لاکھوں کا لین دین متوفی کی تدفین روک دی گئ

لیہ (کرائم رپورٹر) متوفی شخص کا جنازہ اور تدفین روک دی گئی ،پہلے ہمارے پیسے دو اسکے بعد تدفین کرو ۔۔۔ جنازہ روکنے والوں کا مطالبہ ۔۔۔ لیہ کے ایک نواحی چک میں کچھ روز قبل بزرگ شخص امین نمبردار انتقال کر گیا ، متوفی نے لگ بھگ ایک سال قبل علاقہ کے ایک شخص کو اپنی 1 ایکٹر اراضی فروخت کی تھی 40 لاکھ روپیہ وصول کر لیا ، 10 لاکھ بقایا تھے ، اشٹام بھی ہو گیا مگر متوفی نے بیان کرکے نہیں دیے ۔ خرید کرنے والوں نے کئی چکر لگائے مگر امین نمبردار بیماری اور مصروفیات کا بہانہ کرتا رہا یہاں تک کہ چند روز قبل انتقال کر گیا ۔۔۔ رشتہ دار اور اہل گاؤں اکٹھے ہوئے غسل کفن دیا گیا لیکن جب میت کو جنازہ گاہ لے جایا جارہا تھا تو اس شخص نے اپنے رشتہ داروں کے ہمراہ میت کا راستہ روک لیا جس سے زمین کا سودا ہوا تھا ۔ متوفی کے بیٹوں اور دیگر رشتہ داروں کو ساری بات بتائی گئی اور رقم کی واپسی یا بیان دینے کا وعدہ کرنے کو کہا گیا لیکن یہ لوگ انکاری ہو گئے ، بیٹوں نے تسلیم کیا کہ انکے باپ نے 40 لاکھ لیے تھے اور زمین دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن اب وہ انتقال کر گیا ہم اس سودے کو نہیں مانتے ۔ میت روکنے والوں نے کہا اگر تم زمین کے بیان دینے یا 40 لاکھ واپس دینے سے انکاری ہو تو ہم نہ جنازہ پڑھنے دیں گے اور نہ میت دفن ہونے دیں گے ۔ اہل علاقہ نے ان لوگوں کی بہت منت سماجت کی ، متوفی کے وارثوں کو بھی سمجھایا کہ آپ کا فرض ہے آپ متوفی کے بیٹے ہیں اسکے ذمہ معاملات نمٹائیں ورنہ میت پر بوجھ ہو گا مگر بیٹے بھی ایسے نسلی کہ صاف انکاری ہو گئے اور 15 پر کال کردی ، پولیس آئی اور اپنی نگرانی میں یعنی زبردستی جنازہ اور تدفین کروا دی ۔۔۔ سیدھی سی بات ہے ، 5 ، 10 ہزار کی بات ہو تو اچھے دل والے خود معاف کردیتے ہیں اور حلالی وارث اپنے متوفی کے ذمہ معاملات کی ذمہ داری بھی لیتے ہیں لیکن اس واقعہ میں سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ اس متوفی کے وارث تو زمین کے اوپر ہی اس سے لاتعلق ہو گئے اور اسکے معاملات کو ذاتی فعل قرار دے کر بری الزمہ ہو گئے ۔۔۔۔ بے شک حلال کے لقمے میں بڑی تاثیر ہوتی ہے یہ نسلیں سنوار بھی دیتا ہے اور

اپنا تبصرہ بھیجیں