑا جبکہ مخالف سمت سوراخ نسبتاً چھوٹا تھا، جس پر مختلف حلقے شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں۔سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ جب پوسٹ مارٹم رپورٹ ابھی تک باضابطہ طور پر سامنے نہیں آئی تو پولیس نے واقعے کو خودکشی قرار دینے میں اتنی جلدی کیوں کی؟ اور اگر رپورٹ تیار ہے تو اسے تاحال منظرِ عام پر کیوں نہیں لایا جا رہا؟
28 اپریل کو پیش آنے والے اس پراسرار واقعے سے متعلق تاحال واضح مؤقف سامنے نہ آنا تھانہ سیکرٹریٹ پولیس کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان بن چکا ہے، جبکہ لواحقین شفاف تحقیقات اور حقائق سامنے لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔