انصاف کی قیمت عدالتوں کا خرچ اسلام أباد ٹوڈے کی خصوصی رپورٹ

*انصاف کی قیمت:*
*عدالتوں کا خرچ کون اٹھاتا ہے؟*

*صدرِ مملکت کی جانب سے اعلیٰ عدلیہ کے معاوضوں اور مراعات میں اضافے کی منظوری، مگر اصل سوال یہ ہے کہ ٹیکس دہندہ کے بدلے اسے کیا مل رہا ہے؟*

*تحریر: رانا تصدق حسین*

*اسلام آباد-* صدرِ مملکت کی جانب سے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی
تنخواہوں، الاؤنسز اور دیگر مراعات میں اضافے کی حالیہ منظوری کو محض اس بحث تک محدود نہیں کیا جانا چاہیے کہ ججز کو بہتر معاوضہ ملنا چاہیے یا نہیں۔

ججز کو وقار، مالی تحفظ اور عدالتی آزادی کے لیے مناسب معاوضہ ملنا بلاشبہ ضروری ہے۔

لیکن اس پورے معاملے میں ایک اور آئینی فریق بھی موجود ہے جس کی آواز نظرانداز نہیں کی جا سکتی:

*ٹیکس دہندہ۔*

ہر وہ روپیہ جو کسی آئینی یا ریاستی ادارے پر خرچ ہوتا ہے، بالآخر عوامی وسائل سے آتا ہے۔ لہٰذا جب تنخواہوں، الاؤنسز، سرکاری رہائش، پنشن اور دیگر مراعات میں نمایاں اضافہ کیا جاتا ہے تو عوام کو یہ سوال پوچھنے کا مکمل حق حاصل ہے کہ:

*«اس کے بدلے ٹیکس دہندہ کو انصاف، رسائی، رفتار، کارکردگی اور ادارہ جاتی نتائج کی کیا ضمانت ملتی ہے؟»*

*یہ عدلیہ پر حملہ نہیں۔*

*یہ احتساب کا سوال ہے۔*

اور جمہوریت میں کوئی بھی ادارہ، خواہ وہ کتنا ہی محترم اور آئینی کیوں نہ ہو، جائز عوامی احتساب اور سوالات سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔

*اعداد و شمار صرف آغاز ہیں*

*عدلیہ کے معاوضوں میں حالیہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔*

*2024ء کے صدارتی حکم کے تحت سپریم کورٹ کے ججز کے سپیریئر جوڈیشل الاؤنس میں 4 لاکھ 28 ہزار 40 روپے سے اضافہ کرکے 11 لاکھ 61 ہزار 163 روپے ماہانہ کر دیا گیا، جبکہ سرکاری رہائش دستیاب نہ ہونے کی صورت میں ہاؤس رینٹ کی حد 68 ہزار روپے سے بڑھا کر 3 لاکھ 50 ہزار روپے کر دی گئی۔ سرکاری رہائش گاہوں کی دیکھ بھال کے اخراجات بھی ریاستی انتظام میں شامل ہیں۔*

*آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 205 اور پانچویں شیڈول کے تحت صدرِ مملکت کو ججز کی تنخواہوں، مراعات اور الاؤنسز میں اضافے کا اختیار حاصل ہے۔*

*لہٰذا اصل سوال آئینی اختیار کا نہیں۔*

اصل سوال یہ ہے کہ کیا مالی مراعات میں اضافے کے ساتھ ادارہ جاتی جواب دہی، کارکردگی اور انصاف کی فراہمی کا نظام بھی اسی قوت سے بہتر ہو رہا ہے؟

*عام آدمی کیا دیکھتا ہے؟*

عام شہری کے لیے نظامِ انصاف وفاقی بجٹ کی کوئی مجرد مد نہیں۔

یہ اس کی زندگی کا مسئلہ ہے۔

یہ وہ بیوہ ہے جو اپنی جائیداد کے قبضے کے لیے برسوں عدالت میں انتظار کرتی ہے۔

یہ وہ ملازم ہے جو اپنے واجبات کے لیے مقدمہ لڑ رہا ہے۔

یہ وہ ملزم ہے جو مقدمے کے فیصلے کا منتظر ہے۔

یہ وہ خاندان ہے جو وراثتی جائیداد کے تنازع میں الجھا ہوا ہے۔

یہ وہ تاجر ہے جس کا سرمایہ مقدمے میں پھنسا ہوا ہے۔

یہ وہ شہری ہے جو ریاستی زیادتی کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔

اور یہ وہ بیرونِ ملک پاکستانی بھی ہے جو اپنے مقدمے کی ہر پیشی کے لیے بار بار پاکستان آنے پر مجبور ہوتا ہے۔

ایسے شخص کے لیے انصاف جج کی تنخواہ سے نہیں ناپا جاتا۔

وہ انصاف کو وقت سے ناپتا ہے۔

کتنے سال لگے؟

کتنی پیشیاں ہوئیں؟

کتنی بار مقدمہ ملتوی ہوا؟

وکیلوں کی فیس پر کتنا خرچ ہوا؟

روزگار اور کاروبار کے کتنے مواقع ضائع ہوئے؟

اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا انصاف اس وقت ملا جب متاثرہ شخص ابھی زندہ، باوسائل اور اس قابل تھا کہ اس انصاف سے فائدہ اٹھا سکے؟

یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کے نظامِ انصاف کو سب سے سنجیدہ عوامی پالیسی سوال کا سامنا ہے۔

عدالت کا شاندار کمپاؤنڈ اور باہر کھڑا عام شہری

عام شہری میں یہ تاثر بڑھ رہا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اور عام آدمی کے درمیان ایک ادارہ جاتی فاصلہ پیدا ہو چکا ہے۔

شاندار عدالتی عمارات، سکیورٹی کے متعدد حصار، محدود رسائی، پروٹوکول، سرکاری گاڑیاں اور دیگر انتظامات کسی حد تک ضروری ہو سکتے ہیں۔

لیکن عام آدمی کے بنیادی سوال انتہائی سادہ ہیں:

کیا میں انصاف تک پہنچ سکتا ہوں؟
کیا میں اس انصاف کے اخراجات برداشت کر سکتا ہوں؟
کیا میں عدالتی طریقۂ کار کو سمجھ سکتا ہوں؟
اور کیا میں برسوں تک مقدمہ لڑنے کی مالی اور ذہنی استطاعت رکھتا ہوں؟

اگر ان سوالات کے جوابات مشکل ہوتے جا رہے ہیں تو ریاست کو صرف عدالتی تنخواہوں نہیں بلکہ انصاف کی فراہمی کے پورے ماڈل کا جائزہ لینا ہوگا۔

یہ سوال یہ نہیں کہ پاکستان کو کم ججز چاہئیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کو کم مگر مضبوط، مؤثر اور تیز تر عدالتی سطحیں درکار ہیں؟

عدالتیں بڑھانے کے بجائے موجودہ نظام مضبوط کیوں نہیں؟

پاکستان کو اپنے پورے عدالتی ڈھانچے کا سنجیدہ ادارہ جاتی آڈٹ کرنا چاہیے۔

جہاں دائرۂ اختیار ایک دوسرے سے متصادم یا غیر ضروری طور پر اوورلیپ کرتا ہے، وہاں اصلاح ہونی چاہیے۔

جہاں اپیلوں کی متعدد سطحیں مقدمے کو طویل کرتی ہیں مگر کوئی نمایاں اضافی عدالتی قدر پیدا نہیں کرتیں، وہاں نظام کا ازسرنو جائزہ ضروری ہے۔

جہاں خصوصی نوعیت کے مقدمات خصوصی ٹربیونلز کے ذریعے زیادہ تیزی سے نمٹائے جا سکتے ہیں، وہاں ان اداروں کو مؤثر بنایا جانا چاہیے۔

جہاں ثالثی اور مصالحت کے ذریعے سول اور تجارتی تنازعات برسوں کی عدالتی کارروائی سے بچ سکتے ہیں، وہاں ان نظاموں کو حقیقی معنوں میں فعال کیا جانا چاہیے۔

اور جہاں عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ زیادہ ہے، وہاں وسائل ضرورت اور ورک لوڈ کے مطابق فراہم کیے جانے چاہئیں، نہ کہ صرف ادارہ جاتی حیثیت اور روایتی ترجیحات کی بنیاد پر۔

مقصد واضح ہونا چاہیے:

کم تاخیر، کم غیر ضروری التوا، کم غیر ضروری عدالتی سطحیں اور زیادہ مضبوط فیصلہ سازی۔

ایک شہری کو کسی ایسے تنازع کے فیصلے کے لیے ایک دہائی نہیں لگنی چاہیے جسے چند ماہ میں نمٹایا جا سکتا ہو۔

*سب سے اہم سوال:* کارکردگی

عدلیہ آئینی طور پر آزاد ہے۔

لیکن عدالتی آزادی اور ادارہ جاتی جواب دہی ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔

بلکہ ایک آزاد عدلیہ شفاف کارکردگی رپورٹنگ کے ذریعے ملک کے لیے مثال قائم کر سکتی ہے۔

عوام کو ہر سال یہ جاننے کا حق کیوں نہ ہو کہ:

– کتنے مقدمات دائر ہوئے؟
– کتنے مقدمات نمٹائے گئے؟
– کتنے مقدمات زیرِ التوا رہے؟
– سب سے پرانا زیرِ التوا مقدمہ کتنے سال پرانا ہے؟
– اوسط فیصلہ کتنے عرصے میں ہوتا ہے؟
– ایک مقدمے میں اوسطاً کتنی پیشیاں ہوتی ہیں؟
– کتنی عدالتی اسامیاں خالی ہیں؟
– عدالتی عمارات اور انفراسٹرکچر پر کتنا خرچ ہوا؟
– سکیورٹی اور پروٹوکول پر کتنا خرچ ہوا؟
– سرکاری رہائش اور گاڑیوں پر کتنا خرچ ہوا؟
– مجموعی تنخواہوں اور الاؤنسز کا حجم کیا ہے؟
– اور انصاف کی فراہمی پر فی مقدمہ اوسطاً کتنی لاگت آتی ہے؟

یہ معلومات عدالتی آزادی میں مداخلت نہیں کرتیں۔

یہ عوامی اعتماد کو مضبوط کرتی ہیں۔

مراعات میں اضافہ، مگر کارکردگی پر قومی بحث کیوں نہیں؟

خطرہ یہ نہیں کہ ججز کو زیادہ معاوضہ کیوں دیا جا رہا ہے۔

خطرہ یہ ہے کہ پاکستان کہیں ایسا نظام معمول نہ بنا لے جہاں ادارہ جاتی اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو لیکن ادارہ جاتی کارکردگی اور عوامی نتائج پر اسی تناسب سے قومی بحث نہ ہو۔

یہ اصول ہر جگہ یکساں ہونا چاہیے۔

اگر پی آئی اے کی نجکاری ہوتی ہے تو ٹیکس دہندہ پوچھے کہ پرانے قرضوں اور واجبات کا بوجھ کس کے پاس رہے گا اور نئے جہازوں کی خریداری یا لیزنگ کی مالی ذمہ داری کون اٹھائے گا۔

اگر کسی حکومت کو غیر ملکی ماہر کی خدمات ڈالر، پاؤنڈ یا کسی دوسری غیر ملکی کرنسی میں حاصل کرنا پڑتی ہیں تو سوال ہونا چاہیے کہ پاکستان کو اس کے بدلے کیا قابلِ پیمائش مہارت اور نتیجہ حاصل ہوا۔

اگر وفاقی وزارتیں اور ڈویژنز برقرار رکھے جاتے ہیں تو سوال ہونا چاہیے کہ ایک ہی نوعیت کے فرائض کو ایک ہی ادارے میں یکجا کیوں نہیں کیا جا سکتا۔

اور جب عدالتی معاوضوں میں اضافہ کیا جاتا ہے تو عوام کو یہ پوچھنے کا بھی حق ہے:

«اس اضافے کے ساتھ کون سی ایسی اصلاحات کی جا رہی ہیں جن سے انصاف زیادہ تیز، سستا، قابلِ رسائی اور عام آدمی کے لیے مؤثر ہو گا؟»

یہ مخالفت نہیں۔

یہ یکساں احتساب کا اصول ہے۔

انصاف غریب کے لیے سب سے مہنگی سروس نہیں بننا چاہیے

اس بحث کا ایک اور انتہائی اہم پہلو مقدمہ بازی کی معاشیات ہے۔

امیر فریق اچھا وکیل کر سکتا ہے، بار بار پیشیوں کا خرچ برداشت کر سکتا ہے اور برسوں انتظار کر سکتا ہے۔

غریب فریق ایسا نہیں کر سکتا۔

اس کے لیے تاخیر خود ایک معاشی سزا بن جاتی ہے۔

جائیداد کا تنازع پورے خاندان کی مالی حالت تباہ کر سکتا ہے۔

تجارتی مقدمہ کاروباری سرمایہ منجمد کر سکتا ہے۔

سروس کا مقدمہ کسی ملازم کے قیمتی پیشہ ورانہ سال کھا سکتا ہے۔

فوجداری مقدمہ حتمی فیصلے سے پہلے ہی کسی شخص کی سماجی اور معاشی زندگی تباہ کر سکتا ہے۔

اس لیے عدالتی اصلاحات کو بالآخر ایک ہی پیمانے پر پرکھا جانا چاہیے:

«کیا عام شہری کے لیے انصاف حاصل کرنے کا وقت اور خرچ کم ہوا ہے؟»

اگر نہیں، تو صرف اخراجات میں اضافہ اصلاح نہیں کہلا سکتا۔

عدلیہ کو خود ویلیو فار منی کا مطالبہ کرنا چاہیے

عدلیہ کو انتظامیہ اور مقننہ سے مکمل آزادی کا مطالبہ کرنے کا آئینی اور اخلاقی حق حاصل ہے۔

لیکن عین اسی وجہ سے اسے ادارہ جاتی کارکردگی میں بھی مثال بننا چاہیے۔

عوام ایک دن یہ کہہ سکیں:

ہاں، ہمارے ججز کو اعلیٰ معاوضہ ملتا ہے، لیکن ہمیں دنیا کا سب سے مؤثر، تیز اور قابلِ رسائی نظامِ انصاف بھی حاصل ہے۔

یہ جملہ کسی بھی دفاعی بیان سے زیادہ مؤثر ہو گا۔

قومی تضاد

پاکستان ایک طرف سرکاری اخراجات کم کرنے، سرکاری اداروں کی تنظیمِ نو، تجارتی اداروں کی نجکاری اور ملکی و عالمی منڈیوں سے اربوں ڈالر قرض لینے کی کوشش کر رہا ہے۔

دوسری طرف ریاستی اخراجات میں مستقل اضافے کے ہر فیصلے کے ساتھ ویلیو فار منی کا سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔

ملک ٹیکس دہندہ سے قربانی کا تقاضا نہیں کر سکتا جبکہ ریاستی اداروں کے اخراجات عوامی نتائج سے الگ ہوتے جائیں۔

یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ عدالتی معاوضہ صرف موجودہ جج کی ماہانہ تنخواہ تک محدود نہیں ہوتا۔

الاؤنسز میں اضافے کے اثرات پنشن اور ریٹائرمنٹ کے بعد کی مراعات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ 2024ء کے سپیریئر جوڈیشل الاؤنس میں اضافے کا اطلاق ریٹائرڈ سپریم کورٹ ججز اور دیگر اہل مستحقین کی پنشن پر بھی ہوا۔

لہٰذا مالی اثر صرف آج کا تنخواہی بل نہیں۔

یہ کل کی پنشن کی ذمہ داری بھی بن سکتا ہے۔

قومی اثاثے، قومی قرض اور انصاف

یہی ویلیو فار منی کا اصول ریاست کے دوسرے بڑے شعبوں پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔

پاکستان کے قومی شاہراہوں اور موٹرویز کا نیٹ ورک محض سرکاری اخراجات نہیں۔

یہ قومی معاشی اثاثہ ہے۔

یہ مسافروں، تجارت، مال برداری اور لاجسٹکس کو جوڑتا ہے، بندرگاہوں کو منڈیوں سے ملاتا ہے اور ٹول کی صورت میں آمدنی بھی پیدا کرتا ہے۔

پھر سوال پیدا ہوتا ہے:

*«جب پاکستان اپنے پیداواری انفراسٹرکچر کے باوجود قرض لے رہا ہے تو کیا قومی شاہراہوں اور موٹرویز سے پیدا ہونے والی مستقبل کی آمدنی کو شفاف، قابلِ احتساب اور شرعی اصولوں سے ہم آہنگ سیونک کے ذریعے سرمایہ حاصل کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا؟»*

قومی ملکیت ختم کیے بغیر، مناسب ویلیوایشن، آزاد آڈٹ، قرض کی ادائیگی کی صلاحیت، پارلیمانی نگرانی اور شفاف کنسیشن معاہدوں کے ذریعے ایسے ماڈل پر غور کیا جا سکتا ہے جس میں اثاثہ قومی ملکیت میں رہے، اس کی آمدنی کو منظم انداز میں استعمال کیا جائے اور نئی انفراسٹرکچر سرمایہ کاری کے لیے سرمایہ پیدا کیا جائے۔

یہ محض قرض لینے سے مختلف تصور ہے۔

یہ پیداواری اثاثے سے سرمایہ پیدا کرنے کا تصور ہے۔

اصل سوال: پاکستان کی سب سے مہنگی تجارت کیا ہے؟

پاکستان کے سب سے مہنگے معاملات شاید وہ نہیں جو صرف ٹینڈر یا خریداری کی فائلوں میں نظر آتے ہیں۔

سب سے مہنگی وہ ساختی سودے بازی ہے جس میں:

عوام ادائیگی کرتی ہے،
ریاست خطرہ اٹھاتی ہے،
ادارہ پھیلتا ہے،
اثاثہ غیر مؤثر رہتا ہے،
قرض بڑھتا ہے،
اور شہری کو قابلِ پیمائش فائدہ معمولی ملتا ہے۔

یہی اصل قومی لاگت ہے۔

خسارے میں چلنے والی ایئرلائن۔

کم کارکردگی والا سرکاری ادارہ۔

ایک وزارت جو دوسری وزارت کا کام دہرا رہی ہو۔

ایک اتھارٹی جو دوسری اتھارٹی کے فرائض دہرا رہی ہو۔

ایسا عدالتی نظام جس میں شہری کی زندگی کے سال مقدمے کی نذر ہو جائیں۔

ایسا قومی اثاثہ جو معمولی آمدنی پیدا کرے جبکہ حکومت مہنگے قرض لے۔

ایسا غیر ملکی ماہر جسے ڈالر میں ادائیگی ہو مگر عوام کے سامنے اس کے نتائج قابلِ پیمائش نہ ہوں۔

یہ سب الگ الگ مسائل نہیں۔

یہ مل کر پاکستان پر عائد پوشیدہ مالی بوجھ بناتے ہیں۔

قومی ویلیو فار منی آڈٹ ناگزیر ہے

پاکستان کو اب ایک جامع، آزاد اور غیر جانب دار قومی عوامی اخراجات و ادارہ جاتی کارکردگی آڈٹ کی ضرورت ہے۔

ہر بڑے ادارے کے بارے میں عوام کو معلوم ہونا چاہیے:

– سالانہ سرکاری اخراجات؛
– تنخواہیں اور الاؤنسز؛
– پنشن اور ریٹائرمنٹ فوائد؛
– سرکاری گاڑیاں اور ایندھن؛
– سکیورٹی اور پروٹوکول کے اخراجات؛
– سرکاری عمارات اور جائیدادیں؛
– ملازمین کی تعداد؛
– منظور شدہ اور عملی افرادی قوت؛
– کنسلٹنٹس اور خصوصی تقرریاں؛
– غیر ملکی کرنسی میں کی جانے والی ادائیگیاں؛
– پیدا ہونے والی آمدنی؛
– نمٹائے گئے مقدمات یا انجام دیے گئے فرائض؛
– قابلِ پیمائش نتائج؛
– فی نتیجہ لاگت؛
– غیر استعمال شدہ یا کم استعمال ہونے والے اثاثے؛
– اور سب سے بڑھ کر عوامی فائدہ۔

یہ بھی ایک ایسی رپورٹ نہیں ہونی چاہیے جو فائلوں میں دفن ہو جائے۔

*اس کے نتائج کی بنیاد پر طے ہونا چاہیے کہ کوئی ادارہ:*

برقرار رہے، مضبوط کیا جائے، ضم کیا جائے، تجارتی بنیادوں پر چلایا جائے، نجی شعبے کے حوالے کیا جائے یا ختم کیا جائے۔

*اصل پوسٹ مارٹم*

صدرِ مملکت کی حالیہ منظوری کو قومی بحث کا اختتام نہیں بلکہ آغاز بننا چاہیے۔

*پاکستان کو ایک آزاد جسٹس ڈلیوری اینڈ جوڈیشل ایکسپنڈیچر ریویو کا آغاز کرنا چاہیے جو نظامِ انصاف کی مکمل لاگت کو اس کے قابلِ پیمائش نتائج کے مقابل رکھے۔*

*اس کا مقصد عدالتی آزادی کو چیلنج کرنا نہیں۔*

*ججوں کے فیصلوں میں مداخلت نہیں۔*

تقرریوں کو سیاسی بنانا نہیں۔

بلکہ صرف یہ معلوم کرنا ہے کہ:

«عدلیہ پر خرچ ہونے والے ہر اضافی روپے کے بدلے انصاف کتنا زیادہ تیز، مؤثر، شفاف اور عام شہری کے لیے قابلِ رسائی ہوا؟»

اگر جواب قابلِ پیمائش ہے تو اسے عوام کے سامنے رکھا جائے۔

اگر کارکردگی بہتر ہوئی ہے تو اعداد و شمار سے ثابت کیا جائے۔

اگر تاخیر باقی ہے تو اس کی وجوہات سامنے لائی جائیں۔

اگر عدالتیں بوجھ تلے دبی ہیں تو انہیں مضبوط کیا جائے۔

اگر دائرۂ اختیار میں غیر ضروری تکرار ہے تو اسے ختم کیا جائے۔

اگر ٹیکنالوجی غیر ضروری پیشیاں کم کر سکتی ہے تو اسے استعمال کیا جائے۔

اگر مصالحت برسوں کی مقدمہ بازی روک سکتی ہے تو اسے ادارہ جاتی شکل دی جائے۔

اور اگر آئینی حقوق متاثر کیے بغیر عدالتی سطحوں کی تعداد کم کی جا سکتی ہے تو اس پر بھی کھلے ذہن سے غور کیا جائے۔

*آخری سوال*

پاکستان کو کمزور عدلیہ نہیں چاہیے۔

پاکستان کو ایسی مضبوط عدلیہ چاہیے جس تک سب سے کمزور شہری بھی آسانی سے پہنچ سکے۔

ججز کو عزت اور باوقار معاوضہ ملنا چاہیے۔

لیکن اسی کے ساتھ عام شہری کو بھی باوقار، بروقت اور قابلِ استطاعت انصاف ملنا چاہیے۔

ٹیکس دہندہ کسی جج کی مناسب تنخواہ سے اصولاً گریزاں نہیں ہونا چاہیے۔

لیکن ٹیکس دہندہ مناسب انصاف کا مطالبہ ضرور کر سکتا ہے۔

*اور شاید یہی حالیہ صدارتی منظوری کا سب سے اہم پہلو ہے:*

*«جتنا مہنگا انصاف ہو گا، عوام کی اس سے توقع بھی اتنی ہی زیادہ ہو گی۔»*

*اصل سوال یہ نہیں کہ:*

*”ایک جج کو کتنی تنخواہ ملنی چاہیے؟”*

*اصل سوال یہ ہے:*

*«”ایک قوم انصاف کے لیے کتنا خرچ کرے، اور اس خرچ کے بدلے عام شہری کو کس معیار کا انصاف ملنا چاہیے؟”»*

یہ وہ قومی بحث ہے جس سے اب گریز نہیں کیا جا سکتا۔

یہ عدلیہ کے خلاف نہیں۔
یہ ججز کے خلاف نہیں۔
یہ ٹیکس دہندہ کے حق میں ہے۔

کیونکہ ایک مضبوط ریاست میں انصاف صرف اعلیٰ منصب پر فائز شخص کا استحقاق نہیں ہوتا۔

*انصاف اس عام شہری کا بھی آئینی حق ہے جو اس پورے نظام کی قیمت اپنے ٹیکس سے ادا کرتا ہے۔*

اپنا تبصرہ بھیجیں