اوورسیز پاکستانی کے اکاؤنٹ سے 70 لاکھ کہاں منتقل ہوئے

*ایف بی آر پر سنگین سوالات:*
*اوورسیز پاکستانی کے اکاؤنٹ سے 70 لاکھ روپے منتقل، ٹیکس نظام، احتساب اور سرمایہ کاری کے تحفظ پر نئی بحث*

*تحریر: رانا تصدق حسین*

*اسلام آباد:* بیرونِ ملک مقیم ایک پاکستانی کی شکایت نے ایک بار پھر وفاقی ادارۂ محصولات (ایف بی آر) کی کارکردگی، اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ سلوک، ٹیکس نظام، سرمایہ کاری کے تحفظ اور عوامی احتساب کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

24 جون 2026 کو وزیراعظم پاکستان کے نام لکھے گئے ایک شکایتی خط میں قطر کے معروف بینکر اور دوحہ بینک کے ہیڈ آف آپریشنز ارسلان آدم نے الزام عائد کیا ہے کہ غیر مقیم پاکستانی ہونے اور بیرونِ ملک کمائی گئی آمدن کے مکمل ثبوت فراہم کرنے کے باوجود ایف بی آر نے ان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 70 لاکھ روپے ان کے بینک اکاؤنٹ سے منتقل کروا لیے۔

خط کے مطابق ارسلان آدم 2002 میں روزگار کے سلسلے میں پاکستان سے بیرونِ ملک گئے اور اس کے بعد سعودی عرب، برطانیہ اور قطر میں مختلف بین الاقوامی مالیاتی اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر خدمات انجام دیتے رہے۔

انہوں نے ڈوئچے بینک، بینک آف امریکہ، کے پی ایم جی، بینک سعودی فرانسی اور اے بی این ایمرو بینک میں بھی اہم ذمہ داریاں سرانجام دیں۔

انہوں نے اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ ہمیشہ پاکستان سے محبت کے جذبے کے تحت اپنی کمائی کا بڑا حصہ پاکستان میں سرمایہ کاری اور قانونی بینکاری ذرائع سے ترسیلاتِ زر کی صورت میں بھیجتے رہے۔

ارسلان آدم کے مطابق انہوں نے 2016-17 کے دوران رضاکارانہ طور پر انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانا شروع کیے۔

بعد ازاں ایف بی آر نے پاکستان میں کی گئی سرمایہ کاری کے ذرائع آمدن سے متعلق وضاحت طلب کی جس پر انہوں نے مکمل دستاویزی ثبوت فراہم کیے کہ وہ غیر مقیم پاکستانی ہیں اور ان کی آمدن بیرونِ ملک ملازمت سے حاصل شدہ ہے۔

تاہم ان کے مطابق ایف بی آر نے ان وضاحتوں کو تسلیم نہ کرتے ہوئے تقریباً دو کروڑ چھبیس لاکھ روپے کا ٹیکس مطالبہ عائد کر دیا۔

23 جون 2026 کو ان کے بینک نے انہیں اطلاع دی کہ ایف بی آر نے انہیں ٹیکس نادہندہ قرار دیتے ہوئے اکاؤنٹ میں موجود رقوم فوری طور پر منتقل کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

شکایت کے مطابق 24 جون 2026 کو ان کے اکاؤنٹ سے تقریباً 70 لاکھ روپے ایف بی آر کو منتقل کر دیے گئے جبکہ باقی رقم کی وصولی کے لیے ان کی جائیداد اور دیگر اثاثوں کے خلاف کارروائی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ارسلان آدم نے اپنے خط میں کہا کہ انہوں نے بیرونِ ملک شہریت حاصل کرنے کے مواقع ہونے کے باوجود پاکستانی شناخت کو ترجیح دی اور اپنی زندگی بھر کی کمائی پاکستان منتقل کرتے رہے۔

انہوں نے اس کارروائی کو شدید ناانصافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات اوورسیز پاکستانیوں کے اعتماد کو متزلزل کر سکتے ہیں اور پاکستان میں سرمایہ کاری اور ترسیلاتِ زر کے رجحان کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

یہ واقعہ ایک مرتبہ پھر ایف بی آر کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن گیا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ غیر معمولی اختیارات اور وسائل کے باوجود ادارہ بارہا محصولات کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے جبکہ مسلسل انہی افراد اور اداروں پر بوجھ ڈالا جا رہا ہے جو پہلے ہی ٹیکس نیٹ میں شامل ہیں۔

سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر وہ شعبے کب ٹیکس نیٹ میں لائے جائیں گے جو تاحال دستاویزی معیشت سے باہر ہیں، اور کیوں بار بار تنخواہ دار طبقے، سرمایہ کاروں اور قانون پر عمل کرنے والے شہریوں کو ہی اضافی بوجھ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس معاملے نے مالیاتی اختیارات کی صوبوں کو منتقلی، قومی اثاثوں کی نجکاری، پی آئی اے، ریلوے املاک، موٹروے منصوبوں اور دیگر سرکاری اثاثوں کے معاملات پر جاری قومی بحث کو بھی نئی شدت دے دی ہے۔

عوامی حلقوں میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ پاکستان کے 24 کروڑ عوام اپنے حقوق سے بخوبی آگاہ ہیں اور وہ قومی خزانے کے استعمال، سرکاری اداروں کی کارکردگی اور عوامی وسائل کے انتظام میں زیادہ شفافیت اور جوابدہی چاہتے ہیں۔

اگرچہ ارسلان آدم کے الزامات کا فیصلہ کسی مجاز عدالتی فورم نے نہیں کیا اور ایف بی آر کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا، تاہم یہ معاملہ پاکستان کے ٹیکس نظام، حکمرانی اور عوامی اعتماد سے متعلق ایک بڑی قومی بحث کی علامت بن چکا ہے۔

آج بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کا موجودہ ٹیکس نظام سرمایہ کاری، کاروبار اور رضاکارانہ ٹیکس ادائیگی کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے یا پھر انہی لوگوں کو مایوس کر رہا ہے جن کی ترسیلاتِ زر، سرمایہ کاری اور مالی معاونت ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں