جب اخلاقیات شارٹ کٹ کی نذر ہو جائیں! کسی دانا کا قول ہے کہ جب کسی معاشرے پر معاشی زوال آتا ہے، تو وہ صرف اس کی جیب پر اثر انداز نہیں ہوتا، بلکہ اس کی روح، اس کی روایات اور اس کے صدیوں پرانے اخلاقی ڈھانچے کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ آج کا دور کچھ ایسا ہی منظر پیش کر رہا ہے۔ معاشی اشاریوں کی گرما گرمی، ڈالر کی اونچی اڑان، پٹرول اور بجلی کے ہوش ربا بلز اور مہنگائی کے اس بے رحم طوفان نے عام آدمی کے حواس معطل کر دیے ہیں۔ ایک ایسا شخص جو صبح سے شام تک ایمانداری کی چکی میں پستا ہے، جب مہینے کے آخر میں اپنے بچوں کی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے، تو اس کے اندر کا انسان ایک عجیب بغاوت کا شکار ہو جاتا ہے۔ وہ بغاوت جو اسے صدیوں کے بنے بنائے اخلاقی ضابطوں کو توڑنے پر اکساتی ہے۔ پچھلے دنوں میرے ایک نہایت قریبی اور دیرینہ دوست سے ملاقات ہوئی۔ یہ وہ دوست ہے جس نے جوانی کے تپتے شب و روز کتابوں کی صحبت میں گزارے، جس نے ہمیشہ سچائی، دیانت داری اور حلال کے اصولوں کا پرچار کیا۔ وہ شخص جو کبھی معاشرے کی برائیوں پر کڑھتا تھا اور کہتا تھا کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے، انسان کو اپنا دامن میلا نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن اس بار جب وہ چائے کی میز پر میرے سامنے بیٹھا، تو اس کی آنکھوں میں وہ پرانی چمک نہیں تھی، بلکہ ایک سرد مہری اور غصہ تھا جو اس کے اندر پکنے والے لاوے کا پتا دے رہا تھا۔ چائے کی پیالی سے اٹھتا ہوا دھواں شاید ہمارے معاشرے کے بکھرتے ہوئے خوابوں کا استعارہ تھا۔ اس نے گہرا سانس لیا، ایک چمچ چینی چائے میں گھولی اور پھر گفتگو کا آغاز کچھ ایسے انداز میں کیا جس نے میری روح تک کو لرزا کر رکھ دیا۔ دوست: “بس اب بہت ہو گیا! اب مزید مجھ میں اس سفید پوشی کا ڈھونگ رچانے کی ہمت نہیں رہی۔ میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اخلاقیات، اصول، ضمیر اور شرافت—یہ سب دراصل کمزور اور بزدل لوگوں کے بہانے ہیں جنہوں نے اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے یہ خوبصورت نام گھڑ رکھے ہیں۔ میں نے زندگی کے قیمتی چالیس سال اس ایمانداری کی نذر کر دیے، مگر بدلے میں مجھے کیا ملا؟ صرف ادھار کا بوجھ, سسکتی ہوئی حسرتیں، یوٹیلٹی بلز کا خوف اور بچوں کے سامنے شرمندگی! میں اب یہ شرافت کا لبادہ اتار کر پھینکنا چاہتا ہوں۔ مجھے اب امیر ہونا ہے، بس امیر ہونا ہے، اور وہ بھی راتوں رات! چاہے اس کے لیے مجھے دنیا کے تمام اخلاقی ضابطے ہی کیوں نہ پامال کرنے پڑیں۔ اب میں ان پرانی اور فرسودہ باتوں کو پیچھے چھوڑ چکا ہوں!” میں نے کہا: “ہوش کے ناخن لو میرے بھائی! یہ تم کیا بہکی بہکی باتیں کر رہے ہو؟ معاشی دباؤ اپنی جگہ سچ، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انسان اپنے وجود کی سب سے بڑی سچائی، یعنی اپنے ضمیر اور اخلاق کا سودا کر لے۔ یہ عارضی تنگی تو امتحان ہوتی ہے۔ اگر انسان مادی خوشحالی کے لیے اپنی روح ہی بیچ دے، تو اس کے اور ایک جانور کے درمیان کیا فرق رہ جائے گا؟ شارٹ کٹ سے تم عارضی طور پر چمک دمک تو حاصل کر لو گے، لیکن جو پیسہ ناجائز یا حرام طریقے سے آتا ہے، وہ اپنے ساتھ برکت نہیں بلکہ ذہنی اذیت اور بے سکونی لاتا ہے۔” دوست :ایک تلخ اور تمسخرانہ ہنسی ہنستے ہوئےبولا سکون؟ ضمیر؟ یار تم ، خدا کے لیے ان روایتی فلسفوں سے باہر نکلو! یہ سب باتیں آپ جیسے کالم نگاروں کے کالموں اور کتابوں کے صفحات میں ہی اچھی لگتی ہیں، حقیقت کی بے رحم دنیا میں ان کی قیمت ایک ٹکے کی بھی نہیں ہے۔ جب مہینے کی پہلی تاریخ کو مکان کا مالک سر پر آ کھڑا ہوتا ہے، جب اسکول والے بچوں کو فیس نہ دینے پر کلاس سے باہر نکال دیتے ہیں، تو یہ ضمیر نام کا پرندہ کہیں اڑ جاتا ہے۔ آج کے مادہ پرست معاشرے کا سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ یہاں عزت صرف اور صرف اس کی ہے جس کی جیب گرم ہے۔ کوئی بھی یہ نہیں پوچھتا کہ آپ نے یہ دولت کیسے کمائی، سب یہ دیکھتے ہیں کہ آپ کے پاس گاڑی کون سی ہے اور آپ کا لائف اسٹائل کیا ہے۔ میں اب اس اخلاقی بوجھ کے نیچے دب کر مرنا نہیں چاہتا۔ اب جہاں بھی مجھے موقع ملے گا، چاہے وہ رشوت ہو، ملاوٹ ہو، ذخیرہ اندوزی ہو یا کوئی اور شارٹ کٹ—میں راتوں رات امیر بننے کے لیے ہر راستہ اپنانے کو تیار ہوں!” میں نے کہا: “مگر تم یہ کیوں بھول رہے ہو کہ معاشرہ افراد سے بنتا ہے۔ اگر تمہاری طرح ہر شخص یہی سوچنے لگا کہ اپنی ذات کے لیے تمام اخلاقی حدود کو توڑنا جائز ہے، تو پھر یہ پورا انسانی معاشرہ ایک خونخوار جنگل میں تبدیل ہو جائے گا جہاں طاقتور کمزور کو کچا چبا جائے گا۔ تم تو ہمیشہ کہتے تھے کہ معاشرے کو سچائی اور دیانت داری کی ضرورت ہے۔ آج تم خود اسی برائی کا حصہ بننے جا رہے ہو جس کے خلاف تم لڑتے رہے ہو؟ اپنے بچوں کی تربیت کا تو سوچو، انہیں کیا منہ دکھاؤ گے؟ کیا انہیں بھی یہی سکھاؤ گے کہ زندگی کا واحد مقصد صرف پیسہ کمانا ہے، چاہے طریقہ کوئی بھی ہو؟” دوست: “تربیت اور اخلاق بھی تبھی اچھے لگتے ہیں جب انسان کا پیٹ بھرا ہو اور تن پر اچھے کپڑے ہوں۔ بھوکے پیٹ اور خالی جیب کے ساتھ اخلاقیات کے بھاشن دینا بہت آسان ہے، مگر اسے نبھانا جہنم کی آگ میں جلنے کے مترادف ہے۔ میں نے دیکھ لیا ہے کہ اس نظام میں شرافت کا دوسرا نام بے وقوفی ہے۔ دنیا اسی کو عقلمند سمجھتی ہے جو دوسروں کا حق مار کر آگے نکل جاتا ہے۔ قانون، اصول اور اخلاقی زنجیریں صرف ہم جیسے کمزور غریبوں کو جکڑنے کے لیے بنائی گئی ہیں، امیروں اور طاقتوروں کے لیے تو ہر جرم، ہر گناہ اور ہر شارٹ کٹ جائز ہے۔ مجھے اب اس سفید پوشی کے نام نہاد بھرم کے چکر میں اپنی باقی زندگی برباد نہیں کرنی۔ مجھے اب فائیو اسٹار ہوٹلوں کی پرتعیش زندگی چاہیے، اپنے بچوں کے لیے مہنگی ترین آسائشیں چاہئیں، اور میں یہ سب حاصل کر کے رہوں گا، چاہے اس کا انجام کچھ بھی ہو۔” میں نے کہا: “تمہاری تلخی، تمہارا غصہ اور تمہاری مجبوریاں اپنی جگہ بالکل بجا ہیں، اور میں ان کا دل سے احترام کرتا ہوں کیونکہ میں خود اسی معاشرے کا حصہ ہوں اور اس درد کو محسوس کرتا ہوں۔ لیکن میرے دوست، یہ مت بھولو کہ جو دولت تمام اخلاقیات کو پسِ پشت ڈال کر حاصل کی جاتی ہے، وہ انسان کو سکون نہیں دے سکتی۔ تم دولت کے پہاڑ پر تو بیٹھ جاؤ گے، بہترین نرم بستر بھی خرید لو گے، مگر رات کو سونے کے لیے جو سکونِ قلب چاہیے، وہ کبھی بازار سے نہیں ملتا۔ جب انسان کا ضمیر مر جاتا ہے، تو وہ زندہ لاش بن جاتا ہے۔ عزتِ نفس کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا۔ کیا تم واقعی ایک ایسی زندگی چاہتے ہو جہاں دنیا تمہارے پیسے کو تو سلام کرے، مگر تمہاری ذات سے نفرت کرے؟” دوست (بے پروائی سے ہاتھ ہلاتے ہوئے اور بات کاٹتے ہوئے): “اب مجھے تمہارے ان فلسفوں اور نصیحتوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ میرے لیے یہ اب بے معنی باتیں ہیں۔ مجھے صرف اپنے حالات بدلنے ہیں، اور وہ بھی اب، اسی وقت! میں اب مزید انتظار نہیں کر سکتا۔” میرے دوست کی یہ باتیں محض ایک فرد کی آواز نہیں تھیں، بلکہ یہ اس متوسط طبقے کی چیخ تھی جو معاشی چکی کے دو پاٹوں کے درمیان پس کر اب بالکل ریزہ ریزہ ہو چکا ہے۔ اس کی گفتگو نے میرے دل پر ایک گہرا زخم چھوڑا۔ چائے ختم ہو چکی تھی اور وہ اپنی بدلی ہوئی سوچ کے ساتھ جا چکا تھالیکن مجھے خوف آرہا ہے ہر فرد اس طرح سوچے گا تو پھر معاشرے کا حلیہ کیا بنے گا؟

جب اخلاقیات شارٹ کٹ کی نذر ہو جائیں! کسی دانا کا قول ہے کہ جب کسی معاشرے پر معاشی زوال آتا ہے، تو وہ صرف اس کی جیب پر اثر انداز نہیں ہوتا، بلکہ اس کی روح، اس کی روایات اور اس کے صدیوں پرانے اخلاقی ڈھانچے کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ آج کا دور کچھ ایسا ہی منظر پیش کر رہا ہے۔ معاشی اشاریوں کی گرما گرمی، ڈالر کی اونچی اڑان، پٹرول اور بجلی کے ہوش ربا بلز اور مہنگائی کے اس بے رحم طوفان نے عام آدمی کے حواس معطل کر دیے ہیں۔ ایک ایسا شخص جو صبح سے شام تک ایمانداری کی چکی میں پستا ہے، جب مہینے کے آخر میں اپنے بچوں کی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے، تو اس کے اندر کا انسان ایک عجیب بغاوت کا شکار ہو جاتا ہے۔ وہ بغاوت جو اسے صدیوں کے بنے بنائے اخلاقی ضابطوں کو توڑنے پر اکساتی ہے۔ پچھلے دنوں میرے ایک نہایت قریبی اور دیرینہ دوست سے ملاقات ہوئی۔ یہ وہ دوست ہے جس نے جوانی کے تپتے شب و روز کتابوں کی صحبت میں گزارے، جس نے ہمیشہ سچائی، دیانت داری اور حلال کے اصولوں کا پرچار کیا۔ وہ شخص جو کبھی معاشرے کی برائیوں پر کڑھتا تھا اور کہتا تھا کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے، انسان کو اپنا دامن میلا نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن اس بار جب وہ چائے کی میز پر میرے سامنے بیٹھا، تو اس کی آنکھوں میں وہ پرانی چمک نہیں تھی، بلکہ ایک سرد مہری اور غصہ تھا جو اس کے اندر پکنے والے لاوے کا پتا دے رہا تھا۔ چائے کی پیالی سے اٹھتا ہوا دھواں شاید ہمارے معاشرے کے بکھرتے ہوئے خوابوں کا استعارہ تھا۔ اس نے گہرا سانس لیا، ایک چمچ چینی چائے میں گھولی اور پھر گفتگو کا آغاز کچھ ایسے انداز میں کیا جس نے میری روح تک کو لرزا کر رکھ دیا۔ دوست: “بس اب بہت ہو گیا! اب مزید مجھ میں اس سفید پوشی کا ڈھونگ رچانے کی ہمت نہیں رہی۔ میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اخلاقیات، اصول، ضمیر اور شرافت—یہ سب دراصل کمزور اور بزدل لوگوں کے بہانے ہیں جنہوں نے اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے یہ خوبصورت نام گھڑ رکھے ہیں۔ میں نے زندگی کے قیمتی چالیس سال اس ایمانداری کی نذر کر دیے، مگر بدلے میں مجھے کیا ملا؟ صرف ادھار کا بوجھ, سسکتی ہوئی حسرتیں، یوٹیلٹی بلز کا خوف اور بچوں کے سامنے شرمندگی! میں اب یہ شرافت کا لبادہ اتار کر پھینکنا چاہتا ہوں۔ مجھے اب امیر ہونا ہے، بس امیر ہونا ہے، اور وہ بھی راتوں رات! چاہے اس کے لیے مجھے دنیا کے تمام اخلاقی ضابطے ہی کیوں نہ پامال کرنے پڑیں۔ اب میں ان پرانی اور فرسودہ باتوں کو پیچھے چھوڑ چکا ہوں!” میں نے کہا: “ہوش کے ناخن لو میرے بھائی! یہ تم کیا بہکی بہکی باتیں کر رہے ہو؟ معاشی دباؤ اپنی جگہ سچ، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انسان اپنے وجود کی سب سے بڑی سچائی، یعنی اپنے ضمیر اور اخلاق کا سودا کر لے۔ یہ عارضی تنگی تو امتحان ہوتی ہے۔ اگر انسان مادی خوشحالی کے لیے اپنی روح ہی بیچ دے، تو اس کے اور ایک جانور کے درمیان کیا فرق رہ جائے گا؟ شارٹ کٹ سے تم عارضی طور پر چمک دمک تو حاصل کر لو گے، لیکن جو پیسہ ناجائز یا حرام طریقے سے آتا ہے، وہ اپنے ساتھ برکت نہیں بلکہ ذہنی اذیت اور بے سکونی لاتا ہے۔” دوست :ایک تلخ اور تمسخرانہ ہنسی ہنستے ہوئےبولا سکون؟ ضمیر؟ یار تم ، خدا کے لیے ان روایتی فلسفوں سے باہر نکلو! یہ سب باتیں آپ جیسے کالم نگاروں کے کالموں اور کتابوں کے صفحات میں ہی اچھی لگتی ہیں، حقیقت کی بے رحم دنیا میں ان کی قیمت ایک ٹکے کی بھی نہیں ہے۔ جب مہینے کی پہلی تاریخ کو مکان کا مالک سر پر آ کھڑا ہوتا ہے، جب اسکول والے بچوں کو فیس نہ دینے پر کلاس سے باہر نکال دیتے ہیں، تو یہ ضمیر نام کا پرندہ کہیں اڑ جاتا ہے۔ آج کے مادہ پرست معاشرے کا سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ یہاں عزت صرف اور صرف اس کی ہے جس کی جیب گرم ہے۔ کوئی بھی یہ نہیں پوچھتا کہ آپ نے یہ دولت کیسے کمائی، سب یہ دیکھتے ہیں کہ آپ کے پاس گاڑی کون سی ہے اور آپ کا لائف اسٹائل کیا ہے۔ میں اب اس اخلاقی بوجھ کے نیچے دب کر مرنا نہیں چاہتا۔ اب جہاں بھی مجھے موقع ملے گا، چاہے وہ رشوت ہو، ملاوٹ ہو، ذخیرہ اندوزی ہو یا کوئی اور شارٹ کٹ—میں راتوں رات امیر بننے کے لیے ہر راستہ اپنانے کو تیار ہوں!” میں نے کہا: “مگر تم یہ کیوں بھول رہے ہو کہ معاشرہ افراد سے بنتا ہے۔ اگر تمہاری طرح ہر شخص یہی سوچنے لگا کہ اپنی ذات کے لیے تمام اخلاقی حدود کو توڑنا جائز ہے، تو پھر یہ پورا انسانی معاشرہ ایک خونخوار جنگل میں تبدیل ہو جائے گا جہاں طاقتور کمزور کو کچا چبا جائے گا۔ تم تو ہمیشہ کہتے تھے کہ معاشرے کو سچائی اور دیانت داری کی ضرورت ہے۔ آج تم خود اسی برائی کا حصہ بننے جا رہے ہو جس کے خلاف تم لڑتے رہے ہو؟ اپنے بچوں کی تربیت کا تو سوچو، انہیں کیا منہ دکھاؤ گے؟ کیا انہیں بھی یہی سکھاؤ گے کہ زندگی کا واحد مقصد صرف پیسہ کمانا ہے، چاہے طریقہ کوئی بھی ہو؟” دوست: “تربیت اور اخلاق بھی تبھی اچھے لگتے ہیں جب انسان کا پیٹ بھرا ہو اور تن پر اچھے کپڑے ہوں۔ بھوکے پیٹ اور خالی جیب کے ساتھ اخلاقیات کے بھاشن دینا بہت آسان ہے، مگر اسے نبھانا جہنم کی آگ میں جلنے کے مترادف ہے۔ میں نے دیکھ لیا ہے کہ اس نظام میں شرافت کا دوسرا نام بے وقوفی ہے۔ دنیا اسی کو عقلمند سمجھتی ہے جو دوسروں کا حق مار کر آگے نکل جاتا ہے۔ قانون، اصول اور اخلاقی زنجیریں صرف ہم جیسے کمزور غریبوں کو جکڑنے کے لیے بنائی گئی ہیں، امیروں اور طاقتوروں کے لیے تو ہر جرم، ہر گناہ اور ہر شارٹ کٹ جائز ہے۔ مجھے اب اس سفید پوشی کے نام نہاد بھرم کے چکر میں اپنی باقی زندگی برباد نہیں کرنی۔ مجھے اب فائیو اسٹار ہوٹلوں کی پرتعیش زندگی چاہیے، اپنے بچوں کے لیے مہنگی ترین آسائشیں چاہئیں، اور میں یہ سب حاصل کر کے رہوں گا، چاہے اس کا انجام کچھ بھی ہو۔” میں نے کہا: “تمہاری تلخی، تمہارا غصہ اور تمہاری مجبوریاں اپنی جگہ بالکل بجا ہیں، اور میں ان کا دل سے احترام کرتا ہوں کیونکہ میں خود اسی معاشرے کا حصہ ہوں اور اس درد کو محسوس کرتا ہوں۔ لیکن میرے دوست، یہ مت بھولو کہ جو دولت تمام اخلاقیات کو پسِ پشت ڈال کر حاصل کی جاتی ہے، وہ انسان کو سکون نہیں دے سکتی۔ تم دولت کے پہاڑ پر تو بیٹھ جاؤ گے، بہترین نرم بستر بھی خرید لو گے، مگر رات کو سونے کے لیے جو سکونِ قلب چاہیے، وہ کبھی بازار سے نہیں ملتا۔ جب انسان کا ضمیر مر جاتا ہے، تو وہ زندہ لاش بن جاتا ہے۔ عزتِ نفس کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا۔ کیا تم واقعی ایک ایسی زندگی چاہتے ہو جہاں دنیا تمہارے پیسے کو تو سلام کرے، مگر تمہاری ذات سے نفرت کرے؟” دوست (بے پروائی سے ہاتھ ہلاتے ہوئے اور بات کاٹتے ہوئے): “اب مجھے تمہارے ان فلسفوں اور نصیحتوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ میرے لیے یہ اب بے معنی باتیں ہیں۔ مجھے صرف اپنے حالات بدلنے ہیں، اور وہ بھی اب، اسی وقت! میں اب مزید انتظار نہیں کر سکتا۔” میرے دوست کی یہ باتیں محض ایک فرد کی آواز نہیں تھیں، بلکہ یہ اس متوسط طبقے کی چیخ تھی جو معاشی چکی کے دو پاٹوں کے درمیان پس کر اب بالکل ریزہ ریزہ ہو چکا ہے۔ اس کی گفتگو نے میرے دل پر ایک گہرا زخم چھوڑا۔ چائے ختم ہو چکی تھی اور وہ اپنی بدلی ہوئی سوچ کے ساتھ جا چکا تھالیکن مجھے خوف آرہا ہے ہر فرد اس طرح سوچے گا تو پھر معاشرے کا حلیہ کیا بنے گا؟