حوا کی بیٹی لا پتہ ہونے کے بعد قتل

اسلام آباد(عابدمنہاس) فیملی کورٹ کی تاریخ پر گھر سے نکلی سندس بی بی لاپتہ، تین روز بعد پمز کے مردہ خانے سے لاش برآمد

سابق شوہر پر قتل کا الزام، لواحقین کا پولیس پر عدم تعاون کا شکوہ؛ واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ

اسلام آباد ( رپورٹ سفیر اختر عباسی ) بھارہ کہو سے اپنی عدالتی پیشی کے لیے گھر سے نکلنے والی 30 سالہ سندس بی بی دختر گوریز، سکنہ پھلہ، تحصیل لورہ، ضلع ایبٹ آباد، پراسرار طور پر لاپتہ ہوگئیں، تاہم تین روز بعد ان کی لاش پمز ہسپتال کے مردہ خانے سے ملنے کی اطلاع نے خاندان کو صدمے سے دوچار کردیا۔

لواحقین کے مطابق 8 ستمبر کی صبح تقریباً 8 بجے سندس بی بی بھارہ کہو، اسلام آباد میں واقع اپنے گھر سے فیملی کورٹ میں زیرِ سماعت مقدمے کی تاریخ پر جانے کے لیے روانہ ہوئیں، تاہم عدالت پہنچنے سے قبل ہی لاپتہ ہوگئیں اور واپس گھر نہ پہنچیں۔

سندس بی بی کی پہلی شادی ناکام ہونے کے بعد طلاق ہوگئی تھی۔ اس شادی سے ان کا تقریباً تین سالہ بیٹا ہے، جس کے نان و نفقہ اور کسٹڈی سے متعلق مقدمہ فیملی کورٹ میں زیرِ سماعت تھا اور اسی مقدمے کی تاریخ کے لیے وہ گھر سے روانہ ہوئی تھیں۔

لواحقین کے مطابق سندس بی بی کی گمشدگی کی رپورٹ تھانہ بھارہ کہو میں درج کرائی گئی، تاہم خاندان کا شکوہ ہے کہ انہیں پولیس کی جانب سے مطلوبہ تعاون اور بروقت مدد نہیں مل سکی۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ وہ اپنی عزیزہ کی تلاش کے لیے دربدر بھٹکتے رہے، مگر معاملے میں مؤثر پیش رفت نہ ہونے کے باعث ان کی تشویش بڑھتی رہی۔

11 ستمبر کو تھانہ بھارہ کہو کے ذریعے سندس بی بی کے موجودہ شوہر کو اطلاع دی گئی کہ وہ مبینہ طور پر تشویشناک حالت میں پمز ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ تاہم جب اہل خانہ پمز ہسپتال پہنچے تو انہیں معلوم ہوا کہ سندس بی بی اسپتال میں زیرِ علاج نہیں بلکہ ان کی لاش مردہ خانے میں موجود ہے۔

واقعے کے بعد لواحقین کی جانب سے سندس بی بی کے سابق شوہر پر قتل کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ تاہم قتل کے اصل محرکات، واقعے میں ملوث افراد اور سندس بی بی کی موت کی وجوہات کا تعین پولیس تفتیش اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

سندس بی بی کی اچانک اور پراسرار موت نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے، خصوصاً یہ کہ وہ فیملی کورٹ جاتے ہوئے کہاں گئیں، ان کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا اور ان کی لاش پمز ہسپتال کے مردہ خانے تک کیسے پہنچی؟

لواحقین نے آئی جی اسلام آباد اور اعلیٰ پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، سندس بی بی کی موت کے اصل حقائق سامنے لائے جائیں اور اگر کسی شخص کا قتل میں ملوث ہونا ثابت ہو تو اسے قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے۔

لواحقین نے مزید مطالبہ کیا ہے کہ سندس بی بی کی گمشدگی کے بعد پولیس کی جانب سے کی جانے والی کارروائی اور تفتیش کا بھی جائزہ لیا جائے تاکہ اگر کسی سطح پر غفلت یا کوتاہی ثابت ہو تو ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں