شہباز حکومت ماضی کی طرح اشرافیہ کے ہتھے چڑھ گئی
*اشرافیہ کے لیے 535 فیصد، عوامی ملازمین کے لیے صرف 7 فیصد:*
*وفاقی بجٹ 2026-27 نے معاشی انصاف پر سنگین سوالات اٹھا دیے*
*اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں میں ریکارڈ اضافہ، وفاقی وزراء اور اراکین پارلیمنٹ بھی مستفید، لاکھوں سرکاری ملازمین مایوس*
*رپورٹ: رانا تصدق حسین*
*اسلام آباد:* وفاقی حکومت کے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں اعلیٰ حکومتی اور پارلیمانی عہدیداروں کی تنخواہوں اور مراعات میں غیرمعمولی اضافوں نے ملک بھر میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ایک جانب اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں میں 535 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ دوسری جانب لاکھوں وفاقی سرکاری ملازمین کے لیے صرف 7 فیصد تنخواہ اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات اور دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں میں 535 فیصد اضافہ کیا گیا، جبکہ وفاقی وزراء کی تنخواہوں میں تقریباً 140 فیصد اور ارکان قومی اسمبلی و سینیٹرز کی تنخواہوں و مراعات میں 138 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
اس کے برعکس ملک بھر کے لاکھوں وفاقی سرکاری ملازمین، جو ریاستی امور کی انجام دہی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، ان کے لیے بجٹ میں صرف 7 فیصد تنخواہ اضافہ رکھا گیا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک پہلے ہی بلند مہنگائی، بڑھتے ہوئے یوٹیلٹی بلز، ایندھن کی قیمتوں، تعلیمی اخراجات اور صحت کی سہولیات کی بڑھتی ہوئی لاگت کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں عوامی نمائندوں اور اعلیٰ حکومتی شخصیات کے لیے سینکڑوں فیصد اضافے جبکہ عام سرکاری ملازمین کے لیے انتہائی محدود اضافہ معاشی مساوات اور سماجی انصاف کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
ملازمین کی نمائندہ تنظیموں اور مختلف حلقوں نے اس تفاوت پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں 7 فیصد اضافہ عملی طور پر مہنگائی کے اثرات کا ازالہ کرنے کے لیے ناکافی ہے۔
ان کے مطابق حقیقی قوت خرید میں ہونے والی کمی کے مقابلے میں یہ اضافہ برائے نام ریلیف کے مترادف ہے۔
بجٹ کے بعد عوامی اور سماجی حلقوں میں یہ سوالات بھی زیر بحث ہیں کہ اگر قومی معیشت مالی دباؤ، قرضوں اور کفایت شعاری کے تقاضوں سے دوچار ہے تو پھر اعلیٰ عہدوں کے لیے 535 فیصد تک اضافے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اور اگر وسائل محدود ہیں تو اس بوجھ کا زیادہ تر حصہ عام ملازمین اور تنخواہ دار طبقے پر ہی کیوں ڈالا جا رہا ہے؟
سیاسی اور معاشی مبصرین کے مطابق بجٹ میں دیے گئے یہ اعداد و شمار ریاستی ترجیحات کے بارے میں ایک واضح پیغام دیتے ہیں اور یہ بحث آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہے کہ آیا یہ بجٹ واقعی عوامی ریلیف کا بجٹ ہے یا مراعات یافتہ طبقے کے لیے خصوصی رعایات کا پیکیج۔
اعداد و شمار کے مطابق:
اسپیکر قومی اسمبلی: 535 فیصد اضافہ
چیئرمین سینیٹ: 535 فیصد اضافہ
وفاقی وزراء: تقریباً 140 فیصد اضافہ
اراکین قومی اسمبلی و سینیٹرز: 138 فیصد اضافہ
وفاقی سرکاری ملازمین: صرف 7 فیصد اضافہ
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ بجٹ میں سامنے آنے والا یہ فرق نہ صرف آمدنی کی غیر مساوی تقسیم کو نمایاں کرتا ہے بلکہ حکومتی مالیاتی ترجیحات کے بارے میں بھی اہم سوالات اٹھاتا ہے۔