غیر ملکی خواتین سے زیادتی پولیس کی ابتدائی کاروائی پر سنگین سوالات
*لاہور میں دو غیر ملکی خواتین کے الزامات نے ہلچل مچا دی: سفارتی مداخلت کے بعد مقدمہ درج، ابتدائی پولیس کارروائی پر سنگین سوالات*
*رپورٹ: رانا تصدق حسین*
*لاہور:* دو غیر ملکی خواتین سے متعلق ایک معاملہ اس وقت قومی اور بین الاقوامی توجہ کا مرکز بن گیا جب مبینہ تشدد، غیر قانونی حراست اور پولیس کی ابتدائی کارروائی پر سوالات اٹھنے کے بعد سفارتی سطح پر مداخلت ہوئی اور پنجاب پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔
دستیاب معلومات اور مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق ہالینڈ سے تعلق رکھنے والی اسٹیفنی اڈیانا ایرون اور وینزویلا سے تعلق رکھنے والی آسٹر اسٹیفن بروچو 29 جون 2026 کو پاکستانی شہری محمد رضا ڈار کی دعوت پر پاکستان آئیں۔
اطلاعات کے مطابق انہیں لاہور کے علاقے ڈیفنس میں ایک رہائش گاہ پر ٹھہرایا گیا، تاہم بعد میں پیش آنے والے واقعات کے بارے میں مختلف مؤقف سامنے آئے ہیں۔
ابتدائی میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ دونوں خواتین کو اغوا کیا گیا، ان پر جنسی اور جسمانی تشدد کیا گیا اور رہائی کے بدلے 15 لاکھ امریکی ڈالر تاوان طلب کیا گیا۔
ان رپورٹس کے مطابق پنجاب پولیس نے اطلاع ملنے کے بعد مختصر وقت میں خواتین کو بازیاب کر لیا۔
دوسری جانب ایک مختلف مؤقف یہ ہے کہ خواتین اپنی مرضی سے پاکستان آئیں اور محمد رضا ڈار کے ساتھ رہائش پذیر رہیں، بعد ازاں فریقین کے درمیان مالی معاملات پر اختلاف پیدا ہوا جس نے تنازع کی صورت اختیار کر لی۔ اس مؤقف کے مطابق بعد میں جسمانی تشدد کا واقعہ پیش آیا۔
اس مؤقف کے مطابق خواتین نے ابتدائی طور پر متعلقہ تھانے سے رجوع کیا، تاہم الزام ہے کہ پولیس نے فوری مقدمہ درج نہیں کیا۔ یہ الزامات تاحال کسی عدالتی فیصلے سے ثابت نہیں ہوئے۔
بعد ازاں متاثرہ خاتون کے اہل خانہ نے ہالینڈ میں متعلقہ حکام سے رابطہ کیا، جس کے بعد ڈچ سفارتی حکام نے پاکستان میں متعلقہ اداروں سے معاملہ اٹھایا۔
سفارتی رابطوں کے بعد پنجاب پولیس کے اعلیٰ حکام نے کارروائی کی۔
بعد ازاں متعلقہ ایس ایچ او کو مبینہ غفلت پر معطل کر دیا گیا جبکہ تھانہ ڈیفنس سی لاہور میں ایف آئی آر نمبر 1560/26 محمد رضا ڈار اور تین دیگر افراد کے خلاف مختلف سنگین دفعات کے تحت درج کر لی گئی۔
رپورٹس کے مطابق دونوں خواتین نے مجاز عدالت کے روبرو اپنے بیانات بھی ریکارڈ کرا دیے ہیں۔
یہ مقدمہ اس وقت تفتیش کے مراحل میں ہے اور تمام الزامات کی حقیقت کا تعین عدالت میں شواہد کی بنیاد پر ہونا باقی ہے۔
اسی طرح واقعے کے حوالے سے سامنے آنے والے مختلف مؤقف بھی عدالتی جانچ کے بعد ہی حتمی طور پر واضح ہو سکیں گے۔
اس واقعے نے نہ صرف پولیس کے ابتدائی ردعمل پر سوالات اٹھائے ہیں بلکہ غیر ملکی شہریوں کے تحفظ، قانون کے یکساں نفاذ اور پاکستان کے بین الاقوامی تشخص کے حوالے سے بھی ایک اہم بحث کو جنم دیا ہے۔