عدلیہ اور دیگر ادارے تماشائی ہی کیوں
*اگر آئل مارکیٹنگ کمپنیاں عوامی زندگی کے ہر شعبے کی لاگت پر اثر انداز ہو سکتی ہیں تو عدلیہ، احتسابی ادارے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے محض تماشائی بنے رہنے کے متحمل نہیں ہو سکتے*
*تحریر: رانا تصدق حسین*
*اسلام آباد:* پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی ردوبدل بھی پاکستان کے کروڑوں شہریوں کی زندگی پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی ٹرانسپورٹ، خوراک، زرعی پیداوار، صنعتی لاگت، بجلی کی پیداوار اور روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر شے مہنگی ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ دنوں میں عوامی حلقوں کی توجہ ایک مرتبہ پھر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) کے کردار اور ان کے گرد موجود احتسابی نظام کی مؤثریت کی جانب مبذول ہو رہی ہے۔
عوامی حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر چند تجارتی ادارے پورے ملک کی معاشی سمت اور عوامی زندگی کے اخراجات پر اتنا گہرا اثر ڈال سکتے ہیں تو پھر ان کے اعمال، منافع، قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار، ذخیرہ اندوزی، سپلائی چین اور کاروباری رویوں کا مؤثر احتساب کون کرے گا؟
ناقدین کا کہنا ہے کہ جب بھی عوام کو ریلیف دینے کی بات ہوتی ہے تو بعض آئل مارکیٹنگ کمپنیاں فوری طور پر خسارے، کاروباری مشکلات اور مالی بوجھ کا جواز پیش کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ دوسری جانب عام پاکستانی، جو پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور کم ہوتی قوتِ خرید کا شکار ہے، ہر مرتبہ اضافی مالی بوجھ اٹھانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
عوامی مبصرین کے مطابق مسئلہ اب صرف ریگولیٹری نگرانی تک محدود نہیں رہا۔ ان کے خیال میں جب کسی شعبے کے فیصلے کروڑوں افراد کی زندگی، معیشت اور قومی استحکام کو متاثر کر رہے ہوں تو معاملہ براہِ راست عوامی مفاد، آئینی حکمرانی اور قانون کی عملداری سے جڑ جاتا ہے۔
شہریوں کا مؤقف ہے کہ اگر کسی شعبے میں مبینہ طور پر غیر معمولی منافع خوری، مارکیٹ پر اثراندازی، مصنوعی بحران، یا ایسے اقدامات موجود ہوں جو عوامی مفاد کے منافی ہوں تو پھر احتسابی اداروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدالتی نظام کا کردار محض خاموش تماشائی کا نہیں ہونا چاہیے بلکہ فعال اور مؤثر ہونا چاہیے۔
عوامی حلقوں میں یہ احساس بھی پایا جاتا ہے کہ ملک کے آئین نے ریاستی اداروں کو صرف انتظامی ڈھانچے کے طور پر نہیں بلکہ عوام کے حقوق کے محافظ کے طور پر متعین کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ، آئینی عدالتیں، احتسابی ادارے اور قانون نافذ کرنے والے محکمے اسی مقصد کے لیے قائم کیے گئے تھے کہ عوامی مفاد کے خلاف ہونے والے اقدامات کا بروقت نوٹس لیا جا سکے اور کمزور طبقے کو طاقتور مفادات کے سامنے تنہا نہ چھوڑا جائے۔
متعدد شہری یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر پٹرولیم سیکٹر کے فیصلے ہر گھر کے بجٹ، ہر کاروبار کی لاگت اور ہر شہری کی قوتِ خرید پر اثر انداز ہوتے ہیں تو پھر کیا یہ معاملات محض انتظامی فیصلے تصور کیے جا سکتے ہیں یا انہیں قومی اہمیت کے حامل عوامی مفاد کے معاملات کے طور پر دیکھا جانا چاہیے؟
عوامی رائے یہ بھی ہے کہ جمہوریت، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کا اصل امتحان ایسے ہی مواقع پر ہوتا ہے۔ اگر عوام کو یہ محسوس ہونے لگے کہ طاقتور معاشی مفادات کے سامنے احتساب، نگرانی اور قانون کی گرفت کمزور پڑ رہی ہے تو اداروں پر اعتماد متاثر ہونا ایک فطری امر بن جاتا ہے۔
پاکستان کے عام شہری آج یہ جاننا چاہتے ہیں کہ جب پٹرولیم سیکٹر کے فیصلے ان کی زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کرتے ہیں تو کیا ان کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے موجود ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں؟ اور اگر نہیں، تو پھر عوام انصاف، شفافیت اور جوابدہی کے لیے کس دروازے پر دستک دیں؟
عوامی مطالبہ واضح ہے۔ وہ صرف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نہیں چاہتے بلکہ وہ ایک ایسا نظام چاہتے ہیں جس میں شفافیت ہو، جوابدہی ہو، قانون کی بالادستی ہو اور کوئی بھی ادارہ، کمپنی یا بااثر گروہ عوامی مفاد سے بالاتر نہ ہو۔
کیونکہ اگر آئل مارکیٹنگ کمپنیاں عوامی زندگی کے ہر شعبے کی لاگت پر اثر انداز ہو سکتی ہیں تو عدلیہ، احتسابی ادارے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے محض تماشائی بنے رہنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔