پاکستانی ہر بچے پر 333,041روپے کا قرض ۔عظیم خیانت

*عظیم خیانت:*

*17.573ٹریلین روپے کا بجٹ۔ 47.فیصد سود کےلئے ۔ہر بچے پر 333,041روپے واجب الادا ہیں ۔*
*2.26ملین کا انصاف زیر التواء خوشی کی قیمت ختم جوابدہی بند*

*تحریر : رانا تصدق حسین*

*اسلام آباد – یہ بجٹ نہیں، ایک گروی نامہ ہے۔*

ایک ایسی ریاست کا تحریری اعترافِ جرم جس نے اپنا مستقبل 80.5 ٹریلین روپے کے عوض گروی رکھ دیا ہے۔ 10 جون 2025 کو پیش کیا گیا 17.573 ٹریلین روپے کا وفاقی بجٹ 2025-26 بظاہر پچھلے سال سے 6.9 فیصد کم ہے، مگر اصل واردات اس کے اندر ہے۔
*اسٹیشن 1:*
*آپ کا پیسہ کہاں جلا؟*

*بجٹ ان بریف کی سرکاری دستاویز چیخ چیخ کر بتا رہی ہے کہ ریاست کس کی ہے اور عوام کون ہیں:*

قرضوں پر سود 8.207 ٹریلین روپے یعنی پورے بجٹ کا **46.7 فیصد**، دفاع 2.550 ٹریلین، گرانٹس 1.928 ٹریلین، سبسڈیز 1.186 ٹریلین، پنشن 1.055 ٹریلین، حکومت چلانے کا خرچہ 971 ارب، اور عوام کی ترقی کے لیے؟ صرف 1.000 ٹریلین یعنی 5.7 فیصد۔

*صرف سود اور دفاع ملا کر 10.757 ٹریلین بنتا ہے، یعنی پورے ملک کا 61.2 فیصد بجٹ۔ مالی سال 25 کے پہلے 9 ماہ میں ہی 6.44 ٹریلین روپے سود میں جل چکے ہیں۔*
*اسٹیشن 2:*
*ہر بچہ مقروض پیدا ہو رہا ہے*

اندرونی سود 7.197 ٹریلین، بیرونی 1.009 ٹریلین۔ 10 سال میں قرضہ چار گنا، مارچ 2024 تک 76.01 ٹریلین اور جون 2025 تک 80.5 ٹریلین۔ قرضہ جی ڈی پی کا 66.27 فیصد، یعنی FRDLA قانون بھی پامال۔

*آج پاکستان میں پیدا ہونے والا ہر بچہ 3 لاکھ 33 ہزار 41 روپے کا مقروض ہے۔ گزشتہ سال یہ 2 لاکھ 94 ہزار تھا۔ کل بیرونی قرضہ 138 ارب ڈالر، جس میں سے 92 ارب ڈالر سرکاری ہے۔*

*صرف چین کا 19.644 ارب ڈالر دو طرفہ اور 5.611 ارب ڈالر کمرشل ملا کر 25.2 ارب ڈالر بنتا ہے۔ وائرل سوال کہ “28.1 ارب ڈالر کے چینی قرضے پر ائیرپورٹس، بندرگاہیں، ریکوڈک گروی ہیں؟” سرکاری طور پر کوئی دستاویز نہیں، لیکن پاکستان ہر سال 4 ارب ڈالر کے SAFE ڈپازٹس اور 2 ارب ڈالر کے سواپ رول اوور کراتا ہے۔*

*اسٹیشن 3:*
*عوام کا معاشی قتلِ عام*

PBS کے مطابق 24 جولائی 2025 کو ختم ہفتے میں ایک ہفتے میں گیس 29.85 فیصد، بجلی 21.46 فیصد مہنگی، ہفتہ وار مہنگائی 4.07 فیصد۔

*اسلام آباد، راولپنڈی، واہ اور پنجاب و خیبر پختونخوا بھر کا زمینی سروے:*

آٹا **130 روپے کلو، 10 کلو تھیلا 1300 روپے**، دودھ 250-260 روپے لیٹر جو یکم جولائی کو 200 تھا، دہی 280 روپے جو 220 تھی، بیف 1500 روپے جو 800 تھا، مٹن 2700 روپے جو 1800 تھا، چکن 620-650 روپے جو 350-400 تھا، گھی 550 روپے جو 450 تھا، تیل 600 روپے جو 460 تھا، چینی 175، دال ماش 600 جو 450 تھی، چائے کی پتی 2700 روپے جو 1700 تھی، روٹی 15 روپے آدھے وزن کے ساتھ، نان 35 جو 25 تھا، چائے کا کپ 100 روپے جو 70 تھا۔
*اسٹیشن 4:*
*خوشی بھی چھین لی گئی*
*کبھی مہمان نوازی سافٹ ڈرنک سے ہوتی تھی۔*

2019 میں 1.5 لیٹر پیپسی، 7 اپ، مرنڈا 80-90 روپے تھی، آج اسلام آباد، راولپنڈی، پنجاب اور کے پی بھر میں ریٹیل میں 200 روپے ہے۔ کمپنی لسٹ پر 191 لکھا ہے، دکاندار 200 لے رہا ہے، فریج کے بل کا کہہ کر۔

45 ڈگری میں بچے کی واحد خوشی آئس کریم تھی، کورنیٹو پاپ 90 روپے جو 40 کی تھی، کلاسیکو 120-140، کنگ کلفہ کپ 80، بالٹی 850 روپے۔ آج ایک بچے کی کورنیٹو = ایک کلو آٹا۔ ریاست نے تفریح بھی چھین لی۔
*اسٹیشن 5:*
*انصاف وینٹی لیٹر پر*

*25 کروڑ آبادی کے لیے 4000 جج، یعنی 62 ہزار 817 افراد کے لیے ایک جج۔ سپریم کورٹ کی تعداد 26 ویں ترمیم سے 17 سے 25 کی گئی، کام 16 کر رہے ہیں۔ زیر التوا مقدمات 56 ہزار 169۔*

*اصل تباہی نیچے ہے:*
*کل 2.26 ملین مقدمات زیر التوا، ہائی کورٹس میں 4 لاکھ سے زائد، ضلعی عدالتوں میں 18 لاکھ۔ راولپنڈی میں 74 عدالتوں میں 43 ہزار 351 مقدمات زیر التوا، ہر سول جج روزانہ 90 سے 110 مقدمات سنتا ہے۔*
*اسٹیشن 6:*
*نعروں کا جنازہ اور احتساب کو تالا*
*پیپلز پارٹی – روٹی کپڑا مکان، ن لیگ – ووٹ کو عزت دو، پی ٹی آئی – تبدیلی، نیا پاکستان، باقی سب کرین، لالٹین، ٹریکٹر۔ سارے نعرے زندہ ہیں، عوام مر چکی ہے۔*

*احتساب کو تالا لگا دیا گیا ہے۔ جن پر اربوں کے نیب ریفرنسز تھے وہی آج وفاقی وزیر، سیکرٹری، مشیر، چیئرمین بن کر 17.573 ٹریلین کے بجٹ کا فیصلہ کر رہے ہیں۔*

*حرفِ آخر:*
*ربڑ سٹیمپ ریاست*

پارلیمنٹ 47 فیصد سودی بجٹ پر ربڑ سٹیمپ ہے۔
عدلیہ خود کو تقسیم کرنے والی ترامیم پر ربڑ سٹیمپ ہے۔
الیکشن کمیشن فارم 47 پر ربڑ سٹیمپ ہے۔

*یہ سب “حکومت چلانے” کے نام پر 971 ارب روپے عوام کے خون سے کھا رہے ہیں، جو 200 روپے کی بوتل بھی نہیں خرید سکتا۔*

اپنا تبصرہ بھیجیں