فنانس ایکٹ 2026 پر نیا طوفان ۔اسلام اباد ٹوڈے رپورٹ

*”فنانس ایکٹ 2026 پر نیا طوفان، ڈاکٹر آصف کرمانی کا بڑا سوال: عوام کے بینک اکاؤنٹس سے رقم نکالنے کا اختیار FBR کو کس نے دیا؟”*

*رپورٹ: رانا تصدق حسین*

*اسلام آباد:* فنانس ایکٹ 2026 کے بعض متنازعہ ٹیکس اختیارات پر ملک میں نئی سیاسی بحث چھڑ گئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما ڈاکٹر آصف کرمانی نے 27 جون 2026 کو اظہارِ خیال کرتے ہوئے حکومت سے سخت سوالات اٹھائے اور کہا کہ:

“یہ قانون کس نے بنایا؟ FBR کو عوام کے بینک اکاؤنٹس سے براہِ راست رقم نکالنے کا اختیار کس نے دیا؟”

ڈاکٹر آصف کرمانی نے کہا کہ FBR کو ایسے غیر معمولی اختیارات دینا عوام، تاجروں اور تنخواہ دار طبقے میں شدید بے چینی پیدا کر رہا ہے۔

ان کے مطابق اگر شہریوں کو یہ خدشہ لاحق ہو جائے کہ ان کے بینک اکاؤنٹس سے براہِ راست رقوم نکالی جا سکتی ہیں تو اس سے نہ صرف بینکاری نظام پر عوام کا اعتماد متاثر ہوگا بلکہ معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسے قوانین تیار کرنے والوں نے عوامی مفاد، معاشی استحکام اور کاروباری اعتماد کو خاطر میں نہیں لایا، جس کے باعث ملک بھر میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

ڈاکٹر آصف کرمانی کے ان بیانات کے بعد فنانس ایکٹ 2026 میں شامل ٹیکس وصولی کے اختیارات ایک مرتبہ پھر قومی بحث کا مرکز بن گئے ہیں۔ دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ ٹیکس قوانین کا مقصد محصولات کی وصولی کو مؤثر بنانا اور ٹیکس نظام میں بہتری لانا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں