تین تباد لے مگر این ایچ اے کے حقوق نظر انداز
*تبادلے تیز، مگر اہم عہدے اور این ایچ اے کے حقوق نظرانداز*
*تحریر: رانا تصدق حسین*
*اسلام آباد —* وفاقی حکومت نے بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر تقرر و تبادلوں کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق پاکستان آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سروس کے گریڈ 20 افسر ذوالفقار خان کو چیف فنانس افسر، مذہبی امور ڈویژن کے عہدے سے ہٹا کر ان کی خدمات آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے سپرد، جبکہ گریڈ 20 کے وسیم ارشد کو نیا چیف فنانس افسر مقرر کیا گیا ہے۔
ڈپٹی سیکریٹری اسد اختر عباس کو نیشنل ٹیلنٹ پول، غلام خالق کی خدمات پنجاب حکومت، جبکہ پی اے ایس کے گریڈ 19 افسر عون حیدر گوندل اور گریڈ 18 کے فرحان احمد کی خدمات بھی پنجاب حکومت کے سپرد کی گئی ہیں۔
وفاقی وزارتِ صحت کے ڈاکٹر فہد خالد کی خدمات خیبرپختونخوا، بلوچستان کی فارماسسٹ مدیحہ خاتون کو وفاقی حکومت، جبکہ خیبرپختونخوا کی سمعیہ بشیر اور شہناز نوری کو وفاقی نظامتِ تعلیمات میں تعینات کیا گیا ہے۔ اوورسیز پاکستانیز ڈویژن کے خالد عمر کی خدمات اینٹی نارکوٹکس فورس ڈویژن کو واپس کر دی گئی ہیں۔
صحت سیکریٹری معطل
پمز میں گائنی وارڈ میں آتش زدگی کے المناک واقعے کے بعد وفاقی سیکریٹری صحت محمد اسلم غوری کو 120 روز کے لیے معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ کیپٹن (ر) محمد محمود کو سیکریٹری صحت کا اضافی چارج سونپا گیا ہے اور واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔
مگر سیکریٹری مواصلات اب بھی عارضی چارج پر
اتنے بڑے پیمانے پر تبادلوں کے باوجود سیکریٹری مواصلات کا حساس عہدہ تاحال باقاعدہ افسر کے بجائے لُک آفٹر چارج پر چل رہا ہے، جو ایسٹبلشمنٹ کوڈ اور مستقل عہدے پر باقاعدہ تقرری کے اصولوں پر سنجیدہ سوال اٹھاتا ہے۔
این ایچ اے: یقین دہانیوں کے برعکس مزید ڈیپوٹیشن
مزید تشویش ناک امر یہ ہے کہ ڈیپوٹیشن افسران کو واپس ان کے اصل محکموں میں بھیجنے کی بارہا یقین دہانیوں کے باوجود این ایچ اے میں مزید ڈیپوٹیشن افسران تعینات کیے جا رہے ہیں۔
یہ عمل این ایچ اے کے اپنے افسران کے ترقیاتی حقوق اور کیریئر کے مواقع کو متاثر کر رہا ہے، جبکہ این ایچ اے ملازمین بمقابلہ ڈیپوٹیشن افسران کا معاملہ پہلے ہی عدالت میں زیرِ سماعت ہے اور این ایچ اے سے متعلق اعلیٰ عدلیہ کے مخصوص احکامات بھی موجود ہیں۔
*اصل سوال:*
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن تبادلوں کے احکامات جاری کرنے میں اتنا متحرک ہے تو پھر حساس عہدوں پر مستقل تقرری اور این ایچ اے سے ڈیپوٹیشن افسران کی واپسی کیوں نہیں؟
*کیا این ایچ اے میں مزید تعیناتیاں باقاعدہ تحریری منظوری کے تحت ہو رہی ہیں یا احد چیمہ کے زبانی احکامات پر؟*
*قواعد، عدالتی احکامات اور این ایچ اے ملازمین کے ترقیاتی حقوق کا اطلاق آخر کب یقینی بنایا جائے گا؟*