سیاست دانوں کے نیلے پاسپورٹ مراعات کا سکینڈل بے نقاب

*نیلے پاسپورٹ مراعات کا سکینڈل بے نقاب، سرکاری پاسپورٹ پر بیرون ملک سیاسی پناہ کے ثبوتوں کے باوجود سابق اراکین پارلیمنٹ کے خاندانوں کو تاحیات نیلے پاسپورٹ دینے کا بل، وزارت داخلہ کا اعتراف 50 ہزار نیلے پاسپورٹ پاکستان کے ویزہ فری معاہدوں میں رکاوٹ*

*تحریر: رانا تصدق حسین*

*اسلام آباد –* اگر ممبران پارلیمنٹ تنخواہوں اور مراعات (ترمیمی) بل 2026 قانون بن جاتا ہے تو یہ قانون سازی سابق اراکین پارلیمنٹ کو ریٹائرڈ گریڈ 22 کے سرکاری افسران کے برابر لا کھڑا کرے گی، جن کے زیر کفالت بچے پہلے ہی سرکاری نیلے پاسپورٹ کے اسی حق سے مستفید ہو رہے ہیں۔

یہ بل جس نے ایک بڑے تنازعے کو جنم دیا ہے، سابق اراکین پارلیمنٹ اور ان کے زیر کفالت بچوں کو تاحیات سرکاری نیلے پاسپورٹ دینے کا خواہاں ہے۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب حکومت خود نیلے پاسپورٹس کے بے دریغ غلط استعمال کا اعتراف کر چکی ہے، جس میں سب سے سنگین خلاف ورزی یہ ہے کہ نیلے پاسپورٹ رکھنے والے بااثر افراد کے عزیز و اقارب اور اہل و عیال نے پاکستان کے سرکاری نیلے پاسپورٹ پر بیرون ملک سیاسی پناہ کی درخواستیں دی ہیں، جس سے بین الاقوامی سطح پر ملک کو شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے رواں ماہ کے شروع میں جاری کردہ ایک سرکاری پریس بیان میں کہا گیا تھا کہ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے “بل کی منظوری پر اتفاق بھی کیا تھا”۔

تاہم، بعد میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے 10 جولائی کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی کارروائی کے دوران اس بل کی مخالفت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کمیٹی کو آگاہ کیا تھا کہ اس معاملے پر پہلے وفاقی کابینہ اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت ہونی چاہیے۔ “میرے تحفظات کے باوجود، انہوں نے بل منظور کرنے کی کارروائی جاری رکھی،” انہوں نے کہا۔

اب ڈیمیج کنٹرول کے طور پر انہوں نے میڈیا کو بتایا ہے کہ آئندہ نیلے پاسپورٹ کی ہر درخواست وزارت داخلہ کی منظوری کے بعد ہی پراسیس کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ “ہر کیس سیکرٹری داخلہ کو بھجوایا جائے گا، اور اگر ضرورت پڑی تو وزیر داخلہ کو بھی”۔

انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ پاکستان میں “نیلے پاسپورٹ ہولڈرز کی ایک بڑی تعداد” موجود ہے، جو ان کے بقول دوسرے ممالک کے ساتھ ویزہ کے خاتمے کے معاہدوں پر دستخط کرنے میں “ایک بڑی رکاوٹ” ہے۔

انہوں نے کہا کہ “ہماری توجہ زیادہ سے زیادہ ممالک کے ساتھ ویزہ فری انٹری کے معاہدے کرنے پر مرکوز ہے”۔

چوہدری کے مطابق، ملک میں جاری کیے گئے نیلے پاسپورٹس کی تعداد حالیہ عرصے میں تقریباً 70,000 سے کم کر کے 50,000 سے بھی کم کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “اب اس میں مزید 15 سے 20 فیصد کمی کی جائے گی”۔

اس انکشاف نے ایک اہم سوال کھڑا کر دیا ہے کہ جب حکومت خود نیلے پاسپورٹس کو خارجہ پالیسی میں رکاوٹ سمجھتی ہے اور سرکاری دستاویزات پر پناہ لینے کے فراڈ کا اعتراف کرتی ہے تو پھر پارلیمنٹ کے ذریعے مراعات یافتہ افراد کی فہرست میں کیوں توسیع کی جا رہی ہے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں