لاہور ریڈ لائن پر دو ماؤں کی لاشیں پنجاب پولیس کا خونی کھیل

*لاہور میں پولیس سٹیٹ کا خونی راج! – “ریڈ لائن” پر دو غریب ماؤں کی لاشیں، انصاف کا جنازہ!*

*خصوصی تحقیقی رپورٹ*

*تحریر: رانا تصدق حسین*

*لاہور:* ٹاؤن شپ اور لٹن روڈ تھانے کی حدود میں انسانیت کو لرزا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے جس نے وردی کے تقدس پر سیاہ دھبہ لگا دیا ہے۔

لاہور پولیس کی حراست میں دو نوجوان خواتین پراسرار حالات میں جاں بحق ہو گئیں۔ جاں بحق ہونے والیوں کی شناخت 18 سالہ انمول بی بی اور 20 سالہ آمنہ کے نام سے ہوئی ہے۔ دونوں آپس میں نند اور بھاوج تھیں۔

*مجرم نہیں، مزدور مائیں تھیں*

یہ دونوں کسی جرائم پیشہ گروہ کا حصہ نہیں تھیں۔

*دونوں انتہائی غربت کی زندگی گزار رہی تھیں، چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کی مائیں تھیں اور بازاروں میں پنسلیں بیچ کر اپنے خاندان کا پیٹ پالتی تھیں۔*

ان کی دنیا ان کے بچوں تک محدود تھی جو اب ہمیشہ کے لیے یتیم ہو گئے۔

خوف کی وہ رات – تھانے سے سیدھا مردہ خانے تک

اہل خانہ کے مطابق دونوں خواتین شام کو گھر واپس نہ آئیں تو گھر میں تشویش پھیل گئی۔

رات بھر اہل خانہ نے لاہور کی گلیوں اور بازاروں میں انہیں تلاش کیا۔

رات گئے لاہور پولیس کی جانب سے فون آیا کہ تمہاری بچیاں ہمارے پاس تھانے میں ہیں، آ کر لے جاؤ۔

خاندان ابھی تھانے کے لیے نکلا ہی تھا کہ دوسری کال نے قیامت ڈھا دی۔

کہا گیا کہ اب تھانے نہیں، سیدھا جناح ہسپتال پہنچو، تمہاری بچیاں فوت ہو چکی ہیں۔

زندہ سلامت تھانے لائی گئی خواتین چند منٹوں میں کیسے مر گئیں؟

اس سوال کا جواب پولیس کے پاس نہیں ہے۔

*چھ لاکھ کی چوری کا جھوٹا بیانیہ بے نقاب*

پولیس نے موقف اختیار کیا کہ دونوں خواتین کو چھ لاکھ روپے مالیت کی سونے کی چین چوری کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔

مگر یہیں پر پولیس کا جھوٹ پکڑا جاتا ہے۔ جس چوری کی ایف آئی آر کا حوالہ دیا جا رہا ہے، اس ایف آئی آر میں انمول بی بی اور آمنہ کا نام سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔

اگر ایف آئی آر میں نام نہیں تھا تو کس قانون کے تحت، کس کے حکم پر ان دو غریب ماؤں کو اٹھایا گیا؟ بغیر کسی خاتون اہلکار کے ان کو حراست میں رکھنا اغوا کے زمرے میں آتا ہے۔

*تشدد کے نشانات اور لاشوں پر پہرہ*

لواحقین نے انتہائی سنگین الزام عائد کیا ہے کہ جناح ہسپتال میں دونوں لاشوں پر شدید تشدد کے واضح نشانات موجود تھے۔ یہ نشانات پولیس گردی کا کھلا ثبوت ہیں۔

ظلم کی انتہا یہ ہے کہ ہسپتال سے لے کر تدفین تک پولیس نے لاشوں کو اپنی تحویل میں رکھا۔ سوگوار خاندان کو جنازوں کے قریب جانے اور آخری دیدار تک کی اجازت نہیں دی گئی۔ آخر پولیس کیا چھپانا چاہتی تھی؟ کیا ثبوت مٹائے جا رہے تھے؟

*خواتین میری ریڈ لائن ہیں – یہ ریڈ لائن کہاں گئی؟*

یہ واقعہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ کے دعووں پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ وہ بارہا کہہ چکی ہیں کہ خواتین میری ریڈ لائن ہیں۔

آج ایک خاتون وزیراعلیٰ کے ہوتے ہوئے پنجاب میں غریب کی بیٹی کی چادر، چار دیواری اور جان محفوظ نہیں ہے۔ یہ کیسی ریڈ لائن ہے جہاں ہر دوسرے دن تھانے سے کسی غریب کی لاش نکلتی ہے اور پھر اسے طبیعت خرابی کا نام دے دیا جاتا ہے؟

*پولیس سٹیٹ نامنظور – عوام جاگ چکا ہے*

یہ اب صرف انمول اور آمنہ کا معاملہ نہیں رہا۔ یہ اس پولیس سٹیٹ کلچر کے خلاف عوامی بغاوت ہے جسے عوام پاکستان میں تمام برائیوں کی جڑ سمجھتے ہیں۔

*غریب ہونا اب جرم بن چکا ہے جہاں شک کی بنیاد پر اٹھا کر جان لے لی جاتی ہے۔*

پورے ملک سے ایک ہی آواز اٹھ رہی ہے کہ اس واقعے کی اعلیٰ عدالتی تحقیقات کرائی جائے، پوسٹ مارٹم غیر جانبدار میڈیکل بورڈ سے کرایا جائے اور ملوث تمام پولیس اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر کے انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں