این ایچ اے میں بڑے پیمانے پر رد و بدل احتساب پر نئی بحث
*این ایچ اے میں بڑے پیمانے پر ردوبدل، احتساب پر نئی بحث چھڑ گئی:*
*سینئر افسران ہٹائے گئے، طویل عرصے سے زیر التواء اربوں روپے کی مبینہ کرپشن کے مقدمات دوبارہ توجہ کا مرکز!*
*انتظامی تبدیلیوں کے بعد پارک ویو منصوبوں، 105 ٹول پلازہ اسکینڈل، CAREC ٹرانچ-III اور اربوں روپے کے عوامی فنڈز کے مبینہ غلط استعمال کی تحقیقات منطقی انجام تک پہنچانے کے مطالبات میں شدت*
*رپورٹ: رانا تصدق حسین*
*اسلام آباد:* نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) نے آفس آرڈر نمبر 739 اور 742 کے ذریعے بڑے پیمانے پر انتظامی ردوبدل کرتے ہوئے متعدد سینئر انجینئرنگ افسران کو اہم انتظامی ذمہ داریوں سے ہٹا دیا ہے، جبکہ ان کے عہدوں کی ذمہ داریاں محدود تعداد میں دیگر افسران کو اضافی چارج کے طور پر سونپ دی گئی ہیں۔
آفس آرڈر نمبر 739 کے مطابق گریڈ 20 کے جنرل منیجر (انجینئرنگ) افتخار احمد ساجد، جو آپریشنل پروموشن (OPS) پر ممبر (سنٹرل زون) لاہور کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے اور موٹرویز M-3، M-4، M-5 اور M-5 ایکسٹینشن کی آپریشنل و مینٹیننس ذمہ داریاں بھی ان کے پاس تھیں، انہیں فوری طور پر این ایچ اے ہیڈکوارٹرز کے ایڈمنسٹریشن پول میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اسی طرح گریڈ 19 کے ڈائریکٹر (انجینئرنگ) مظفر عباس، جو جنرل منیجر (کنسٹرکشن) پنجاب ساؤتھ، ملتان (OPS) کے طور پر تعینات تھے، اور گریڈ 18 کے ڈپٹی ڈائریکٹر (انجینئرنگ) محمد فواد خان گورچانی، جو ڈائریکٹر (مینٹیننس) ڈی جی خان (OPS) کے ساتھ ساتھ لیہ۔تونسہ برج منصوبے کا اضافی چارج بھی سنبھالے ہوئے تھے، انہیں بھی اپنی موجودہ ذمہ داریوں سے فارغ کرکے ہیڈکوارٹرز رپورٹ کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
ادارے کے امور کی مسلسل انجام دہی کو یقینی بنانے کے لیے سامی اللہ چٹھہ کو اپنی موجودہ ذمہ داریوں کے ساتھ ممبر (سنٹرل زون) لاہور کا اضافی چارج دیا گیا ہے، جبکہ زبیر احمد بجکانی کو جنرل منیجر (کنسٹرکشن) پنجاب ساؤتھ کا اضافی چارج تفویض کیا گیا ہے۔ اسی طرح ساجد حسین کو، جو اس وقت پراجیکٹ ڈائریکٹر CAREC ٹرانچ-II ہیں، لیہ۔تونسہ برج منصوبے کی اضافی ذمہ داری بھی سونپ دی گئی ہے۔
انتظامی تبدیلیوں نے احتساب سے متعلق پرانے سوالات دوبارہ زندہ کر دیے
سینئر افسران کی اچانک تبدیلیوں کے بعد ایک مرتبہ پھر کئی ایسے اہم مقدمات اور اربوں روپے کے مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے الزامات توجہ کا مرکز بن گئے ہیں، جن کے بارے میں گورننس کے ماہرین اور ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ برسوں سے احتسابی اداروں کے پاس زیر التواء ہیں لیکن ان کا کوئی عوامی طور پر معلوم منطقی انجام سامنے نہیں آیا۔
ان میں سابق ممبر (سنٹرل زون) افتخار احمد ساجد سے متعلق وہ الزامات بھی شامل ہیں جن میں ناقدین کے مطابق این ایچ اے کے وسائل ایسے منصوبوں پر استعمال کیے گئے جن کا نہ قومی شاہراہی نظام سے کوئی واضح تعلق تھا اور نہ ہی روٹین مینٹیننس اکاؤنٹ (RMA) سے۔
ان الزامات میں شامل ہیں:
• سیلاب کے بعد این ایچ اے کے فنڈز سے دریائے راوی کے کنارے واقع پارک ویو لاہور کے قریب مبینہ تعمیراتی کام۔
• این ایچ اے کے قانونی دائرہ اختیار پر سوالات کے باوجود پارک ویو لاہور کے لیے مبینہ حفاظتی بند (River Protection Embankment) کی تعمیر۔
• این ایچ اے کے وسائل سے پارک ویو لاہور کے لیے دو مختلف مواقع پر جدید آرائشی اسٹریٹ لائٹس کی مبینہ خریداری۔
• عوامی فنڈز سے پارک ویو اسلام آباد تک رسائی سڑک (Access Road) کی مبینہ تعمیر۔
• وفاقی وزیر برائے مواصلات سے منسوب ایک نجی فارم ہاؤس کو این ایچ اے کے وسائل سے مبینہ طور پر فرنش کرنے کا الزام۔
• این ایچ اے سنٹرل زون لاہور آفس کے ساتھ ایک پرتعیش سب آفس و ریسٹ ہاؤس کی مبینہ تعمیر، جس کے بارے میں ناقدین کا دعویٰ ہے کہ وہ وفاقی وزیر برائے مواصلات اور اس وقت کے قائم مقام سیکریٹری مواصلات کے نجی استعمال کے لیے بنایا گیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ان تمام معاملات کی نشاندہی قومی احتساب بیورو (نیب) اور دیگر متعلقہ اداروں کے سامنے بھی کی گئی تھی۔
تاہم، اب تک کسی عدالت نے ان الزامات کے حوالے سے کسی فرد کو قصوروار قرار نہیں دیا اور نہ ہی کسی سزا کا کوئی عوامی طور پر اعلان سامنے آیا ہے۔
105 ٹول پلازہ اسکینڈل بھی منطقی انجام کا منتظر
انتظامی تبدیلیوں کے بعد مبینہ 105 ٹول پلازہ اسکینڈل بھی دوبارہ زیر بحث آ گیا ہے، جس میں سابق ممبر (فنانس) مظہر حسین شاہ اور سابق جنرل منیجر (ریونیو) تیمور حسن کے نام ناقدین کی جانب سے مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور ٹول ریونیو کے معاملات میں لیے جاتے رہے ہیں۔
یہ الزامات عائد کرنے والوں کے مطابق ان مبینہ بے ضابطگیوں کے نتیجے میں قومی خزانے کو بھاری مالی نقصان پہنچا، جس کے باعث جامع فرانزک آڈٹ، فوجداری تحقیقات اور قومی خزانے کی ریکوری ناگزیر ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ الزامات کی سنگینی کے باوجود اب تک اس معاملے کا کوئی واضح قانونی انجام سامنے نہیں آ سکا۔
احتسابی عمل پر اثرانداز ہونے کے الزامات
ناقدین نے مزید الزام عائد کیا ہے کہ سابق ممبر (فنانس) مظہر حسین شاہ کے خلاف تحقیقات سیاسی اثرورسوخ کے باعث منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ چونکہ ان کا وفاقی وزیر برائے اسٹیبلشمنٹ احد چیمہ سے قریبی خاندانی تعلق (برادر نسبتی) عوامی طور پر معروف ہے، اس لیے تحقیقات متاثر ہوئی ہیں۔
یہ الزامات عائد کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ احتسابی اداروں پر کسی بھی قسم کے بیرونی یا سیاسی اثرات کا تاثر قانون کی حکمرانی اور عوامی اعتماد کو نقصان پہنچاتا ہے۔
انہوں نے نیب اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام تحقیقات مکمل آزادی، شفافیت اور کسی بھی سیاسی، خاندانی یا ذاتی تعلق سے بالاتر ہو کر انجام دی جائیں۔
تاہم، کسی عدالت نے ان الزامات کی توثیق نہیں کی اور یہ تمام الزامات تاحال غیر ثابت شدہ ہیں۔
CAREC ٹرانچ-III بھی مسلسل سوالات کی زد میں
ناقدین نے CAREC ٹرانچ-III منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں، خریداری کے معاملات میں مبینہ خلاف ضابطہ اقدامات، مالی بدانتظامی اور لاگت میں غیر معمولی اضافے کی شفاف فرانزک جانچ کا بھی مطالبہ دہرایا ہے۔
گورننس کے ماہرین کے مطابق ان معاملات میں بھی تاحال کوئی عوامی طور پر معلوم عدالتی یا قانونی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
عوامی اعتماد صرف غیر جانبدار احتساب سے بحال ہو سکتا ہے
تازہ انتظامی تبدیلیوں کے بعد یہ مطالبات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں کہ احتساب کا عمل صرف تبادلوں تک محدود نہ رہے بلکہ تمام مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی شفاف، غیر جانبدار اور قانون کے مطابق مکمل تحقیقات کی جائیں۔
قانونی ماہرین اور گورننس سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ جہاں کہیں بھی عوامی فنڈز کے مبینہ غلط استعمال کے الزامات موجود ہوں، وہاں محض تبادلے یا عہدوں کی تبدیلی احتساب کا متبادل نہیں ہو سکتی۔
ان کے مطابق خواہ معاملہ پارک ویو منصوبوں کا ہو، 105 ٹول پلازہ اسکینڈل کا، CAREC ٹرانچ-III کا یا کسی اور مالی بے ضابطگی کا، ہر انکوائری کو قانون کے مطابق اس کے منطقی انجام تک پہنچایا جانا چاہیے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی، وزارت مواصلات اور پاکستان کے احتسابی نظام پر عوام کا اعتماد اسی صورت بحال ہو سکتا ہے جب احتساب بلاامتیاز، شفاف، غیر جانبدار اور ہر قسم کے سیاسی، انتظامی یا خاندانی اثرورسوخ سے بالاتر ہو۔
حالیہ پیش رفت کے بعد ایک مرتبہ پھر مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب)، وفاقی حکومت، وزارت مواصلات اور دیگر متعلقہ ادارے تمام زیر التواء تحقیقات جلد از جلد مکمل کریں، اپنی رپورٹیں عوام کے سامنے پیش کریں، ہر فرد کو قانون کے مطابق منصفانہ موقع فراہم کریں اور قومی خزانے کے تحفظ کے ساتھ ساتھ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائیں۔
وضاحت (Disclaimer): اس رپورٹ میں بیان کیے گئے تمام الزامات ناقدین اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے اٹھائے گئے الزامات ہیں۔ ان الزامات کو کسی عدالت نے ثابت نہیں کیا، نہ ہی متعلقہ افراد کے خلاف کسی عدالت سے جرم ثابت ہوا ہے۔ قانون کے مطابق تمام نامزد افراد اس وقت تک بے گناہ تصور کیے جائیں گے جب تک کسی مجاز عدالت کی جانب سے ان کے خلاف فیصلہ صادر نہ ہو۔