موٹروے ایم 13۔5 8 سے 205 ارب مذاکراتی معاہدے تک ۔تہلکہ خیز رپورٹ
*موٹروے M-13 (کھاریاں۔راولپنڈی):*
*85 ارب روپے کے ٹینڈر سے 205 ارب روپے کے مذاکراتی معاہدے تک — منصوبہ بندی، شفافیت اور مالی ذمہ داری کا بڑا امتحان*
*رپورٹ: رانا تصدق حسین*
*اسلام آباد:* مجوزہ موٹروے M-13 (کھاریاں۔راولپنڈی) ایک مرتبہ پھر قومی توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جہاں منصوبے کی لاگت تقریباً 85 ارب روپے سے بڑھ کر 205 ارب روپے تک پہنچنے اور مسابقتی ٹینڈرنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) کے تحت ایوارڈ کیے جانے کی اطلاعات نے منصوبہ بندی، شفافیت اور مالی نظم و نسق پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
دستیاب معلومات کے مطابق 2022 میں یہ منصوبہ تقریباً 85 ارب روپے میں چار رویہ موٹروے کے طور پر ٹیکنو۔میٹراکون جوائنٹ وینچر کو دیا گیا تھا، جبکہ پلوں اور دیگر بڑے ڈھانچوں کو مستقبل میں چھ رویہ توسیع کے لیے پہلے ہی ڈیزائن کیا گیا تھا۔ اسی ٹینڈر میں ایف ڈبلیو او کی مالی بولی نمایاں طور پر زیادہ تھی اور وہ تین بولی دہندگان میں تیسرے نمبر پر تھی۔
اب اطلاعات ہیں کہ یہی منصوبہ تقریباً 205 ارب روپے کی لاگت سے چھ رویہ موٹروے کے طور پر مذاکرات کے ذریعے ایف ڈبلیو او کو PPP ماڈل کے تحت دینے کی تجویز زیر غور ہے، جس سے لاگت میں تقریباً 141 فیصد اضافہ ظاہر ہوتا ہے۔
یہ صورتحال کئی بنیادی سوالات کو جنم دیتی ہے۔
اگر تمام بڑے اسٹرکچرز پہلے ہی چھ رویہ تعمیرات کے مطابق ڈیزائن کیے گئے تھے تو منصوبے کو ابتدا ہی سے چھ رویہ کیوں نہیں بنایا گیا؟ کیا مستقبل کی ٹریفک، آبادی اور معاشی ضروریات کا درست اندازہ نہیں لگایا گیا؟ اگر اندازہ موجود تھا تو چند سال بعد اتنا بڑا مالی بوجھ عوام پر کیوں ڈالا جا رہا ہے؟
اسی طرح خریداری کے طریقہ کار پر بھی اہم سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اگر منصوبے کا دائرہ کار بنیادی طور پر تبدیل ہو گیا ہے تو کیا ازسرنو اوپن ٹینڈرنگ زیادہ شفاف اور مسابقتی راستہ نہیں ہونا چاہیے تھا؟ مذاکرات کے ذریعے معاہدہ کرنے کی قانونی، تکنیکی اور مالی بنیاد کیا ہے؟
اس منصوبے کی مالی ذمہ داری بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔
خواہ سرمایہ قرضوں سے آئے، PPP ماڈل سے یا کسی اور مالی بندوبست سے، بالآخر ادائیگی پاکستان کی معیشت اور عوام نے ہی کرنی ہے۔ اس لیے عوام کو یہ جاننے کا مکمل حق حاصل ہے کہ مالیاتی بندوبست کیا ہے، حکومتی ضمانتیں کیا ہیں، ٹول آمدنی کا تخمینہ کیا ہے اور مستقبل میں قومی خزانے پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔
پاکستان اس وقت بین الاقوامی مالیاتی اداروں خصوصاً آئی ایم ایف (IMF) کے ساتھ مالیاتی نظم و ضبط، شفافیت، مسابقتی خریداری اور بہتر طرز حکمرانی کے وعدوں پر عمل پیرا ہے۔ ایسے میں بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں میں اگر معمول کے مسابقتی طریقہ کار سے ہٹ کر فیصلے کیے جائیں تو ان پر عوامی اور ادارہ جاتی نگرانی فطری امر ہے۔
یہ معاملہ کسی ایک ادارے کے حق یا مخالفت کا نہیں بلکہ قومی مفاد کا ہے۔ بہت سے ماہرین کا مؤقف ہے کہ اگر ملکی صلاحیت رکھنے والے ادارے، خواہ ایف ڈبلیو او ہو یا کوئی اور اہل پاکستانی کمپنی، شفاف اور قانونی مسابقتی عمل کے ذریعے منصوبہ حاصل کریں تو اس سے ملکی وسائل، روزگار، انجینئرنگ مہارت اور سرمایہ ملک کے اندر ہی گردش کرے گا اور منافع کی بیرون ملک منتقلی بھی کم ہوگی۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں منصوبہ بندی مستقبل کو سامنے رکھ کر کی جا رہی ہے یا فیصلے بعد میں بدل کر قومی خزانے پر اضافی بوجھ ڈالا جا رہا ہے؟
موٹروے M-13 اب صرف ایک شاہراہ کا منصوبہ نہیں رہا بلکہ یہ منصوبہ بندی، شفافیت، مالی ذمہ داری، قانون کی حکمرانی اور ادارہ جاتی احتساب کا امتحان بن چکا ہے۔
عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ منصوبے کی لاگت میں اتنا بڑا اضافہ کس بنیاد پر کیا گیا؟ دائرہ کار کس نے تبدیل کیا؟ ازسرنو ٹینڈر کیوں نہیں کیا گیا؟ قرض یا مالی بندوبست کی شرائط کیا ہیں؟ اس کی واپسی کون کرے گا؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا ہر عوامی روپیہ بہترین ممکنہ انداز میں خرچ کیا جا رہا ہے؟
شفافیت ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ پائیدار ترقی، عوامی اعتماد اور اچھی حکمرانی کی بنیادہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔islamabad today