اسلام اباد۔ جگہ جگہ نا کے معاملہ قومی اسمبلی پہنچ گیا
*”سلامتی یا عوامی مشکلات؟ اسلام آباد کے داخلی راستوں پر متعدد چیک پوسٹوں کا معاملہ قومی اسمبلی میں گونج اٹھا”*
*آئین کے آرٹیکل 9، 14، 15، 18 اور 25 کی روشنی میں بنیادی حقوق، شہری وقار اور آزادانہ نقل و حرکت پر سنجیدہ سوالات*
*رپورٹ: رانا تصدق حسین*
*اسلام آباد:* قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر اسد قیصر نے قومی اسمبلی کے فلور پر اسلام آباد کے داخلی راستوں پر قائم متعدد چیک پوسٹوں کے باعث عوام کو درپیش شدید مشکلات کا معاملہ نہایت مؤثر انداز میں اٹھاتے ہوئے وفاقی حکومت کی فوری توجہ اس جانب مبذول کرائی۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ پشاور اور خیبر پختونخوا سمیت ملک کے مختلف علاقوں سے اسلام آباد آنے والے شہریوں کو اسلام آباد موٹروے ٹول پلازہ عبور کرتے ہی مختلف اداروں کی چیک پوسٹوں سے گزرنا پڑتا ہے، جبکہ اس کے بعد چونگی نمبر 26 اور کشمیر ہائی وے پر بھی مزید چیک پوسٹیں قائم ہیں، جہاں کسٹمز، اینٹی نارکوٹکس فورس (ANF)، اسلام آباد پولیس، پنجاب پولیس اور دیگر اداروں کی جانب سے الگ الگ چیکنگ کے باعث روزانہ کئی کئی کلومیٹر طویل ٹریفک جام معمول بن چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر قومی سلامتی کے پیش نظر چیکنگ ناگزیر ہے تو تمام متعلقہ اداروں کو ایک مرکزی اور مربوط چیک پوسٹ پر منتقل کیا جائے تاکہ شہریوں کو چند کلومیٹر کے فاصلے پر بار بار روکنے، شناخت کرانے اور تلاشی کے عمل سے نہ گزرنا پڑے۔
اسد قیصر نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ موجودہ صورتحال خصوصاً خیبر پختونخوا سے آنے والے شہریوں میں احساس محرومی کو جنم دے رہی ہے اور ان کے ذہنوں میں یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ ان کے ساتھ نسلی بنیادوں پر امتیازی سلوک (Ethnic Profiling) کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قومی یکجہتی اور عوامی اعتماد کے پیش نظر اس پورے نظام کا فوری ازسرنو جائزہ لیا جائے۔
یہ معاملہ محض ٹریفک کی روانی یا انتظامی سہولت کا نہیں بلکہ آئین پاکستان میں شہریوں کو حاصل بنیادی حقوق کا بھی ہے۔
آئین پاکستان کا آرٹیکل 9 ہر شہری کے حقِ زندگی اور شخصی آزادی کا تحفظ فراہم کرتا ہے، جس کی تشریح اعلیٰ عدلیہ یہ کر چکی ہے کہ باوقار زندگی اور معمول کی سہولیات تک رسائی بھی اسی حق کا حصہ ہیں۔
آرٹیکل 14 انسانی وقار کو ناقابلِ تنسیخ قرار دیتا ہے اور ریاست پر لازم کرتا ہے کہ ہر شہری کی عزتِ نفس کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
آرٹیکل 15 ہر پاکستانی شہری کو ملک بھر میں آزادانہ نقل و حرکت کا بنیادی حق دیتا ہے، جس پر صرف وہی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں جو قانون کے مطابق، معقول اور عوامی مفاد میں ناگزیر ہوں۔
آرٹیکل 18 ہر شہری کے کاروبار، تجارت اور روزگار کے حق کی ضمانت دیتا ہے، جبکہ غیر ضروری رکاوٹیں اور طویل تاخیر معاشی سرگرمیوں کو بھی متاثر کرتی ہیں۔
اسی طرح آرٹیکل 25 تمام شہریوں کو قانون کی نظر میں مساوات اور یکساں تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے تاریخی فیض آباد دھرنا فیصلے میں واضح قرار دیا تھا کہ عوامی شاہراہوں کی مسلسل بندش اور غیر ضروری رکاوٹیں شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت، کاروبار، تعلیم، علاج اور دیگر بنیادی حقوق کو متاثر کرتی ہیں اور ریاست پر لازم ہے کہ وہ شہریوں کے آئینی حقوق کا مؤثر تحفظ کرے۔
اعلیٰ عدلیہ مختلف مقدمات میں یہ اصول بھی واضح کر چکی ہے کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ قومی سلامتی اور شہری آزادیوں کے درمیان ایسا متوازن نظام قائم کرے جس میں سلامتی بھی برقرار رہے اور شہریوں کے بنیادی حقوق بھی غیر ضروری طور پر متاثر نہ ہوں۔
اس تناظر میں کئی اہم سوالات جنم لیتے ہیں:
– جب اربوں روپے کی لاگت سے موٹرویز، انڈر پاسز، فلائی اوورز اور سگنل فری کوریڈورز تعمیر کیے جا چکے ہیں تو پھر اسلام آباد میں داخل ہوتے ہی شہریوں کو بار بار مختلف چیک پوسٹوں پر روکنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟
– کیا مختلف اداروں کی علیحدہ علیحدہ چیک پوسٹوں کے بجائے ایک جدید، مربوط، انٹیلی جنس پر مبنی اور ٹیکنالوجی سے آراستہ نظام قائم نہیں کیا جا سکتا؟
– کیا موجودہ چیک پوسٹوں اور سکیورٹی انتظامات کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ عوام کو غیر ضروری مشکلات سے بچایا جا سکے؟
– کیا موجودہ انتظامات آئین کے آرٹیکل 9، 14، 15، 18 اور 25 کے تقاضوں سے مکمل مطابقت رکھتے ہیں؟
یہ سوالات کسی ایک ادارے یا شخصیت پر تنقید نہیں بلکہ آئینی حکمرانی، عوامی سہولت اور مؤثر انتظامی اصلاحات سے متعلق ہیں، جن پر وفاقی حکومت، وزارتِ داخلہ، اسلام آباد انتظامیہ اور تمام متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
قومی اسمبلی میں اٹھایا گیا یہ معاملہ صرف ٹریفک جام کا نہیں بلکہ شہریوں کے آئینی حقوق، انسانی وقار، آزادانہ نقل و حرکت، ریاستی ذمہ داری اور قانون کی حکمرانی کا معاملہ ہے۔
قومی سلامتی ہر صورت مقدم ہے، لیکن آئین پاکستان بھی یہی تقاضا کرتا ہے کہ سلامتی کے اقدامات قانون کے مطابق، معقول، متناسب اور شہریوں کی عزتِ نفس، مساوات اور بنیادی حقوق کے مکمل احترام کے ساتھ نافذ کیے جائیں۔ یہی ایک مہذب، آئینی اور فلاحی ریاست کی پہچان ہے۔