سنگدل بھائی کی ہوس ایس ایچ او نے یتیموں کا أشیانہ بچا لیا

سنگدل بھائی کی ہوس بمقابلہ قانون کا انصاف: تھانہ بولانی کے ایس ایچ او نے یتیموں کا آشیاں بچا لیا

(گجرات (کرائم سیل )
جب ضمیر مر جائیں اور لالچ اندھا کر دے تو سگے رشتے بھی آستین کے سانپ بن جاتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ سرائے عالمگیر کے گاؤں بیساں میں ہوا، جہاں ایک بڑے بھائی نے سسرال کے اشارے پر اپنی تین معصوم یتیم بہنوں اور چھوٹے بھائی کا جینا دوبھر کر دیا۔ چچوں کی سخاوت اور خالو کی محبت سے بننے والا مکان اس کی ہوس کا نشانہ بننے والا تھا کہ قانون حرکت میں آ گیا اور مظلوموں کو ان کا حق مل گیا۔یہ کہانی ہے ان تین یتیم بچیوں کی جن کا سہارا چھن چکا تھا، لیکن رشتہ داروں نے ان کی داد رسی کی۔ چچوں نے زمین دی اور خالو نے مکان بنوایا تاکہ یتیموں کو چھت مل سکے۔ لیکن بڑے بھائی نے شادی کیا کی، اس کا خون ہی سفید ہو گیا۔ اپنی بیوی اور سسرال کے ہاتھوں میں کھیلتے ہوئے اس نے معصوم بہنوں پر ظلم کی انتہا کر دی اور اس گھر کو اپنے نام کرانے کے لیے سازشیں بننے لگا۔ خاندان والوں نے جب اس ظلم کو دیکھا تو بچیوں کو خالو کے گھر منتقل کیا اور ظالم بھائی کو گھر سے نکالنے کا فیصلہ کیا۔خود کو پھنستا دیکھ کر ملزم بھائی نے اثر و رسوخ استعمال کیا اور معاملے کو پولیس میں لے گیا تاکہ یتیموں کے حق پر ڈاکا ڈالا جا سکے۔ لیکن اس کا سامنا تھانہ بولانی کے ایک ایسے نڈر اور ایمان دار افسر سے ہوا جس کے لیے مظلوم کی آہ کسی بھی سفارش سے بڑھ کر تھی۔ایس ایچ او غلام رسول نے کیس ہاتھ میں لیتے ہی نہ صرف بااثر افراد کے دباؤ کو مسترد کیا، بلکہ میرٹ پر ایسی تفتیش کی جس نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیا۔ انہوں نے ٹوڈے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ جب تک وہ تعینات ہیں، کسی یتیم پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔ انہوں نے تمام منفی پروپیگنڈوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور بچیوں کو تحفظ فراہم کیا۔آج بیساں گاؤں کے لوگ ایس ایچ او غلام رسول کی نیک نیتی کی مثالیں دے رہے ہیں۔ اہل علاقہ نے ڈی پی او اختر فاروق کا شکریہ ادا کیا ہے جن کی بدولت علاقے کو ایک ایسا محافظ ملا جس نے نہ صرف جرائم کا خاتمہ کیا بلکہ یتیموں کے سر کی چادر اور چار دیواری کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں