این ایچ اےکی تنظیم نو پر سنگین سوالات۔ اسلام اباد ٹوڈے کی رپورٹ

*کیا پاکستان کا سب سے اہم انفراسٹرکچر ادارہ اپنی قانونی خودمختاری کھو رہا ہے؟*

*سیاسی مداخلت، ڈیپوٹیشن کلچر، گورننس کے بحران اور قومی شاہراہوں کے مستقبل پر پارلیمانی نگرانی ناگزیر*

*رپورٹ: رانا تصدق حسین*

*اسلام آباد:* نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کی جانب سے مالیاتی خود کفالت، انتظامی اصلاحات اور ادارہ جاتی تنظیمِ نو کے وسیع منصوبے کا اعلان اپنی جگہ ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم اس کے ساتھ ایسے بنیادی سوالات بھی شدت سے سامنے آ رہے ہیں جن کا جواب دینا حکومت، پارلیمنٹ اور متعلقہ اداروں کے لیے ناگزیر ہوتا جا رہا ہے۔

ذرائع اور ادارے کے اندر موجود متعدد حلقوں کے مطابق، این ایچ اے کی پوری تنظیمِ نو کا عمل مبینہ طور پر ایسے ڈیپوٹیشن پر تعینات افسران کی نگرانی میں جاری ہے جو مستقل ملازمین کی ترقیاتی آسامیوں پر فائز ہیں۔

ناقدین کا مؤقف ہے کہ ایسی تعیناتیاں این ایچ اے سے متعلق اعلیٰ عدلیہ کے متعدد فیصلوں کی روح اور میرٹ کے اصولوں سے متصادم قرار دی جاتی رہی ہیں۔

ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی اور متعلقہ حکام کا مؤقف سامنے آنا ضروری ہے۔

سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ ترمیم شدہ قانونی فریم ورک اور SOEs نظام کے نفاذ کے بعد کیا این ایچ اے آج بھی اپنے ایکٹ کے تحت ایک خودمختار اتھارٹی ہے، جو اپنے ایگزیکٹو بورڈ اور نیشنل ہائی وے کونسل کے ذریعے چلائی جاتی ہے، یا پھر عملی طور پر اسے وزارتِ مواصلات کے ایک منسلک محکمے میں تبدیل کر دیا گیا ہے؟

یہ سوال صرف ملازمین ہی نہیں بلکہ کنسلٹنٹس، ٹھیکیداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان بھی زیر بحث ہے، کیونکہ آج تک ادارے کے اندر اس حوالے سے واضح تاثر پیدا نہیں ہو سکا۔

این ایچ اے پاکستان کا ایک عام سرکاری محکمہ نہیں بلکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC)، موٹرویز، قومی شاہراہوں، بین الصوبائی رابطہ سڑکوں اور اربوں روپے کے قومی اثاثوں کا محافظ ادارہ ہے۔

اس کی مضبوطی براہِ راست پاکستان کی معیشت، تجارت، قومی سلامتی اور عوامی مفاد سے جڑی ہوئی ہے۔

ادارے کے اندر یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ ترمیم شدہ قانون نافذ ہونے کے بعد این ایچ اے ایگزیکٹو بورڈ اور نیشنل ہائی وے کونسل نے اپنی قانونی خودمختاری کے تحت کتنے بنیادی فیصلے کیے، اور کتنے فیصلے مبینہ طور پر وزارتِ مواصلات کی ہدایات کے تحت کیے گئے۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب عوام اور پارلیمنٹ دونوں کے سامنے آنا چاہیے۔

بعض افسران یہ الزام بھی عائد کرتے ہیں کہ وزارتِ مواصلات کے ایک آفیشیٹنگ سیکرٹری نے مبینہ طور پر این ایچ اے کے اندر ایسے اختیارات استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں جو ادارے کے اپنے انتظامی اور ریونیو ڈھانچے کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔

ناقدین کے مطابق اس صورتحال نے Principal Accounting Officer (PAO) کے قانونی کردار اور ادارہ جاتی تقدس پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ الزامات ہیں جن کی جانچ متعلقہ فورمز پر ہونا چاہیے۔

دوسری جانب این ایچ اے کی تنظیمِ نو کے منصوبے کے تحت 440 خالی آسامیوں کے خاتمے اور آئندہ کارکردگی کی بنیاد پر کنٹریکٹ ملازمتوں کا اعلان کیا گیا ہے، لیکن متعدد ماہرین اور ملازمین کا مؤقف ہے کہ جس ادارے کے فیلڈ دفاتر، موٹروے آپریشنز، شاہراہوں کی دیکھ بھال، انجینئرنگ اور اثاثہ جات کے انتظام سے وابستہ شعبے پہلے ہی عملے کی شدید کمی کا شکار ہوں، وہاں مزید رائٹ سائزنگ کے بجائے پیشہ ور افرادی قوت میں اضافہ ہونا چاہیے۔

پاکستان میں ہزاروں تعلیم یافتہ انجینئرز اور نوجوان بے روزگاری کا شکار ہیں، جبکہ قومی شاہراہوں کی دیکھ بھال، مرمت، روڈ سیفٹی اور انفراسٹرکچر کے تحفظ کے لیے تربیت یافتہ افرادی قوت کی مسلسل ضرورت موجود ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر ادارہ جاتی خودمختاری کمزور ہوئی اور انتظامی فیصلے قانونی فورمز کے بجائے سیاسی اثرورسوخ کے تابع رہے تو اس کا براہِ راست اثر پاکستان کے قومی شاہراہی نظام، موٹرویز اور سی پیک کے انفراسٹرکچر پر پڑ سکتا ہے۔

مالیاتی اصلاحات، قرضوں کی تنظیمِ نو، بین الاقوامی کنسلٹنسی اور ادارہ جاتی جدیدیت جیسے اقدامات اپنی جگہ اہم ہو سکتے ہیں، لیکن ان کی کامیابی کا انحصار صرف ایک چیز پر ہے، اور وہ ہے شفاف طرزِ حکمرانی، قانون کی بالادستی، ادارہ جاتی خودمختاری، میرٹ پر مبنی انتظامیہ اور غیر ضروری سیاسی مداخلت سے مکمل آزادی۔

اسی تناظر میں مختلف حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ پارلیمنٹ این ایچ اے کی موجودہ انتظامی اور قانونی حیثیت کا جامع جائزہ لے اور یہ تعین کرے کہ آیا این ایچ اے اپنے قیام کے قانون کے مطابق ایک خودمختار اتھارٹی کے طور پر کام کر رہی ہے یا اس کی قانونی حیثیت عملی طور پر متاثر ہو چکی ہے۔

یہ بھی مطالبہ سامنے آ رہا ہے کہ وزارتِ مواصلات اور این ایچ اے سے ایسے تمام عناصر اور کرداروں کو قانون کے مطابق الگ کیا جائے جن پر سنگین بے ضابطگیوں یا بدعنوانی کے الزامات موجود ہوں، تاکہ قومی ادارے پر عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔ ایسے الزامات کا فیصلہ صرف متعلقہ تحقیقاتی اور عدالتی ادارے ہی کر سکتے ہیں۔

پاکستان کے موٹرویز، قومی شاہراہی نیٹ ورک، سی پیک اور اربوں روپے کے عوامی اثاثوں کی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ این ایچ اے کو وہی ادارہ جاتی خودمختاری واپس دی جائے جس کا تصور پارلیمنٹ نے اس کے قیام کے وقت کیا تھا۔

این ایچ اے کسی فرد، وزارت یا حکومت کی نہیں بلکہ پاکستان کے عوام اور ٹیکس دہندگان کی امانت ہے۔ اس ادارے کی مضبوطی ہی پاکستان کے انفراسٹرکچر، معاشی ترقی اور قومی مستقبل کی ضمانت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں