دودھ مزید مہنگا ۔گڈ گورننس ٹھاہ
اسلام اباد (خصوصی رپورٹ )ملک بھر میں مہنگا دودھ عام شہریوں کے لئے مسلہ بن گیا ۔۔۔انتظامیہ نے دودھ کی فی لٹر قیمت 170 روپے مقرر کر رکھی ہے مگر دودھ اڑھائی سو روپے لٹر فروخت کیا جارہا ہے اسی پر اکتفا نہیں اب دودھ فروش احتجاج کر رہے ہیں کہ ہمیں دودھ مزید مہنگا کرنے کی اجازت دی جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔دودھ ہر گھر کی ضرورت ہے بچوں کی سب سے بنیادی خوراک دودھ ہی ہے۔اگر ایک عام شہری ایک لٹر دودھ روزانہ لیتا ہے تو اسے مہینے کا ساڑھے سات ہزار روپے دینا پڑتے ہیں ۔۔۔۔۔موجودہ حالات میں عام شہری کو بجلی کا بل گیس کا بل صفائی کا بل سیوریج کا بل اور پراپرٹی ٹیکس بھی دینا ہے اگر اس کی تنخواہ بیس سے پچیس ہزار ہے تو وہ ایک لیٹر دودھ بھی روزانہ خریدنے کی قوت نہیں رکھتا۔۔۔۔۔۔ایسے حالات میں عام شہری جو دودھ تھوڑا سستا خریدتے ہیں وہ ملاوٹ والا ہوتا ہے کیمیکل ملا دودھ بھی کھلے عام بک رہ اہے ایسا دودھ بچوں سمیت سب کے لئے ایک زہر ہے اور یہ زہر بھی شہری مجبوری کے عالم میں پی رہے ہیں ۔۔۔اسی طرح جن دکانداروں کا دعویٰ ہے کہ وہ ملاوٹ نہیں کرتے وہ من پسند قیمت پر دودھ فروخت کرتے ہیں ۔۔۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انتظامیہ نے دودھ کا جو ریٹ مقرر کیا ہے اس پر عمل درآمد کیوں نہیں کروایا جاتا ۔۔۔۔۔۔۔۔انتظامی افسر دو تین دکانوں پر چھاپے مار کر جرمانے کرتے ہیں دکانیں سیل کرتے ہیں اور دوسرے روز وہی دکاندار دھڑلے سے دوبارہ مہنگا دودھ فروخت کرتے ہیں ۔۔۔۔۔انتظامیہ اور پیرا فورس تجاوزات گرانے میں سر فہرست رہی ۔۔مگر اس معاملے میں انہیں کامیابی کیوں نہیں ہو رہی ہے؟ حالانکہ یہ لاکھوں شہریوں کا بنیادی مسلہ ہے ۔۔۔۔پنجاب میں کارکردگی کے اعتبار سے پہلے نمبر پر آنے والے ڈپٹی کمشنر کو اس جانب غور کرنا ہو گا اور دودھ مافیا کو لگام دینی ہوگی تاکہ لاکھوں شہریوں کو ریلیف مل سکے ورنہ دودھ مہنگا فروخت کرنے والوں کو نکیل ڈالنے کی زمہ داری بھی پولیس کو دینا پڑے گی؟