طوفانی مہنگائی سے بچنے کے مشورے

حضرات میں آج آپ کو طوفانی مہنگائی سے بچنے کے مفید اور نادر مشورے دینے جا رہا ہوں مجھے آپ لوگوں کی پریشانی کا پورا احساس ہے کیونکہ میں خود بھی اس ہوش ربا مہنگائی کا ستایا ہوا ہوں یہی وجہ ہے کہ میری اکثر راتیں اختر شماری کرتے ہی گزرتی ہیں کبھی کبھی میں اپنی اس حالت سے تنگ آجاتا ہوں لیکن پھر مجھے یہ تسلی کچھ راحت دیتی ہے کہ میں اکیلا نہیں بلکہ حکمرانوں اور چند اشرافیہ کو چھوڑ کر باقی سب ہی میرے ساتھ بلبلا رہے ہیں خیر بات کہیں سے کہیں چلی گئی تو میں بات کررہا تھا کہ آج کل مسئلہ یہ ہے کہ اس شدید مہنگائی سے کیسے بچا جائے سو اس ضمن میں عرض ہے کہ
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
والا معاملہ ہے فوری طور پر اخراجات پر کٹ لگانے کی ضرورت ہے اگر آپ اپنی فیملی کے ساتھ شام کے وقت گھومنے پھرنے کا ارادہ کئے ہوئے ہیں تو فوراً ترک کردیں اگر اس صورتحال کو آپ کی فیملی قبول نہ کرے تو آپ کے پاس یہ دلائل ضروری ہیں کہ فضول خرچ شیطان کا بھائی ہے اس کے ساتھ ساتھ جتنی چادر اتنے پاؤں پھیلانے والا نسل در نسل سے چلنے والا مشورہ بھی ضرور دیں۔اگر آپ کرایہ دار ہیں اپنے شہر کے مضافاتی علاقوں میں کم سے کم کرائے پر گھر لیں اس بات پر چنداں توجہ دینے کی ضرورت نہیں کہ آپ غریب غرباء کی کچی بستی میں گھر کرایہ پر لے رہے ہیں اگر آپ کے دل میں یہ خیال آرہا ہے کہ وہاں صفائی ستھرائی کا کوئی مناسب انتظام نہیں ہوگا اور اس کے نتیجے میں مچھر آپ کو دن رات ستائیں گے تو فکر کرنے ضرورت نہیں ہمارے ملک میں اکثریت ایسے ہی علاقوں میں زندگی بسر کرکے صبر شکر کررہی ہے لہذا آپ جس اذیت کا سوچ رہے ہیں اس میں آپ اکیلے نہیں ہوں گے اگر پورا کرایہ ہی بچانے کا سوچ رہے ہیں تو فٹ پاتھ پر نظر دوڑائیں آپ ان کو اپنے بستر کا روپ دے سکتے ہیں اس طرح نہ ہوگا بانس نہ بجے گی بانسری والا معاملہ ہوگا اب بات کرتے ہیں کہ آپ کو موجودہ حالات میں کس قسم کی سواری کی ضرورت ہے تو اس ضمن میں عرض ہے کہ سب سے پہلے تو آپ اپنے آپ کا بغور جائزہ لیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو صحت کی دولت کے ساتھ ساتھ دو پاؤں عطا کئے ہیں لہذا انہیں کو استعمال میں لائیں اور اگر کوئی آپ کو سائیکل استعمال کرنے کا مشورہ دے تو اس پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ایک تو آج کل سائیکل کون سی سستی ہے دوسرا اگر اس کے کتے فیل ہوگئے تو یہ غیر ضروری اخراجات آپ کی جیب پر بھاری ہو سکتے ہیں ۔میری نظر میں مہنگائی کے اس دور میں بجلی استعمال کرنے کی عیاشی بھی آپ کا سکون لوٹ سکتی ہے اس لئے گھر میں سورج کی روشنی استعمال کریں لیکن اس روشنی کو استعمال میں لاکر شمسی توانائی کا حصول آپ کو پریشان کرسکتا ہے گیس کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اس کا استعمال بھی آپ پر مالی بوجھ کا سبب بن سکتا ہے لہذا کاٹھ کباڑ جلا کر سستی توانائی کا حصول یقینی بنانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کی خواہش بھی ترک کردیں کیونکہ آج کل کے حالات میں اعلیٰ تعلیم کا حصول امرا کا مشغلہ تو ہوسکتا ہے لیکن غریب غرباء کا نہیں یوں بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے کون سا تیر چلایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح اگر آپ کے سر پر بالوں کا غیر ضروری بوجھ خود قدرت نے ہٹا دیا ہے تو اس” فارغ البالی ” پر اللہ کا شکر ادا کریں خاندان کا کوئی فرد شیمپو کی فرمائش کرے تو اس سے بتائیں اس سے پہلے بھی لوگ سر دھوتے تھے گھر والوں کو لاحول پڑھنے کا مشورہ دیں کیونکہ اکثر اس طرح کے خیالات شیطان پیدا کرتا تاکہ فضول خرچی کرکے اس کا بھائی بنا جاسکے۔مندرجہ بالا تمام مشورہ جات میں نے نیک نیتی سے آپ تک پہنچائے ہیں اب صرف ان پر عمل کرنے کا مرحلہ باقی رہ گیا لہذا آپ میرے لئے اور میں آپ سب کے لیے دعا کرتا ہوں کہ ان مفید مشوروں پر من و عن عمل کی توفیق اللہ تعالیٰ عطا فرمائے آمین