دو بڑی اتحادی جماعتوں میں لفظی گولہ باری
*پنجاب کی دِس انفارمیشن منسٹر بے نقاب:*
*اپنی ناکامی چھپانے کیلئے ایوانِ صدر پر حملہ، سینیٹر پلوشہ خان نے عظمیٰ بخاری کو “چھرے والی بندوق” قرار دے دیا*
*نواز، شہباز مہروں کے ذریعے صدر زرداری کو نشانہ بنا رہے ہیں، پیپلز پارٹی منہ توڑ جواب دینا جانتی ہے*
*اسلام آباد (رانا تصدق حسین سے)*
دو بڑی اتحادی جماعتوں میں لفظی جنگ کھل کر سامنے آگئی۔ پیپلز پارٹی کی تیز مزاج سینیٹر پلوشہ خان نے پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری کو آڑے ہاتھوں لے لیا، جنہیں اپوزیشن اب “پنجاب کی دِس انفارمیشن منسٹر” کے نام سے پکار رہی ہے۔
سینیٹر پلوشہ خان نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ جس وزیر نے محکمہ اطلاعات کو جھوٹ اور گمراہی پھیلانے والے سیل میں بدل دیا ہے، وہی اب صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے استعفے کا مطالبہ کرنے کیلئے “چھرے والی بندوق” بنی ہوئی ہے۔
“یہ وہی بڑی زبان والی وزیر ہیں جو روز ٹی وی سکرینوں پر مخالفین کو گالیاں دیتی ہیں، لیکن زمین پر ان کی کارکردگی صفر ہے” سینیٹر پلوشہ نے للکارا۔
انہوں نے عظمیٰ بخاری کی کارکردگی کا کچا چٹھا یوں کھولا:
صفر کارکردگی، صرف پریس کانفرنسیں: بطور وزیرِ اطلاعات ان کا واحد کارنامہ پی ٹی آئی کے خلاف روزانہ زہر اگلتی پریس کانفرنسیں ہیں۔ پنجاب کے اصل مسائل، کھلے گٹر، سڑکوں پر موت بانٹتے مین ہول، صحافیوں کا تحفظ اور تباہ حال گورننس ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھاٹی گیٹ میں ماں بیٹی کی ہولناک موت کے بعد عوام کو مجبوراً ان کے خلاف لاہور ہائیکورٹ جانا پڑا۔
دِس انفارمیشن منسٹر کا اصل چہرہ: وزیرِ اعلیٰ کی پریس کانفرنس سے پہلے صحافیوں کو نوکریوں سے نکلوا دینے کی دھمکیاں دیتی ہوئی ان کی ویڈیو پوری قوم دیکھ چکی ہے، اور پھر اسی زبان سے صحافت کے احترام کے دعوے بھی کرتی ہیں۔ یہی دوغلا پن ہے جس نے انہیں دِس انفارمیشن منسٹر کا لقب دلوایا ہے۔
*بڑا منہ، چھوٹا کام: ان کی وزارت کی پہچان صرف دو چیزیں ہیں، ہوائی دعوے اور تنقید کرنے والوں کی زبان بندی۔ کبھی اپوزیشن لیڈر پر 80 کروڑ کا ہتک عزت کا دعویٰ، تو کبھی این سی سی آئی اے کے ذریعے اینکرز اور یوٹیوبرز کو نوٹس بھیج کر ڈرانا دھمکانا۔*
*سینیٹر پلوشہ خان نے چیلنج کرتے ہوئے کہا، “اگر ن لیگ نے صدر زرداری پر حملہ کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو نواز شریف اور شہباز شریف میں اتنی ہمت ہونی چاہیے کہ خود سامنے آئیں۔ ایک بڑبولے مہرے کو آگے کر کے وفاق پر وار کیوں کروا رہے ہو؟”*
*”آصف علی زرداری آئینی طور پر منتخب صدر اور وفاق کی علامت ہیں۔ پیپلز پارٹی اینٹ کا جواب پتھر سے دینا جانتی ہے۔”*
*انہوں نے واضح کیا کہ صدر کے استعفے کی پوری جھوٹی اور بے بنیاد مہم کو خود وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی جھوٹا اور من گھڑت قرار دے کر دفن کر چکے ہیں*۔