وزیراعظم کا قربانی عید پر پیغام/ ایم اے شام کا کالم

یہ قربانی ہمیں ایک دوسرے کا خیال رکھنے کا درس دیتی ہے اسی لیے میں نے اپنے بیٹے بیٹیوں دامادوں کو کروڑوں روپے ان کے اکاؤنٹس میں ڈال کر اس قابل بنایا کہ وہ عید پر نئے نئے کپڑے پہن سکیں اپنی مرضی کے جانور خرید سکیں تاکہ قربانی کریں اور اپنی پسندیدہ ڈشز سے لطف اندوز ہو اسی طرح اصف علی زرداری نے بھی میری تقلید کرتے ہوئے اپنے بچوں کے لیے اربوں کی جائیدادیں بنائں اج زرداری صاحب کے بچے بیٹیاں داماد بھی میرے بچوں کی طرح ایسے ہی کر رہے ہیں وہ جب گھر سے شاپنگ کے لیے نکلتے ہیں تو 10 گاڑیاں اگے اور 10 گاڑیاں پیچھے ہوتی ہیں اسی طرح چوہدری پرویز الہی چودری شجاعت حسین مولانا فضل الرحمن سمیت جتنے بھی ہمارے اتحادی ہیں سب کے بچے عیاشیاں کر رہے ہیں ہماری مجبوری ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے بغیر نہیں چل سکتے اسی لیے ان کے بچے بھی ہمارے بچوں کی طرح اپنی اپنی فرمائشیں پوری کر رہے ہیں ہم نے اپنی تمام بیوروکریسی کا بھی اسی طرح خیال رکھا ہے جس طرح ہم نے اپنے بچوں کا رکھا ہے ہم نے ان کو بھی بڑی بڑی گاڑیاں مفت پٹرول سمیت مہیا کر رکھی ہیں ہر طرف خوشحالی ہی خوشحالی ہے ملک ترقی پذیر جب کہ ہم ترقی یافتہ ہیں ہمارے بچے مٹی کو بھی ہاتھ لگائیں تو سونا بن جاتی ہے ایک شخص نے نیا پاکستان بنانے کی کوشش کی تھی اب وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے مجھے یہ بتا کر بڑی خوشی ہو رہی ہے کہ ادھا پاکستان عمران خان کے ساتھ ہے اور وہ اسے چور نہیں سمجھتا اسی طرح باقی ادھا پاکستان میرے زرداری فضل الرحمن کے پیچھے ہے جو ہمیں چور نہیں سمجھتا اور یہی ہم سب سیاست دانوں کی کامیابی ہے میں چاہوں تو ایک گھنٹے کے اندر اندر پٹرول کی قیمتیں انتہائی کم کر سکتا ہوں لیکن مجھے ڈر ہے کہ سستا پٹرول ہونے کی وجہ سے لوگ گاڑیوں میں پٹرول ڈلوا کر ہمارے خلاف احتجاج کے لیے نکل پڑیں گے میں چاہوں تو اشیائ خوردو نوش بھی سستی کر سکتا ہوں صرف تمام ضلعی انتظامیہ افسران کو یہ حکم دینا ہے کہ وہ تمام دکانداروں کو سرکاری ریٹ پر عوام کو اشیاء کی فراہمی یقینی بنائیں ۔لیکن میں ان کو تنگ نہیں کرنا چاہتا کیونکہ ان دنوں گرمی بہت ہے اس لیے میں چاہتا ہوں کہ وہ اپنے اپنے دفاتر میں اے سی لگا کر ارام سے نوکری کریں کیونکہ جب تم لوگ پیٹ بھر کر کھانا کھاؤ گے تو تمہارا دھیان پھر ہم حکمرانوں کی طرف لازمی جائے گا ہم چاہتے ہیں کہ تم روٹی کے چکر میں پڑے رہو اج اگر قربانی کا گوشت نہیں کھایا تو روٹی کھاؤ اگر روٹی نہیں مل رہی تو مارکیٹ سے ڈبل روٹی کھاؤ قیام پاکستان سے لے کر اج تک مہنگائی ہی مہنگائی ہے اس میں میرا کوئی قصور نہیں ہے مجھے پتہ ہے اپ یہ بھی کہیں گے کہ ملک میں کرپشن بہت زیادہ ہو گئی ہے لیکن یہ کرپشن اج کی نہیں ہے بہت پرانی ہے اہستہ اہستہ کرپٹ لوگ ختم ہو جائیں گے تو کرپشن بھی خود بخود ختم ہو جائے گی اپ یہ بھی شکوہ کر رہے ہوں گے کہ دکانداروں کو کفایت شعاری کی وجہ سے ہم نے دکانیں 10 بجے بند کرنے کی کا حکم نامہ جاری کر رکھا ہے کیونکہ توانائی کی بچت کے لیے یہ بہت ضروری قدم تھا اپ یہ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ ہم حکمران 50۔ 50 گاڑیوں کے قافلے میں کہیں اتے جاتے ہیں تو یہ ہم حکمرانوں کی مجبوری ہے اپ لوگ سمجھا کریں ۔ کچھ لوگ مجھے کام نہیں کرنے دے رہے بالکل ایسے ہی جو مجھ سے پہلے اس ملک پر حکمران رہے تھے انہیں بھی کام کرنے نہیں دیا گیا تھا لیکن اپ لوگوں بے فکر رہیں میں اپنا کام کر رہا ہوں اپنے بچوں کے لیے اپنے خاندان کے لیے اصف علی زرداری اپنے بیٹے بلاول کو وزیراعظم بنانا چاہتے ہیں لیکن اپ لوگ فکر رہیں میں ایسا ہونے نہیں دوں گا کیونکہ ہماری پلاننگ بڑی لمبی ہے اگلا دور حکومت بھی ہمارا ہی ہے اگر میں وزیراعظم نہ بنا تو میری بھتیجی ہوگی اور میرا بیٹا وزیراعلی ہو سکتا ہے اس سے اگلے باری بلاول کی بھی ا جائےگی لیکن اپ لوگ پریشان نہ ہوں ہم لوگ عمران خان کو نہیں انے دیں گے اس نے اپنے دور حکومت میں لاکھوں کی تعداد میں گھر گرائے اور نیا پاکستان بنانے کی کوشش کی اور اپ نے دیکھا کہ ہم نے وفاقی دارالحکومت اسلام اباد میں اس سے بھی زیادہ گھر گرا کر لوگوں کو بے گھر کیا تاکہ نیا اسلام اباد اور نیا پاکستان بن سکے نیا اسلام اباد جو بنائیں گے وہ بھی ہمارا ہے اور پاکستان بھی ہمارا ہے ہم اپنے اتحادیوں کا اپنے بچوں کی طرح خیال رکھتے ہیں اپ لوگ ہمیں ووٹ دیں یا نہ دیں ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ہم نے اپنے میڈیا کی زبان اشتہاروں کے ذریعے بند کر رکھی ہے اور جو بھی ہمارے خلاف بکواس کرتا ہے ہم اس کو فوری اندر کر دیتے ہیں لہذا اپ کو مشورہ ہے کہ اپ لوگ احتیاط کریں اس سے پہلے کہ اپ لوگ جیل میں جائیں اور اپ کے بچے بھوک سے مر جائیں جو کہ پہلے ہی مر رہے ہیں اخری گزارش ہے کہ جیسے ملک چل رہا ہے لہذا اس کو چلنے دیں ملک میں کسی بھی قسم کے احتجاج کی کوئی اجازت نہیں ہے اگر اپ احتجاج کی سوچ رہے ہیں تو ان لوگوں سے پوچھو جن کو ہم نے جیلوں میں بند کر رکھا ہے لہذا چپ رہو ورنہ ۔وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف ولد میاں محمد شریف سکنہ وزیراعظم افس تاحیات اسلام اباد