سیٹلائٹ ٹاؤن عوامی مشکلات میں اضافہ

*عوامی خدمت یا عوامی مشکلات؟ سیٹلائٹ ٹاؤن کے تاجروں کا ڈپٹی کمشنر کے فیصلوں پر شدید ردعمل*

*رپورٹ: رانا تصدق حسین*

*گوجرانوالہ:* سیٹلائٹ ٹاؤن میں گرین بیلٹ کے قیام اور گاڑیوں کی آمدورفت محدود یا بند کرنے کے مجوزہ منصوبے کے خلاف تاجروں، دکانداروں اور شہریوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ احتجاجی تاجروں نے ڈپٹی کمشنر نوید احمد کی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ آیا ضلعی انتظامیہ کا بنیادی مقصد عوامی خدمت ہے یا ایسے اقدامات جن سے عوام اور کاروباری طبقے کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔

تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایک سرکاری افسر کی اولین ذمہ داری عوام کے لیے آسانیاں پیدا کرنا، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا اور شہریوں کے مسائل کا حل تلاش کرنا ہوتی ہے، تاہم سیٹلائٹ ٹاؤن میں اختیار کیے جانے والے حالیہ اقدامات اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے مطابق انتظامیہ کے فیصلوں سے نہ صرف تاجروں بلکہ ہزاروں شہریوں، ملازمین، ٹرانسپورٹرز، رکشہ ڈرائیوروں، ڈیلی ویجز ورکرز اور روزمرہ خریداری کے لیے آنے والے افراد کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

احتجاجی تاجروں کا مؤقف ہے کہ ملک پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری، کاروباری جمود، بڑھتے ہوئے یوٹیلٹی بلوں اور معاشی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ ایسے حالات میں ضلعی انتظامیہ کو کاروبار کے فروغ، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور شہری سہولتوں میں اضافے پر توجہ دینی چاہیے تھی، مگر اس کے برعکس ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جن سے کاروباری سرگرمیوں کے متاثر ہونے اور تاجروں کو مالی نقصانات پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

تاجر برادری نے یہ بھی سوال اٹھایا ہے کہ آیا گرین بیلٹ منصوبے اور ٹریفک پابندیوں سے قبل کوئی جامع ٹریفک اسٹڈی، ماحولیاتی جائزہ، معاشی اثرات کا تجزیہ یا متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی گئی تھی یا نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر متاثرہ فریقین کو اعتماد میں لیا جاتا تو متبادل تجاویز سامنے آ سکتیں جن کے ذریعے ماحولیات کے تحفظ اور شہری خوبصورتی کے اہداف بھی حاصل ہو جاتے اور کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر نہ ہوتیں۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ عوامی مسائل میں اضافے اور کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا کرنے والے فیصلے عوام میں بے چینی اور مایوسی کو جنم دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات سے نہ صرف ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں بلکہ اس سے حکومت کی عوامی ساکھ اور نیک نامی بھی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے، کیونکہ عام شہری سرکاری پالیسیوں اور انتظامی فیصلوں کو حکومت کی مجموعی کارکردگی سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔

تاجر رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر نوید احمد فوری طور پر اس منصوبے پر نظرثانی کریں، گاڑیوں کی آمدورفت محدود کرنے کے فیصلے کو معطل کریں، منصوبے کی تمام تفصیلات عوام کے سامنے لائیں اور تاجروں، رہائشیوں، ٹرانسپورٹرز اور دیگر متعلقہ فریقین کے ساتھ بامقصد اور شفاف مشاورت کا آغاز کریں تاکہ کوئی بھی فیصلہ زمینی حقائق اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جا سکے۔

تاجر برادری نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے تحفظات کو مسلسل نظر انداز کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے اور اس معاملے کو اعلیٰ حکومتی و انتظامی فورمز تک لے جایا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کا اصل مقصد عوام کو سہولت فراہم کرنا، کاروبار کو فروغ دینا، ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانا اور معاشی سرگرمیوں کو مضبوط کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ ایسے حالات پیدا کرنا جن سے شہریوں اور تاجروں کو غیر ضروری مشکلات اور مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑے۔

تاجروں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے جائز معاشی اور کاروباری حقوق کے تحفظ کے لیے ہر آئینی، قانونی اور جمہوری فورم پر آواز بلند کرتے رہیں گے اور ایسے فیصلوں کی مخالفت جاری رکھیں گے جو ان کے بقول عوامی مفاد کے بجائے عوامی مشکلات میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں