سفارش ہو تو ایسی حکومت کا بڑا کارنامہ بینقاب
*نجی شعبے سے براہِ راست بائیسویں گریڈ کے سیکریٹری آئی ٹی کی تقرری، میرٹ، سول سروس اور مجوزہ ٹیلی کام بل پر سنگین سوالات*
*تحریر: رانا تصدق حسین*
*اسلام آباد:* نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے ایک فرد کو کنٹریکٹ پر براہِ راست وفاقی سیکریٹری اطلاعاتی ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن (بائیسویں گریڈ کے مساوی) تعینات کیے جانے نے ملک بھر میں میرٹ، آئینی تقاضوں، سول سروس کے مستقبل اور ریاستی اداروں کی شفافیت کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
سابق بیوروکریٹس، قانونی ماہرین اور سی ایس ایس کے امیدوار سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر اعلیٰ ترین سرکاری عہدوں پر براہِ راست بیرونی تقرریاں معمول بن گئیں تو کیا یہ میرٹ، مساوی مواقع اور کیریئر سول سروس کے بنیادی ڈھانچے کو کمزور نہیں کرے گا؟
یہ بحث اس وقت مزید شدت اختیار کر گئی جب وزارتِ آئی ٹی کے زیرِ نگرانی تیار کیے گئے مجوزہ ٹیلی کام بل پر اعتراضات سامنے آئے۔ ناقدین کے مطابق بل کی بعض شقیں ٹیلی کام کمپنیوں کو نجی املاک پر ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر نصب کرنے کے غیر معمولی اختیارات دیتی ہیں، جبکہ انکار کی صورت میں انتہائی بھاری جرمانوں کی تجویز بھی زیرِ بحث ہے۔ ان شقوں پر پارلیمانی، قانونی اور عوامی سطح پر مکمل غور و خوض کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ضرار ہاشم کی تکنیکی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا مقصود تھا تو انہیں مشیر، اسپیشل اسسٹنٹ یا کنسلٹنٹ مقرر کیا جا سکتا تھا۔ تاہم ملک کی اعلیٰ ترین بیوروکریٹک نشست پر تعیناتی ایک ایسا فیصلہ ہے جس کے لیے غیر معمولی شفافیت اور مضبوط قانونی بنیاد ناگزیر ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سی ایس ایس مقابلے کا امتحان آج بھی پاکستان کے لاکھوں باصلاحیت نوجوانوں کے لیے بغیر سفارش اور سیاسی اثرورسوخ اعلیٰ ترین سرکاری عہدوں تک پہنچنے کی سب سے بڑی امید ہے۔ اگر یہی دروازہ بھی کمزور ہو گیا تو نوجوانوں کا ریاستی اداروں پر اعتماد مزید متاثر ہوگا۔
اس تقرری کے بعد یہ مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے کہ حکومت تقرری کے قانونی جواز، انتخابی معیار، معاہدے کی شرائط اور مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ (Conflict of Interest) سے متعلق تمام حقائق عوام کے سامنے لائے تاکہ ہر قسم کی قیاس آرائی کا خاتمہ ہو سکے۔
عوامی حلقے یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں:
کیا اس معاملے میں آئینی ادارے، متعلقہ فورمز اور عدلیہ، جہاں مناسب ہو، شفافیت اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے؟
جمہوریت، آئین اور قانون کی حکمرانی کا تقاضا یہی ہے کہ ہر تقرری، خواہ وہ کتنی ہی اہم شخصیت سے متعلق کیوں نہ ہو، مکمل قانونی، آئینی اور اخلاقی جانچ پر پوری اترے تاکہ ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد برقرار رہے۔