بیکن ہاؤس عام ادمی کی پہنچ سے باہر تعلیم ؟

*بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی: غیر منافع بخش یا عام آدمی کی پہنچ سے باہر تعلیم؟*

*لاہور کی مہنگی ترین جامعات میں شمار، ’’نان پرافٹ‘‘ حیثیت، فیسوں اور ٹیکس مراعات پر شفافیت کا سوال — آڈٹ، ریگولیٹر اور عوامی مفاد کہاں ہے؟*

*تحریر: رانا تصدق حسین*

*لاہور —* لاہور میں واقع بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی (BNU) کے بارے میں ایک بنیادی اور غیر معمولی اہم سوال ابھر کر سامنے آ رہا ہے: اگر ایک اعلیٰ تعلیمی ادارہ خود کو ’’نان پرافٹ‘‘ یعنی غیر منافع بخش ادارہ قرار دیتا ہے تو اس حیثیت کا اصل فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے، اور اس کا حقیقی عوامی فائدہ کہاں نظر آتا ہے؟

یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ یونیورسٹی کی اپنی شائع کردہ فیس تفصیلات کے مطابق 2026-27 میں بیشتر انڈر گریجویٹ اور گریجویٹ پروگرامز کی فی سمسٹر فیس 3 لاکھ 21 ہزار روپے جبکہ آرٹ، ڈیزائن اور آرکیٹیکچر کے بعض انڈر گریجویٹ پروگرامز کی فی سمسٹر فیس 4 لاکھ 37 ہزار روپے مقرر ہے، جس کے علاوہ داخلہ، سکیورٹی، میڈیکل انشورنس اور دیگر سرگرمیوں کے چارجز بھی لاگو ہوتے ہیں۔

یعنی ایک عام متوسط یا کم آمدنی والے گھرانے کے لیے یہ سوال محض فیس کا نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم تک رسائی، مساوات، شفافیت اور ادارہ جاتی جواب دہی کا سوال بن جاتا ہے۔

*’’نان پرافٹ‘‘ ہونے کا مطلب کیا ہے؟*

کسی تعلیمی ادارے کا غیر منافع بخش حیثیت اختیار کرنا بذاتِ خود کوئی اعتراض کی بات نہیں۔ اعلیٰ تعلیم، تحقیق، علمی ترقی اور طلبہ کی فلاح کے لیے ایسے اداروں کا قیام معاشرے کے مفاد میں ہو سکتا ہے۔

*لیکن جہاں کسی ادارے کو ’’نان پرافٹ‘‘ حیثیت کی بنیاد پر قانونی، انتظامی یا ممکنہ ٹیکس سہولتیں حاصل ہوں، وہاں عوام کا یہ جاننے کا حق بھی پیدا ہوتا ہے کہ:*

اس حیثیت کے عوض عوامی فائدہ کیا پیدا ہو رہا ہے؟

کل کتنی فیس وصول کی جاتی ہے؟

*کتنی رقم اسکالرشپس اور مستحق طلبہ کی مالی معاونت پر خرچ ہوتی ہے؟*

*انتظامی اخراجات کتنے ہیں؟*

اعلیٰ انتظامی عہدیداروں کے مشاہرے اور مراعات کیا ہیں؟

*ادارے کے پاس کتنے اثاثے ہیں؟*

*کیا کسی متعلقہ فریق کے ساتھ مالی معاملات ہوتے ہیں؟*

*کتنی ٹیکس رعایت یا استثنیٰ حاصل کیا جاتا ہے؟*

اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا مکمل اور آزادانہ آڈٹ کے ذریعے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ادارے کے وسائل واقعی اس کے غیر منافع بخش تعلیمی مقصد ہی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں؟

یہ سوال کسی ادارے کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ عوامی مفاد اور شفافیت کے تقاضے کے تحت اٹھائے جانے چاہئیں۔

*سرتاج عزیز کا تعلق — مگر ایک اہم تصحیح*

*بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی کے حوالے سے سابق وفاقی وزیر خزانہ و خارجہ اور ممتاز ماہر اقتصادیات مرحوم سرتاج عزیز کا نام بھی ماضی میں سامنے آتا رہا ہے۔*

تاہم دستیاب سرکاری و دیگر ریکارڈ کے مطابق یہ وضاحت ضروری ہے کہ سرتاج عزیز بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی کے مالک نہیں تھے بلکہ وہ 2004 سے 2013 تک یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے۔

*آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے ریکارڈ میں بھی ان کے بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی حیثیت سے فرائض انجام دینے کا ذکر موجود ہے۔*

لہٰذا کسی شخصیت کو محض وائس چانسلر رہنے کی بنیاد پر ادارے کا مالک قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

*اصل سوال کسی ایک شخصیت سے کہیں بڑا ہے:*

آج اس ادارے کا قانونی و انتظامی کنٹرول کس کے پاس ہے، اس کے مالی معاملات کس طرح چلتے ہیں، اور ’’نان پرافٹ‘‘ حیثیت کے تحت اسے جو بھی قانونی یا ٹیکس فوائد حاصل ہیں، ان کی نگرانی اور تصدیق کون کرتا ہے؟

*فیس لاکھوں میں، عام آدمی کہاں جائے؟*

یہاں ایک اور بنیادی سوال جنم لیتا ہے۔

اگر ایک باصلاحیت طالب علم کا والد ماہانہ ایک، ڈیڑھ یا دو لاکھ روپے کماتا ہو تو کیا وہ اپنے بچے کو ایسی یونیورسٹی میں پڑھانے کی استطاعت رکھتا ہے جہاں ایک سمسٹر کی فیس ہی لاکھوں روپے ہو؟

اگر جواب نفی میں ہے تو پھر اعلیٰ تعلیم میں سماجی مساوات اور میرٹ کا تصور کہاں کھڑا ہے؟

*کیا صرف صاحبِ ثروت خاندانوں کے بچوں کے لیے اعلیٰ معیار کی تعلیم باقی رہ جائے گی؟*

کیا پاکستان جیسے ملک میں، جہاں لاکھوں باصلاحیت نوجوان مالی مشکلات کے باعث اعلیٰ تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں، غیر منافع بخش تعلیمی اداروں کی ذمہ داری صرف معیاری تعلیم فراہم کرنا ہے یا مستحق اور کم آمدنی والے طلبہ کے لیے حقیقی مواقع پیدا کرنا بھی اس کا حصہ ہونا چاہیے؟

*اسکالرشپ کتنی، کس کو اور کتنی رقم؟*

یونیورسٹی کی جانب سے مالی معاونت اور اسکالرشپ کے مواقع موجود ہونا اپنی جگہ اہم ہے، لیکن عوامی مفاد میں اصل اعداد و شمار سامنے آنا ضروری ہیں۔

ہر سال کتنے طلبہ کو need-based scholarships دی جاتی ہیں؟

کتنی مجموعی رقم اسکالرشپس کے لیے مختص کی جاتی ہے؟

کتنے فیصد طلبہ کو مکمل یا نمایاں فیس رعایت حاصل ہوتی ہے؟

اور مجموعی فیس آمدن کے مقابلے میں یہ رقم کتنے فیصد بنتی ہے؟

اگر یہ اعداد و شمار شفاف انداز میں سامنے آجائیں تو ’’نان پرافٹ‘‘ ہونے کے دعوے کی عملی تصویر خود عوام کے سامنے آ سکتی ہے۔

آڈٹ کون کرتا ہے، نگرانی کس کی ذمہ داری ہے؟

یہ معاملہ صرف یونیورسٹی انتظامیہ تک محدود نہیں رہتا۔

اگر کوئی ادارہ باقاعدہ قانونی چارٹر کے تحت کام کر رہا ہے، اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں خدمات انجام دے رہا ہے اور خود کو غیر منافع بخش قرار دیتا ہے تو پھر اس کے مالی، قانونی اور تعلیمی معاملات کی نگرانی کے لیے موجودہ ریاستی و قانونی نظام بھی جواب دہ ہے۔

یہ سوال ہائر ایجوکیشن کمیشن، پنجاب ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، متعلقہ ٹیکس حکام، یونیورسٹی کے قانونی و انتظامی فورمز اور آزاد آڈیٹرز سے بھی بنتا ہے کہ:

کیا ادارے کی غیر منافع بخش حیثیت کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جاتا ہے؟

کیا اس کے مکمل آڈٹ شدہ مالی گوشوارے دستیاب ہیں؟

کیا ٹیکس استثنیٰ یا مراعات کا قانونی جواز باقاعدگی سے جانچا جاتا ہے؟

اور کیا ان مراعات کے مقابلے میں مطلوبہ عوامی یا تعلیمی فائدہ حقیقتاً فراہم کیا جا رہا ہے؟

یہ سوالات کسی ادارے کے خلاف الزام نہیں بلکہ ریگولیٹری نظام کی کارکردگی کا امتحان ہیں۔

*’’نان پرافٹ‘‘ کا مطلب ’’نان اکاؤنٹیبل‘‘ نہیں*

یہ اصول صرف BNU کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے ہر ایسے ادارے پر لاگو ہونا چاہیے جو غیر منافع بخش، فلاحی یا خیراتی حیثیت کے تحت عوامی یا ٹیکس فوائد حاصل کرتا ہے۔

غیر منافع بخش ہونا قابلِ احترام حیثیت ہے، مگر اس حیثیت کے ساتھ غیر معمولی شفافیت بھی لازم ہونی چاہیے۔

اگر کسی ادارے کو ٹیکس میں رعایت ملتی ہے تو عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ کتنی رعایت ملی۔

اگر اسے قانونی تحفظ یا خصوصی حیثیت حاصل ہے تو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے بدلے میں معاشرے کو کیا فائدہ پہنچا۔

اگر اسے ’’نان پرافٹ‘‘ کہا جاتا ہے تو اس کے مالی حسابات یہ دکھائیں کہ منافع کی بجائے تعلیمی، تحقیقی اور سماجی مقصد کو ترجیح حاصل ہے۔

عام آدمی کا حق کہاں ہے؟

پاکستان میں تعلیم پہلے ہی ایک بڑے طبقے کے لیے ناقابلِ برداشت مالی بوجھ بنتی جا رہی ہے۔

ایسے میں جب ایک یونیورسٹی کے ایک سمسٹر کی فیس ہی کئی لاکھ روپے ہو تو ایک عام شہری کا یہ پوچھنا بالکل جائز ہے کہ:

کیا اعلیٰ تعلیم صرف اشرافیہ کا حق ہے؟

اگر نہیں تو پھر ایسے اداروں کی سماجی ذمہ داری کیا ہے؟

اور اگر ہاں، تو پھر غیر منافع بخش حیثیت کا حقیقی جواز کیا رہ جاتا ہے؟

یہ وہ سوال ہے جس کا جواب صرف یونیورسٹی نہیں بلکہ پورا ریگولیٹری نظام دینے کا پابند ہے۔

بات سرتاج عزیز سے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے

سرتاج عزیز ایک ممتاز پاکستانی ماہر اقتصادیات، سیاست دان اور سابق وزیر خزانہ و خارجہ تھے۔ بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی میں ان کا تقریباً ایک دہائی پر محیط وائس چانسلر کا کردار بھی ریکارڈ کا حصہ ہے۔

مگر آج کا سوال کسی مرحوم شخصیت کی ذات نہیں۔

سوال ادارہ جاتی گورننس کا ہے۔

سوال یہ ہے کہ موجودہ انتظامی ڈھانچہ کیا ہے؟

مالی نگرانی کس کے پاس ہے؟

آڈٹ کون کرتا ہے؟

ٹیکس حکام کیا دیکھتے ہیں؟

ریگولیٹر کیا جانچتا ہے؟

طلبہ کے مفادات کا تحفظ کون کرتا ہے؟

اور ایک عام پاکستانی کو اعلیٰ تعلیم تک قابلِ رسائی بنانے کے لیے ادارہ عملاً کیا کر رہا ہے؟

شفافیت سے سب سوال ختم ہو سکتے ہیں

اس پورے معاملے کا سب سے آسان اور قابلِ اعتماد حل بھی موجود ہے:

مکمل آڈٹ شدہ مالیاتی گوشوارے عوام کے سامنے لائے جائیں۔

فاؤنڈیشن کا موجودہ گورننس ڈھانچہ واضح کیا جائے۔

سالانہ مجموعی فیس وصولیوں کی تفصیل سامنے آئے۔

اسکالرشپس اور need-based financial assistance پر خرچ ہونے والی رقم ظاہر کی جائے۔

حاصل کردہ ٹیکس استثنیٰ یا مراعات کی قانونی بنیاد واضح کی جائے۔

انتظامی و اعلیٰ انتظامی اخراجات کی مناسب تفصیل فراہم کی جائے۔

اور یہ بتایا جائے کہ مجموعی آمدن کا کتنا حصہ تدریس، تحقیق، طلبہ کی فلاح اور ضرورت مند طلبہ کی معاونت پر خرچ ہوتا ہے۔

اس کے بعد فیصلہ عوام پر چھوڑ دیا جائے۔

*کیونکہ ’’نان پرافٹ‘‘ ایک لیبل نہیں، ایک ذمہ داری ہے۔*

*اصل سوال*

بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی مہنگی ہے یا نہیں، یہ ایک الگ بحث ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ اگر ایک ادارہ غیر منافع بخش حیثیت رکھتا ہے تو اس حیثیت کا حقیقی اور قابلِ پیمائش عوامی فائدہ کیا ہے؟

اگر ٹیکس رعایت ہے تو اس کا فائدہ کس کو؟

اگر غیر منافع بخش فاؤنڈیشن ہے تو اس کی آمدن کہاں خرچ ہو رہی ہے؟

اگر اعلیٰ تعلیم عوامی ضرورت ہے تو کم آمدنی والے باصلاحیت نوجوانوں کے لیے دروازہ کتنا کھلا ہے؟

اور اگر ایک عام پاکستانی کا بچہ صرف فیس کی وجہ سے اس دروازے تک نہیں پہنچ سکتا تو پھر ریاست، ریگولیٹر اور متعلقہ اداروں کی سماجی ذمہ داری کہاں شروع اور کہاں ختم ہوتی ہے؟

یہ صرف ایک یونیورسٹی کا سوال نہیں۔

یہ پاکستان میں تعلیم، ٹیکس مراعات، خیراتی و غیر منافع بخش اداروں، آڈٹ، ریگولیشن اور عام شہری کے حقِ تعلیم کا سوال ہے۔

*اور شاید سب سے اہم سوال یہی ہے:*

*اگر تعلیم غیر منافع بخش ہے تو اس کا سب سے بڑا فائدہ اٹھانے والا کون ہے — ادارہ، مراعات یافتہ طبقہ، یا عام پاکستانی کا بچہ؟*

اپنا تبصرہ بھیجیں