این ایچ اے میں وسائل کا غلط استعمال
*این ایچ اے کو سیلاب زدہ گلگت میں ذاتی جاگیر کی طرح لوٹا جا رہا ہے*
*تحریر: رانا تصدق حسین*
*گلگت -* بابوسر میں فلیش فلڈ نے سیاحوں کی جان لے لی ہے، شاہراہ قراقرم بلاک ہے، نلتر اور غذر کا زمینی رابطہ منقطع ہو چکا ہے، جبکہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے انجینئرز وزیر اعظم کی کفایت شعاری مہم کے تحت گاڑیاں گراؤنڈ ہونے اور ایندھن میں کٹوتی کے باعث سڑکوں کی بحالی کے لیے دربدر ہیں۔
اس تباہی کے درمیان ایک قائم مقام سیکرٹری، جس کے پاس این ایچ اے کے معاملات میں مداخلت کا کوئی آپریشنل مینڈیٹ ہی نہیں، پورے پروٹوکول قافلے کے ساتھ گلگت لینڈ کر گیا ہے، انجینئرز کے لیے مختص سرکاری گاڑیوں میں گھوم رہا ہے اور این ایچ اے کی افرادی قوت کو پروٹوکول ڈیوٹی پر لگا رہا ہے۔
تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ وزارت چلانے والی جوڑی دیدہ دلیری سے این ایچ اے کی افرادی قوت اور وسائل کا غلط استعمال کر رہی ہے، جس میں اپنے نجی عملے کو ڈیپوٹیشن پر این ایچ اے میں پرکشش عہدوں پر لا کر مالی معاملات پر قبضہ کرنا بھی شامل ہے۔
باوثوق ذرائع اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ہر ایرہ غیرہ نتھو خیرہ، بشمول خود جناب قائم مقام سیکرٹری، فیلڈ انجینئرز کے لیے مختص این ایچ اے کی متعدد سرکاری گاڑیوں کا بے دریغ غلط استعمال کر رہا ہے۔
گلگت میں زمینی حقائق یہ ہیں کہ انجینئرز نقل و حرکت سے محروم ہیں جبکہ دورے پر آیا ہوا وفد این ایچ اے کے ایندھن پر جدید ترین ہائی لکس اور لینڈ کروزرز میں گھومتا نظر آ رہا ہے، جس کے ڈرائیورز اور سیکورٹی عملے کو بھی پروٹوکول کے لیے ہٹا لیا گیا ہے۔
*یہ دورہ خود کئی لحاظ سے غیر قانونی ہے۔*
این ایچ اے کو چلانے والے نئے قانون کے تحت اتھارٹی ایک خودمختار اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائز ہے۔
اس کا آپریشن، مینجمنٹ اور مینٹیننس اس کے ایگزیکٹو بورڈ اور چیف ایگزیکٹو آفیسر کا خصوصی دائرہ اختیار ہے۔
*وزارت کا کردار صرف پالیسی نگرانی تک محدود ہے۔*
نیشنل ہائی وے کونسل جو این ایچ اے کو چلاتی ہے، اس کا سربراہ اب وزیر نہیں بلکہ وفاقی حکومت کی جانب سے تعینات ایک آزاد ممبر بطور چیئرمین ہے۔
وہ قانونی چیئرمین اس ساری تصویر میں مکمل طور پر غائب اور ربڑ اسٹیمپ بنا ہوا ہے، جبکہ وزیر اور قائم مقام سیکرٹری سی ای او کو بائی پاس کر کے پورا شو چلا رہے ہیں۔
ایس او ای ایکٹ کے بعد ایسٹا کوڈ کو بھی پامال کیا گیا ہے۔
ایسٹا کوڈ واضح طور پر کہتا ہے کہ سول سرونٹس ایکٹ کے تحت لوک آفٹر چارج کا کوئی تصور نہیں اور اضافی چارج وزیر اعظم کی منظوری کے بغیر چند ماہ سے زیادہ نہیں رکھا جا سکتا۔
لیکن اس کیس میں ایک مبینہ طور پر کرپٹ افسر گزشتہ سال نومبر سے تقریباً دو سال سے سیکرٹری مواصلات کا لوک آفٹر چارج بغیر کسی قانونی توسیع کے سنبھالے ہوئے ہے، حالانکہ اسے دیانت اور مالی و اخلاقی خدشات پر دو بار ترقی کے لیے سپرسیڈ کیا جا چکا ہے اور اسے متعدد نیب انکوائریوں کا سامنا ہے۔
یہ اکیلا عمل ہی اس کے پورے کام کو مشکوک بناتا ہے اور اس کے دستخط شدہ تمام منظوریوں کو کالعدم قرار دیے جانے کے قابل بناتا ہے۔
وفاقی وزیر مواصلات کو ابھی بھی آمدن سے زائد اثاثوں کے ایک ناقابل اختتام ریفرنس کا سامنا ہے جس پر انہیں نیب نے گرفتار کیا تھا، اس کے ساتھ آف شور کمپنیوں اور ہاؤسنگ سوسائٹی کے معاملات اور پاناما پیپرز کی انکوائریاں بھی شامل ہیں۔
خود قائم مقام سیکرٹری کو اسلام آباد پشاور موٹروے پر ایک سروس ایریا کے بے ضابطہ آپریشن اور فاٹا ڈائریکٹوریٹ میں بطور فنانس ہیڈ تعیناتی کے دوران اربوں روپے کے سولر پراجیکٹ میں مبینہ خوردبرد کی نیب انکوائریوں کا سامنا ہے۔
اسے کرپشن کے الزامات پر ممبر ایڈمنسٹریشن این ایچ اے کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا اور اس کا نام نیب ایگزیکٹو بورڈ نے انکوائری کے لیے منظور کیا تھا۔
اسے دیانت کے خدشات پر ٹاپ گریڈ میں ترقی کے لیے دو بار سپرسیڈ کیا گیا اور ایک تازہ شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ روڈ مینٹیننس اکاؤنٹ سے اربوں روپے ایمرجنسی ورکس کی آڑ میں مختلف ریجنز میں مبینہ فرنٹ مینوں کے ذریعے پروکیورمنٹ رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جاری کیے گئے، جس کے بارے میں این ایچ اے کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مکمل طور پر بے بنیاد نہیں ہے۔
اگر ایک قائم مقام سیکرٹری جس کا اپنا چارج ایسٹا کوڈ کے تحت غیر قانونی ہے، غیر ضروری دوروں پر کفایت شعاری کی پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیلاب زدہ گلگت پہنچ سکتا ہے، انجینئرز کی گاڑیوں اور افرادی قوت کا غلط استعمال کر سکتا ہے اور مینٹیننس کی پوری سلطنت چلا سکتا ہے جبکہ قانونی چیئرمین غائب رہے اور سی ای او سائیڈ لائن رہے، تو پھر ایس او ای کی خودمختاری، کفایت شعاری اور بین الاقوامی ڈونرز سے کیے گئے وعدوں کا کیا بچتا ہے۔ گلگت کو پروٹوکول کے دوروں کی ضرورت نہیں۔
*گلگت کو انجینئرز کے ذریعے بحالی کی ضرورت ہے۔*
*این ایچ اے کو ذاتی جاگیر کی طرح لوٹا جا رہا ہے اور وزیر اعظم اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو یہاں گلگت میں نوٹس لینا چاہیے، اسلام آباد میں نہیں۔*