ار پی او نے معافی مانگ لی

لاہور( کرائم رپورٹر)جھوٹے مقدمے پر اور پیو نے معافی مانگ لی
پہلے ذہنی معذور بیٹے اور تین بیٹیوں کے باپ پرمنشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا اور جب معاملہ ہائیکورٹ کے نوٹس میں آیا تو پھر ہائیکورٹ سے درخواست واپس لینے کے لیے پولیس اہکار فیملی پر دباؤ ڈالتے رہے
جسٹس فاروق حیدر کے حکم پر آر پی گوجرنوالہ نے تین بیٹیوں اور ذہنی معذور بیٹے کے والد پر جھوٹا منشیات کا مقدمہ درج کرنے پر متاثرہ فیملی سے کمرہ عدالت میں معافی مانگ لی
لاہور ہائیکورٹ کےجسٹس فاروق حیدر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے منشیات کے جھوٹے مقدمہ میں ملوث ملزم نصراللہ کی درخواست ضمانت منظور کرلی جسٹس فاروق حیدر نے کہاکہ جس گھر میں جوان بچیاں ہوں ان کے والد پر منشیات ڈال دی گئی، آپ کے ہوتے ہوئے کیسے جھوٹا مقدمہ درج ہوگیا؟ پہلے تفتیشی نے کیسے گناہگار کردیا؟ ہم اللہ کے سامنے جوابدہ ہیں، روز آخرت ملزم جھوٹے مقدمے کی شکایت کرے گا تو کیا جواب دیں گے؟ آر پی او صاحب، آپ اور ہم پر اللہ کی جانب سے بھاری ذمہ داری ہے، ملزم پر جعلی منشیات ڈالی گئی، آر پی او گوجرانوالہ خرم شہزاد نے موقف اپنایا کہ میں بھری عدالت میں ملزم کے ورثاء سے معذرت کرتا ہوں، ایف آئی آر دینے والے اور باقی ذمہ داروں کے خلاف کریمنل کارروائی ہوگی،آر پی او کو طلب کرنے پر پولیس نے ملزم کے ورثاء پر دباؤ ڈالا، پولیس نے ورثاء پر دباؤ ڈال کر درخواست ضمانت واپس کروانے کی کوشش کی، عدالت نے پولیس کے دباؤ کا نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری ہائیکورٹ بار سے معاونت طلب کی، عدالت نے کہا ورثاء نے بھری عدالت میں انکشاف کیا کہ پولیس کے دباؤ کی وجہ سے درخواست ضمانت واپس لے رہے ہیں، عدالت نے مقدمہ کا چالان ہونے کے بعد دوبارہ تفتیش نہ کرنے پر آر پی او گوجرانوالہ پر اظہار برہمی کیا،آر پی او گوجرانوالہ نے کہا کہ دوبارہ کی گئی تفتیش میں ملزم بے قصور ہے