بچہ کتے کی اوازیں نکالنے لگا سندھ حکومت کے لیے شرمناک
خیر پور (کرائم رپورٹر )درخت سے بندھا ہوا یہ بچہ ، جو کتے کی طرح آوازیں نکال رہا ہے ، تکلیف سے تڑپ رہا ہے، کیا یہ بچہ دیکھ کر بھی ہمیں اپنے معاشرے پہ شرم نہیں آئے گی ؟ انسانی تذلیل کا، انسانی تکلیف کا اس سے زیادہ دکھی منظر کیا ہو گا۔
یہ سندھ میں خیرپور کے پاس کا رہنے والا ہے۔ اسے کتے نے کاٹ لیا ہے اور یہ بچہ ریبیز کا شکار ہو گیا ہے۔ سرکاری ہسپتال میں ریبیز کی ویکسین ہی دستیاب نہیں۔ غربت ایسی ہے کہ اپنی جیب سے خریدنا ممکن ہی نہیں۔ اب بچہ تڑپ رہا ہے، کسی کے قابو میں نہیں آ رہا۔ حکومت اپنی جیبیں بھرنے، دوسرے ملکوں کے دورے کرنے، ایٹمی طاقت بن کر دنیا کی صلح صفائیاں کرنے میں اتنی مصروف ہے کہ اسے کیڑے مکوڑوں کی طرح مرتے ان عام انسانوں کی پرواہ ہی نہیں ہے۔
وہ اس کے لیے کسی قسم کی ادویات میسر کرنے سے قاصر ہیں۔ ان کے اپنے منرل واٹر کے کین ختم ہوں تو انھیں نظر اٹھانے کی فرصت ملے نا۔ اس لیے سرکاری ہسپتالوں میں ریبیز کی ویکسین مہیا نہیں کی گئی اور اس بچے کو کسی جانور کی طرح درخت سے باندھ کر مٹی پہ تڑپنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔کہ تڑپتا رہے، تڑپتا رہے اور پھر تڑپتے تڑپتے اپنی جان گنوا دے۔
آج کے دور میں کسی بھی معاشرے میں ایسی انسانی تذلیل کی مثال ملنا مشکل ہے۔ بات سندھ پنجاب یا بلوچستان کی نہیں ہے، بات عام انسان کی ہے۔ ہمارے ہاں عام انسان اتنی ہی اوقات رکھتا ہے کہ اس کے تڑپنے سے کسی کو فرق نہیں پڑتا ، اس کے مرنے سے کسی کے کان پہ جوں نہیں رینگتی۔ بنیادی انسانی حقوق کا تو تصور ہی نہیں ہے۔
یہ سارے بےغیرت حکمران آپس میں ملے ہوئے ہیں، ایک دوسرے کے پردہ دار ہیں، اپنی جیبیں بھرنے والے ہیں، ان کی گردنوں پہ لاکھوں انسانی جانوں کا خون ہے، ان میں سے کوئی بھی انسان کہلانے کے قابل نہیں۔ یہاں روز ریبیز سے تڑپ تڑپ کر لوگ مرتے ہیں، جرائم کا شکار ہو کر مرتے ہیں، ان حکمرانوں کے ہاتھوں لٹتے ہیں لیکن ان کو بس پیسے اکٹھے کرنے ہیں۔
ہر چیز پہ ٹیکس لیتے ہیں، ہر چیز کے پیسے لیتے ہیں اور عام انسانی حقوق بھی نہیں دیتے۔ صحت کی بنیادی چیزوں سے بھی محروم رکھتے ہیں، تعلیم دینا ان کے مقاصد میں ہی نہیں۔ یہ مٹی پہ تڑپتا بچہ ان سب کی ذلالت کی دلیل ہے۔
آپ اس بچے کو تڑپتا دیکھیے ، محسوس کیجیے کہ اس پہ کیا گزر رہی ہو گی، اس کے والدین پہ کیا گزر رہی ہو گی جو اس کو اپنے سامنے مٹی پہ تڑپتا ہوا دیکھ رہے ہیں، جو اسے باندھ کر آہستہ آہستہ مرتا دیکھ رہے ہیں اور اس کے بعد اگر آپ کو سکون سے نیند آ جائے تو بتائیے گا۔
رباااا ، کیوں ان ظالموں کو لگام نہیں دے رہا ، ہماری بس ہو گئی ہے ، ہم اور تکلیف ، اور تذلیل، اور محرومیاں نہیں دیکھ سکتے۔
درخت سے بندھا ہوا یہ بچہ ، جو کتے کی طرح آوازیں نکال رہا ہے ، تکلیف سے تڑپ رہا ہے، کیا یہ بچہ دیکھ کر بھی ہمیں اپنے معاشرے پہ شرم نہیں آئے گی ؟ انسانی تذلیل کا، انسانی تکلیف کا اس سے زیادہ دکھی منظر کیا ہو گا۔