پسند کی شادی کا انجام قتل ہی کیوں ۔ایم اے شام کاکالم

پسند کی شادی ہمارے معاشرے میں اگر اتنا ہی بڑا جرم ہے تو حکومت وقت کو چاہیے کہ بھاگ کر یا پسند کی شادی کرنے والوں پر پابندی عائد کی جائے اگر حکومت اور ریاست سمجھتی ہے کہ پسند کی شادی جائز ہے بھاگ کر بھی لڑکا لڑکی شادی کر سکتے ہیں تو پھر ان کی جان کی حفاظت کا ذمہ بھی حکومت اور ریاست لے اب ایک ہفتہ پہلے کی بات ہے کہ بھاگ کر شادی کرنے والی ایک لڑکی کے لواحقین نے جس گاؤں میں لڑکا رہتا تھا وہ پورا گاؤں ہی جلا کر ملیا میٹ کر دیا ۔جہاں ایک طرف موبائل اور سوشل میڈیا نے لڑکے لڑکیوں کے درمیان فاصلے انتہائی کم کر دیے ہیں یہی وجہ ہے کہ لڑکے اور لڑکی کو رابطہ کرنے میں موجودہ دور میں تو بالکل کی کوئی مشکل پیش نہیں اتی ہے ماں اپنے موبائل میں مصروف ہے باپ اپنے موبائل سے کھیل رہا ہے اور اسی طرح اولاد بھی اپ نے اپنے موبائل پر ہی مگن دکھائی دیتی ہے شہروں میں تو اب دیکھے طویل عرصہ ہو گیا ہے کہ میاں کو اپنی بیوی کو اواز دیتے ہوئے نہیں سنا بیوی اگر دوسرے کمرے یا کچن میں مصروف ہے تو میاں بجائے اس کے کہ اسے اواز دے موبائل فون پر ہی کال کر تاہے۔ ریاست کی نااہلی کے باعث اب تک گزشتہ دو دہائیوں میں ہزاروں کی تعداد میں مرد و زن کو پسند کی شادی کرنے پر قتل کیا جا چکا ہے اج بھی صبح کراچی میں ایک جوڑے کو پسند کی شادی کرنے پر قتل کر دیا گیا ہے ٹھیک ہے اجازت کے بغیر شادی کرلی ،کیا اس کا حل موت کی نیند سلا دینا ہے ؟ حکومت اور ریاست کب تک پسند کی شادی کرنے والوں کی یہ لاشیں ان کے لواحقین کے حوالے کرتی رہے گی حکومت کو اس حوالے سے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے ۔والدین کو اپنے بچوں پر نظر رکھنی ہوگی جو کہ موجودہ دور میں ممکن نہیں ہے اور ہو بھی سکتی ہے بات تربیت کی ہے اللہ سب کی بیٹیوں کو ہدایت دے اور اپنے حفظ و امان میں رکھے