پارک ویو سٹی کے متاثرین کا نیب سے رجوع
*پارک ویو سٹی کے متاثرہ سرمایہ کاروں کی نیب سے رجوع، دو جولائی کی کھلی کچہری میں سماعت متوقع، این ایچ اے سنٹرل زون لاہور کے روڈ مینٹیننس اکاؤنٹ کے خصوصی فرانزک آڈٹ کا مطالبہ*
*رپورٹ: رانا تصدق حسین*
*اسلام آباد:* پارک ویو سٹی اسلام آباد کے متعدد سرمایہ کاروں نے قومی احتساب بیورو (نیب) سے رجوع کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے کئی برس قبل کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کے باوجود تاحال اپنے پلاٹوں کی الاٹمنٹ یا قبضہ حاصل نہیں کیا۔ شکایت کنندگان کے مطابق متاثرین میں بڑی تعداد اوورسیز پاکستانیوں کی بھی شامل ہے جنہوں نے اپنی عمر بھر کی جمع پونجی اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے اس منصوبے میں لگائی۔
متاثرہ سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے حقوق کے حصول کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم قائم کیا ہے اور نیب کے آن لائن پورٹل پر متعدد شکایات جمع کرا دی ہیں۔ ان کے مطابق وہ اپنی شکایات دو جولائی کو نیب کی مجوزہ کھلی کچہری میں بھی پیش کریں گے تاکہ متعلقہ حکام ان کا مؤقف سن کر قانون کے مطابق کارروائی کریں۔
شکایت کنندگان کا کہنا ہے کہ بعض سرمایہ کار برسوں سے پلاٹوں کی الاٹمنٹ اور قبضے کے منتظر ہیں جبکہ جن افراد نے اپنی فائلیں منسوخ کروا کر رقوم کی واپسی کی درخواست دی، انہیں بھی طویل تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔ ان تمام معاملات کی حقیقت جاننے کے لیے انہوں نے نیب سے باقاعدہ تحقیقات کی درخواست کی ہے۔
سرمایہ کاروں نے اس کے ساتھ ساتھ نیشنل ہائی وے اتھارٹی سنٹرل زون لاہور کے روڈ مینٹیننس اکاؤنٹ (RMA) سے ہونے والے اخراجات کا خصوصی فرانزک آڈٹ کرانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ متعلقہ آڈٹ کے ذریعے یہ جانچا جائے کہ آیا سرکاری رقوم منظور شدہ ٹرمز آف ریفرنس اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے قانونی مینڈیٹ کے مطابق قومی شاہراہوں کی تعمیر و مرمت پر ہی خرچ کی گئیں یا نہیں۔
شکایت کنندگان نے مزید مطالبہ کیا ہے کہ اگر تحقیقات میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگی سامنے آتی ہے تو اس ضمن میں ممبر سنٹرل زون این ایچ اے سمیت ان تمام افسران کے کردار کا بھی جائزہ لیا جائے جنہوں نے متعلقہ منصوبوں کی منظوری، نگرانی، تصدیق یا عمل درآمد میں کوئی ذمہ داری ادا کی ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی بھی مرحلے پر سرکاری وسائل کے غلط استعمال یا قواعد کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
وزارت مواصلات، نیشنل ہائی وے اتھارٹی، پارک ویو سٹی اور دیگر متعلقہ افراد و اداروں کو ان الزامات کا جواب دینے کا پورا حق حاصل ہے۔ خبر کی اشاعت تک کسی مجاز عدالت یا تحقیقاتی ادارے نے ان الزامات کی تصدیق یا ان پر حتمی فیصلہ نہیں دیا، لہٰذا یہ تمام معاملات تفتیش اور قانونی کارروائی کے مراحل سے مشروط ہیں۔