اربوں کی سرمایہ کاری زیم بلڈر کے خلاف تحقیقات جاری
*اربوں روپے کی مبینہ سرمایہ کاری اسکیموں کا معاملہ: ZEM Builders کے سی ای او زیشان اکرم کے خلاف متعدد مقدمات، شکایات اور تحقیقات جاری*
*رپورٹ: رانا تصدق حسین*
*اسلام آباد:* جائیداد کے کاروبار میں غیر معمولی منافع اور پرکشش سرمایہ کاری اسکیموں کے نام پر عوام سے مبینہ طور پر اربوں روپے وصول کرنے کے الزامات کے بعد ZEM Builders کے چیف ایگزیکٹو آفیسر زیشان اکرم مختلف شہروں میں قانونی کارروائیوں اور تحقیقات کی زد میں آ گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق زیشان اکرم لاہور، راولپنڈی اور اسلام آباد میں مختلف مقدمات اور شکایات کے سلسلے میں پولیس کو مطلوب ہیں۔ ان کے خلاف دھوکہ دہی، امانت میں خیانت، سرمایہ کاری کے نام پر رقوم وصول کرنے اور وعدوں کی تکمیل نہ کرنے سے متعلق متعدد درخواستیں اور مقدمات زیرِ کارروائی ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بعض مقدمات میں انہیں اشتہاری بھی قرار دیا جا چکا ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ عدالتوں اور اداروں کے ریکارڈ کی روشنی میں ہی ممکن ہے۔
متعدد متاثرہ سرمایہ کاروں کا مؤقف ہے کہ انہیں ZEM Builders کے مختلف منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ترغیب دی گئی اور مختصر مدت میں غیر معمولی منافع کی یقین دہانی کرائی گئی۔ تاہم شکایت کنندگان کے مطابق نہ صرف وعدہ کردہ منافع حاصل نہ ہو سکا بلکہ کئی سرمایہ کار اپنی اصل رقم کی واپسی سے بھی محروم رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق صرف اسلام آباد کے تھانہ ہمک میں اس وقت زیشان اکرم اور ان کی کمپنی کے خلاف تقریباً 32 شکایات موجود ہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ بارہا درخواستوں، شواہد اور پیروی کے باوجود تاحال انہیں خاطر خواہ پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی جس کے باعث ان میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
معاملے کی سنگینی میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب ذرائع نے دعویٰ کیا کہ بعض مالیاتی معاملات اور لین دین کے حوالے سے زیشان اکرم کو فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) بھی مطلوب سمجھتی ہے۔ تاہم ایف آئی اے کی جانب سے اس حوالے سے ابھی تک کوئی تفصیلی اور باضابطہ مؤقف یا بیان جاری نہیں کیا گیا۔
متاثرہ سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان میں سے بہت سے افراد نے اپنی عمر بھر کی جمع پونجی اور محنت کی کمائی ان منصوبوں میں لگائی تھی۔ انہوں نے وفاقی و صوبائی حکومتوں، پولیس حکام، ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو متاثرین کی رقوم کی واپسی کو یقینی بنایا جائے۔
قانونی ماہرین کے مطابق کسی بھی فرد یا ادارے کے خلاف حتمی جرم کا تعین صرف متعلقہ تحقیقاتی اداروں کی تحقیقات اور عدالتوں کے فیصلوں کے بعد ہی ممکن ہوتا ہے۔ لہٰذا تمام الزامات کی جانچ قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہونا ناگزیر ہے۔
واضح رہے کہ خبر کی اشاعت تک زیشان اکرم یا ZEM Builders کی جانب سے ان الزامات کے حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔ تاہم اگر کمپنی یا اس کے نمائندگان اپنا مؤقف دینا چاہیں تو صحافتی اصولوں کے مطابق اسے بھی مکمل طور پر شائع کیا جائے گا تاکہ تمام فریقین کا نقطۂ نظر عوام کے سامنے آ سکے۔