پمز ہسپتال میں جعلی میڈیکل رپورٹ بنانے کا دھندہ بے نقاب

پمز ہسپتال میں خونی کھیل: رشوت کے عوض زندہ جسموں پر چیرے لگا کرجعلی ایم ایل سی بنانے والا گروہ بے نقاب، لیڈی ڈاکٹر سمیت 3 گرفتار

اسلام آباد (سردار ظہیر سے)فیڈرل
انوسٹیگیشن ایجنسی (FIA) اینٹی کرپشن سرکل نے پمز ہسپتال اسلام آباد میں ایک انتہائی ہولناک اور سنسنی خیز نیٹ ورک کا پردہ چاک کر دیا۔ مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد عدالتی مجسٹریٹ کی زیرِ نگرانی پمز ہسپتال کے میڈیکو لیگل آفس میں ایک کامیاب “ٹریپ ریڈ” کی گئی، جہاں ایف آئی اے کے اہلکار کو فرضی مریض بنا کر بھیجا گیا۔ ملزمان کو جعلی میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹ (MLC) کی تیاری کے لیے 50 ہزار روپے کی نشان زدہ (رنگی ہوئی) کرنسی وصول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا۔زندہ انسانوں پر چیرے لگانے کا ہولناک انکشافدورانِ تفتیش یہ لرزہ خیز انکشاف سامنے آیا ہے کہ یہ گروہ بھاری رشوت کے عوض ایسے لوگوں کے جسموں پر خود ساختہ چیرے لگا کر ٹانکے لگا دیتا تھا جنہیں کوئی زخم ہی نہیں آیا ہوتا تھا۔ ان جعلی میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹس کو بنیاد بنا کر اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں شہریوں کے خلاف اقدامِ قتل جیسے جھوٹے اور سنگین مقدمات درج کروائے جاتے تھے۔لیڈی ڈاکٹر اور عملہ دھر لیا گیاکارروائی کے دوران ایل ڈی سی محمد عثمان کو موقع سے رقم لیتے ہوئے دبوچا گیا، جس کی نشاندہی پر پمز ہسپتال کی خاتون میڈیکو لیگل آفیسر (MLO) اور وارڈ بوائے رمیز اختر کو بھی فوری طور پر حراست میں لے لیا گیا۔ موقع سے پرانا جعلی ریکارڈ، ملزمان کے موبائل فونز، مجرمانہ چیٹس اور لاکھوں روپے کی مشکوک بینکنگ ٹرانزیکشنز کا ڈیٹا قبضے میں لے لیا گیا ہے۔مقدمہ درج، ریمانڈ منظورملزمان کے خلاف ایف آئی آر نمبر 38/2026 کے تحت دھوکہ دہی، جعل سازی اور انسدادِ بدعنوانی ایکٹ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ عدالت نے دونوں مرد ملزمان کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے تفتیش کاروں کے حوالے کر دیا ہے جبکہ خاتون ایم ایل او کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔ واقعے کی مزید سنسنی خیز تفتیش جاری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں