سی سی ڈی کی فائرنگ المناک سانحہ

*سی سی ڈی کی فائرنگ سے المناک سانحہ — 9 سالہ بچی جاں بحق، کم عمر بچہ اور والد زخمی، بیرونِ ملک سے آنے والا خاندان غلط فہمی میں نشانہ بن گیا*

*رانا تصدق حسین*

*دھڈیال، چکوال:* ایک نہایت دلخراش اور افسوسناک واقعہ میں سی سی ڈی اہلکاروں کی مبینہ فائرنگ سے ایک معصوم 9 سالہ بچی جاں بحق جبکہ ایک کم عمر 10 سالہ لڑکا اور ان کے والد شدید زخمی ہوگئے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق اہلکاروں نے غلط فہمی میں ایک عام شہری خاندان کو ڈاکو سمجھ کر نشانہ بنایا۔

تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ تحصیل دھڈیال، ضلع چکوال میں پیش آیا جہاں ایک ایسا خاندان جو حال ہی میں آسٹریلیا سے وطن واپس آیا تھا، مبینہ طور پر معمول کے سفر پر تھا کہ اسے مشتبہ افراد سمجھتے ہوئے فائرنگ کا نشانہ بنا دیا گیا۔

افسوسناک واقعے کے نتیجے میں 9 سالہ بچی موقع پر ہی دم توڑ گئی جبکہ 10 سالہ بچہ اور ان کے والد گولیوں لگنے سے شدید زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق سی سی ڈی اہلکاروں نے مبینہ طور پر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کے دوران شناخت میں غلطی کی، جس کے باعث یہ المناک واقعہ پیش آیا۔ تاہم واقعے کی اصل نوعیت، کمانڈ چین اور آپریشنل جواز تاحال واضح نہیں ہو سکا۔

واقعے کے بعد متاثرہ خاندان شدید صدمے سے دوچار ہے جبکہ علاقے میں خوف و ہراس اور غم کی فضا چھا گئی ہے۔

ایک پرامن اور عام شہری خاندان، جو بیرونِ ملک سے وطن واپس آیا تھا، لمحوں میں ایک بڑے سانحے کا شکار بن گیا۔

واقعے نے عوامی سطح پر شدید ردعمل کو جنم دیا ہے اور شہریوں نے فوری، شفاف اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ عوامی حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ شناخت کے معیار، فائرنگ کے اصولوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے احتسابی نظام میں کہاں خامی رہ گئی۔

تاحال متعلقہ حکام کی جانب سے واقعے کی مکمل اور باضابطہ وضاحت جاری نہیں کی گئی۔

تاہم عوامی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور متاثرہ خاندان کو انصاف اور مکمل معاوضہ فراہم کیا جائے۔

یہ افسوسناک سانحہ ایک بار پھر اس قومی بحث کو اجاگر کر رہا ہے کہ پولیسنگ کے نظام میں غلطیوں، شہریوں کے تحفظ اور طاقت کے استعمال کے قواعد کو مزید سخت اور مؤثر بنانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ آئندہ معصوم جانوں کا ضیاع روکا جا سکے۔
نو سالہ ہانیہ کو پاکستان آنے کا بہت شوق تھا
لیکن اسے نہیں پتہ تھا کہ آسٹریلیا سے چکوال آتے ہوئے
فرشتہ اجل بھی “تیز ترین انصاف” پر مامور
سی سی ڈی اہلکاروں کے روپ میں اس کے تعاقب میں ہے
ہنستا بستا گھرانہ لمحوں میں ماتم کدہ بن گیا
ہانیہ ۔۔۔ ہم شرمندہ ہیں !!!
کیا بیرون ملک مقیم پاکستانی فیملیز
اب اپنے آبائی علاقوں میں آنا ہی چھوڑ دیں ؟؟؟
چکوال میں پیش آنے والے المناک واقعہ میں یہی سبق پوشیدہ ہے کہ تفتیشی و عدالتی نظام کو بہتر بنایا جائے تاکہ سی سی ڈی کی افادیت سامنے آ سکے ، فائرنگ کر کے معصوم فیملی کی گاڑی کو
چھلنی کرنے والے اہلکار کی معطلی اور گرفتاری سے معصوم بچی ہانیہ واپس نہیں آ سکتی۔
مزید تفصیلات کے مطابق چکوال کی ایک فیملی جو آسٹریلیا میں رہائش پذیر تھی کچھ عرصہ پہلے پاکستان آئی۔ یہاں سے پوری فیملی حج کرنے چلی گئی اور منگل کے روز سعودی عرب سے واپس پاکستان پہنچی۔
فیملی کے سربراہ عدیل احمد بدھ اور جمعرات کی درمیانی شام اپنے سسر کے گھر کھانے کی دعوت پہ گئے۔ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ ڈاکٹر سدرہ ، نو سالہ بیٹی ہانیہ اور ایک بیٹا عفان بھی تھا۔ سسر کے گھر جاتے ہوئے یہ ڈکیتی کی واردات کا شکار ہو گئے۔ اسی دوران سی سی ڈی تھانہ کو واردات کی اطلاع مل چکی تھی۔ سی سی ڈی اہلکاروں نے انہیں ہی ڈاکو سمجھ کر گاڑی پہ اندھا دھند فائرنگ کر دی۔
جس کے نتیجے پوری گاڑی چھلنی ہو گئی۔ کار میں نو سالہ بچی ہانیہ موقع پر دم توڑ گئی۔ جبکہ باقی ہوری فیملی شدید زخمی ہو گئی ہے۔ یہ انتہائی افسوس ناک واقعہ ہے کہ پولیس نے کسی وارننگ یا گاڑی کے ٹائر برسٹ کرنے کے بجائے گاڑی کو ہی ٹارگٹ کر دیا۔
اس فیملی کا نقصان کون پورا کرے گا ؟
کیا پاکستان رہنے کے قابل ہے؟
کاش یہ فیملی آسٹریلیا سے واپس نہ آئی ہوتی؟
ہانیہ کے بے گناہ قتل پر کس کو لٹکایا جائے گا ؟
کیا یہ ہے ہمارا پر امن پنجاب ؟
اس اندوہناک واقعہ پر یہ سوال حق بجانب ہے کہ کیا سی سی ڈی کے اہلکار اس قدر نان پروفیشنل ، اناڑی اور بیوقوف ہیں کہ وہ کسی شریف فیملی اور ڈکیتوں میں فرق بھی نہیں کرسکتے؟ یا پھر سی سی ڈی کا تشکیل کردہ مخبری کا نظام ناکارہ ہے کہ اصل ڈاکو فرار ہوجاتے ہیں اور معصوم فیملی کی گاڑی گولیوں سے چھلنی کر دی جاتی ہے ؟

اپنا تبصرہ بھیجیں