نیلم جہلم منصوبہ بھاری نقصان قومی سرمایہ کاری خطرے میں
*نیلم جہلم منصوبہ: 128 ارب 59 کروڑ روپے سے زائد کے نقصانات، قومی سرمایہ کاری خطرے میں*
*آڈیٹر جنرل کی تہلکہ خیز رپورٹ، سرنگوں کے انہدام، 307.89 ارب روپے کے مالی بحران، 267 ارب روپے کے غیر بیمہ شدہ اثاثے، 77.35 ارب روپے کی ریگولیٹری آمدن کے نقصان اور مسلسل بدانتظامی نے سنگین سوالات کھڑے کر دیے*
*کیا اربوں روپے کے قومی نقصان کا کوئی ذمہ دار بھی ہوگا؟*
*خصوصی تحقیقی رپورٹ*
*رپورٹ: رانا تصدق حسین*
*اسلام آباد:* پاکستان کے سب سے بڑے آبی و بجلی منصوبوں میں شمار ہونے والا 969 میگاواٹ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ آج قومی ترقی کی علامت کے بجائے انتظامی غفلت، ناقص منصوبہ بندی، مالی بے ضابطگیوں، کمزور نگرانی اور مسلسل انجینئرنگ ناکامیوں کی ایک افسوسناک مثال بن چکا ہے۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان (AGP) کی مالی سال 2024-25 کی تازہ ترین آڈٹ رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ منصوبے کو صرف ایک مالی سال میں 128 ارب 59 کروڑ روپے سے زائد کا مجموعی نقصان برداشت کرنا پڑا، جبکہ گزشتہ کئی برسوں سے جاری ساختی، انتظامی، مالی اور ریگولیٹری کمزوریاں قومی خزانے پر مسلسل بوجھ بنتی جا رہی ہیں۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق منصوبے کو 29 ارب 41 کروڑ روپے کا خالص مالی خسارہ ہوا، جبکہ ہیڈریس ٹنل (HRT) اور اس سے قبل ٹیل ریس ٹنل (TRT) کے انہدام کے باعث بجلی گھر کی مکمل بندش سے 99 ارب 18 کروڑ روپے کے کاروباری نقصانات ہوئے۔ یکم مئی 2024 سے پاور ہاؤس بند ہے اور قومی گرڈ سستی پن بجلی سے محروم ہے۔
رپورٹ کے مطابق منصوبہ اپنے منظور شدہ PC-I کے بنیادی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ بجلی گھر اپنی تکمیل کے بعد کسی ایک سال بھی 5,150 گیگاواٹ آور سالانہ پیداوار کا ہدف حاصل نہ کر سکا۔ جولائی 2022 میں ٹیل ریس ٹنل کے انہدام اور مئی 2024 میں ہیڈریس ٹنل کے گرنے نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔
آڈٹ رپورٹ کا ایک نہایت تشویشناک انکشاف یہ بھی ہے کہ نیپرا کی جانب سے منصوبے کا مستقل ریفرنس ٹیرف آج تک منظور نہ ہو سکا کیونکہ ایکنک (ECNEC) کی بارہا ہدایات کے باوجود منصوبے کی لاگت کی آزادانہ تصدیق مکمل نہ کی جا سکی۔ اس کے نتیجے میں منصوبہ کم عبوری ٹیرف پر چلتا رہا اور اندازاً 77 ارب 35 کروڑ روپے کی ممکنہ آمدنی سے محروم رہا۔
مالیاتی صورتحال انتہائی تشویشناک قرار دی گئی ہے۔ 30 جون 2025 تک منصوبے کی موجودہ واجبات، موجودہ اثاثوں سے 307 ارب 89 کروڑ روپے زیادہ ہو چکی تھیں۔ قرضوں کی عدم ادائیگی کے باعث طویل المدتی قرضوں کو موجودہ واجبات میں منتقل کرنا پڑا، جبکہ آپریٹنگ مارجن، قبل از ٹیکس اور بعد از ٹیکس منافع تمام منفی ہو چکے ہیں۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق 418 ارب 89 کروڑ روپے کی منظور شدہ لاگت کے مقابلے میں مالی سال 2024-25 تک صرف 180 ارب 17 کروڑ روپے ہی وصول کیے جا سکے، جس کے باعث منصوبہ اپنی مقررہ واپسی سرمایہ (Payback Period) حاصل کرنے میں بھی ناکام رہا۔
رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ تقریباً 267 ارب روپے مالیت کے قومی اثاثے مناسب انشورنس کے بغیر چھوڑ دیے گئے۔ انشورنس پالیسیوں کی بروقت تجدید نہیں کی گئی، اہم انفراسٹرکچر کا مکمل بیمہ موجود نہیں تھا اور ٹیل ریس ٹنل کے انہدام کے بعد انشورنس کلیم بھی حاصل نہیں کیا جا سکا۔
قابل وصول رقوم کی صورتحال بھی انتہائی خراب پائی گئی۔ تقریباً 69 فیصد واجبات 120 دن سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود وصول نہیں کیے جا سکے، جس سے مالی نظم و نسق پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔
آڈیٹر جنرل نے اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ ٹیل ریس اور ہیڈریس ٹنل کے مسلسل انہدام کی تحقیقات آج تک منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکیں۔ اتنے بڑے قومی نقصان کے باوجود ذمہ داری کا تعین نہ ہونا ریاستی نگرانی کے نظام پر سوالیہ نشان ہے۔
یہ معاملہ صرف نیلم جہلم تک محدود نہیں۔ آڈیٹر جنرل کی حالیہ رپورٹس میں دیامر بھاشا ڈیم سمیت دیگر بڑے آبی منصوبوں میں بھی منصوبہ بندی کی خامیوں، لاگت میں غیر معمولی اضافے، تعمیراتی تاخیر اور انتظامی کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
دیامر بھاشا ڈیم پاکستان کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم منصوبہ ہے، جس سے 4,500 میگاواٹ بجلی، 8.1 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت، آبپاشی، سیلابی تحفظ اور قومی آبی سلامتی میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔ تاہم نیلم جہلم کے تجربے نے واضح کر دیا ہے کہ اگر شفاف نگرانی، بروقت فیصلے، انجینئرنگ معیار، مالی نظم و نسق اور مؤثر احتساب کو یقینی نہ بنایا گیا تو ایسے منصوبے بھی سنگین خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
آڈٹ رپورٹ متعدد بنیادی سوالات چھوڑتی ہے۔ مسلسل سرنگیں کیوں گرتی رہیں؟ ذمہ داروں کا تعین کیوں نہ ہو سکا؟ ایکنک کی ہدایات پر عمل کیوں نہ ہوا؟ 267 ارب روپے کے قومی اثاثے بیمہ کے بغیر کیوں چھوڑے گئے؟ عوام کے اربوں روپے ضائع ہونے کے باوجود اصلاحی اقدامات میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی؟
اتنے بڑے قومی نقصان کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC)، قومی اسمبلی کی متعلقہ قائمہ کمیٹیاں، وزارتِ آبی وسائل، وزارتِ توانائی، واپڈا اور دیگر متعلقہ ادارے اس رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لیں گے، آڈٹ اعتراضات پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں گے، ذمہ داریوں کا تعین کریں گے اور جہاں قانون کے مطابق غفلت، بدانتظامی یا کسی دوسری بے ضابطگی کے شواہد موجود ہوں، وہاں مناسب انتظامی، مالی یا قانونی کارروائی کی سفارش کریں گے۔
نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ صرف ایک منصوبہ نہیں بلکہ پاکستان کے عوام کے اربوں روپے کی سرمایہ کاری ہے۔ اس منصوبے کی ناکامی، مسلسل مالی خسارے، انتظامی کمزوریوں اور غیر حل شدہ تکنیکی مسائل نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ قومی وسائل کی حفاظت صرف منصوبے بنانے سے نہیں بلکہ شفاف حکمرانی، بروقت نگرانی، مؤثر انتظام، پیشہ ورانہ انجینئرنگ اور بلاامتیاز احتساب سے ممکن ہے۔ اب یہ فیصلہ ریاستی اداروں، پارلیمنٹ اور متعلقہ حکام کو کرنا ہے کہ آیا اس رپورٹ کو بھی ماضی کی دیگر آڈٹ رپورٹس کی طرح فائلوں میں دفن کر دیا جائے گا یا اسے قومی احتساب، اصلاحات اور بہتر حکمرانی کے ایک نئے باب کا آغاز بنایا جائے گا۔