پنجاب میں کرپشن کے خاتمے کی جنگ

لاہوز( کرائم رپورٹر)پنجاب میں کرپشن کے خاتمے کے لیے وزیر اعلیٰ نے ڈی جی اینٹی کرپشن سہیل ظفر چٹھہ کو غیر معمولی اختیارات دیتے ہوئے مکمل “فری ہینڈ” دے دیا ہے، جس کے بعد اب چیف سیکریٹری بھی کسی کارروائی میں رکاوٹ نہیں بن سکیں گے۔ اس سنسنی خیز ڈیولپمنٹ کا اندازہ چیف سیکریٹری پنجاب زاہد زمان اور ڈی جی اینٹی کرپشن کے مشترکہ ویڈیو لنک خطاب سے ہوتا ہے، جس میں چیف سیکریٹری نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ جہاں بھی پانچ لوگ بیٹھتے ہیں وہ پنجاب میں کرپشن کا رونا روتے ہیں اور اب افسران کے حوالے سے پچاس پچاس لاکھ روپے کی کرپشن کی باتیں عام ہو چکی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پہلے وہ اچھے افسران کو فری ہینڈ دے کر اینٹی کرپشن کے درمیان خود حائل تھے، لیکن اب کرپشن پر زیرو ٹالرنس ہے اور محکمہ اینٹی کرپشن کو کھلی چھوٹ دی جا رہی ہے۔ دوسری جانب، ڈی جی اینٹی کرپشن نے چیف سیکریٹری سے بالا بالا وزیر اعلیٰ کو پنجاب میں کرپشن اور اس کے سدباب میں آنے والی مشکلات پر براہِ راست بریفنگ دی تھی، جس پر وزیر اعلیٰ نے انہیں مکمل طور پر بااختیار کیا۔ اینٹی کرپشن نے اب بدنام اور کرپٹ افسران کی باقاعدہ لسٹیں تیار کرنا شروع کر دی ہیں اور واضح کر دیا ہے کہ بری شہرت رکھنے والے کسی بھی افسر کو اب پنجاب میں کوئی اسائنمنٹ نہیں دی جائے گی