ایوان بالا کی کمیٹی این ایچ اے کرپشن کی چھان بین کرے گی

*ایوان بالا کی کمیٹی این ایچ اے میں گورننس بحران، این ایچ ایف کی اراضی کی ناکامی اور وزیر کی مبینہ مداخلت کی چھان بین کرے گی*

*تحریر: رانا تصدق حسین*

*اسلام آباد —* سینیٹ کی “کم ترقی یافتہ علاقوں کے مسائل سے متعلق فنکشنل کمیٹی” نے “انتہائی فوری” نظرثانی شدہ نوٹس جاری کرتے ہوئے پیر 20 جولائی 2026 کو صبح 11:30 بجے کمیٹی روم نمبر 4، پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں اہم اجلاس طلب کر لیا ہے۔

سینیٹ کا اجلاس صبح ہونے کی صورت میں یہ اجلاس دوپہر 2:30 بجے منعقد ہوگا۔

سیکرٹری کمیٹی محمد اصغر گوندل کے جاری کردہ نوٹس http://F.No.22 (1)/2024-27/C-I کے مطابق کمیٹی نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی کارکردگی، بجٹ، انسانی وسائل اور گورننس کا جامع جائزہ لے گی، جس میں کم ترقی یافتہ علاقوں کو خصوصی اہمیت دی جائے گی۔

*نظرثانی شدہ 11 نکاتی ایجنڈا درج ذیل ہے:*

1. N-45 چکدرہ-دیر-چترال روڈ: پیش رفت، موجودہ صورتحال اور تکمیل کا شیڈول۔
2. این ایچ اے بجٹ 2026-27: ملک گیر مختص رقم، کم ترقی یافتہ علاقوں پر توجہ اور منصوبہ وار تفصیل۔
3. این ایچ اے کا انسانی وسائل کا آڈٹ: BPS وار اسٹرینتھ، صوبہ وار اور بلوچستان/اقلیتی کوٹہ، ایڈہاک/کنٹریکٹ/روزانہ اجرت کے ملازمین، 5 سالہ بھرتی ریکارڈ، ڈیپوٹیشن کی تفصیل مع جواز، اور خالی آسامیاں۔
4. M-6 سکھر-حیدرآباد-کراچی موٹروے: فنانسنگ کے مسائل، CPEC/VGF تجویز، مالی سال 2025-26 کی پیش رفت اور 2026-27 کے مجوزہ بجٹ کا شیڈول۔
5. انڈس ہائی وے کشمور-جامشورو: خستہ حالی، حادثات اور بحالی میں ناکامی۔
6. آغازِ حقوقِ بلوچستان پیکج: عمل درآمد، فنڈز کا استعمال اور آئندہ روڈ میپ۔ بریفنگ: سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور MoPD&SI۔
7. چترال میں انفراسٹرکچر: سینیٹر طلحہ محمود کے 23-01-2026 کے معاملے پر مزید بحث۔ بریفنگ: سیکرٹریز مواصلات، MoIT&T، توانائی، چیئرمین این ایچ اے، چیئرمین PTA، MD SNGPL اور CEO USF۔
8. ضلع چترال میں اراضی کا حصول: 19 مئی 2026 کے اجلاس کی ہدایات پر عمل درآمد۔ بریفنگ: چیف سیکرٹری KPK، SMBR KPK اور DC چترال۔
9. این ایچ اے ملازمین کے لیے نیشنل ہائی وے فاؤنڈیشن: نیشنل ہائی وے فاؤنڈیشن کے آپریشن، انتظام اور مالی امور پر تفصیلی بریفنگ۔ یہ 1990 کی دہائی کے اوائل کے بعد بننے والا واحد منصوبہ ہے جو 2026 تک ملازمین کو 5 مرلہ رہائشی اراضی تک فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔
10. مبینہ مداخلت اور گورننس کا انحطاط: وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان اور آفیشی ایٹنگ سیکرٹری مواصلات علی شیر محسود کی جانب سے این ایچ اے کے سرکاری، مالی اور انتظامی امور میں مبینہ مداخلت جو NHA ترمیمی SOE ایکٹ 2024 کی خلاف ورزی ہے۔ کمیٹی اس دعوے کا بھی جائزہ لے گی کہ نیشنل ہائی وے ایگزیکٹو بورڈ اور نیشنل ہائی وے کونسل کے مقررہ کردار کو “بے اختیار، گونگے، بہرے اور بے زبان” کونسل ممبران کے چناؤ کے ذریعے ربڑ اسٹیمپ بنا دیا گیا ہے، جن کا انتخاب مبینہ طور پر مذکورہ دونوں شخصیات نے خود کیا ہے۔
11. دیگر امور چیئر کی اجازت سے۔

کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر نیاز احمد ہیں۔ اراکین میں سینیٹر عبد القدوس، سید کاظم علی شاہ، محمد اسلم ابڑو، فلک ناز، احد خان چیمہ، دانش کمار، ایمل ولی خان، حامد خان، فوزیہ ارشد اور مشعل اعظم شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں