کابینہ ڈویژن کاسوسائٹی سے لاتعلقی کا اعلان
*کابینہ ڈویژن نے اپنے نام سے منسوب ہاؤسنگ سوسائٹی سے مکمل لاتعلقی اختیار کرلی، اب سیکٹر E-16 کا مستقبل کیا ہوگا؟ ہزاروں الاٹیز، رہائشیوں اور سرمایہ کاروں کو حکومتی وضاحت کا انتظار*
*رپورٹ: رانا تصدق حسین*
*اسلام آباد:* وفاقی حکومت کے کابینہ ڈویژن نے ایک نہایت اہم اور غیر معمولی وضاحتی اعلامیہ جاری کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں واضح کر دیا ہے کہ “کابینہ ڈویژن ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی” کا حکومتِ پاکستان یا کابینہ ڈویژن کے ساتھ کسی بھی قسم کا انتظامی، قانونی، مالی، ادارہ جاتی یا عملی تعلق موجود نہیں۔
اعلامیے کے مطابق مذکورہ ہاؤسنگ سوسائٹی اپنے نام میں “کابینہ ڈویژن” کا استعمال کر رہی ہے، تاہم اس سے ہرگز یہ تاثر نہیں لیا جا سکتا کہ یہ منصوبہ حکومتِ پاکستان، کابینہ ڈویژن یا کسی دوسرے سرکاری ادارے کی ملکیت، سرپرستی، نگرانی، منظوری یا انتظام میں چل رہا ہے۔
کابینہ ڈویژن نے واضح کیا ہے کہ اس کا نہ تو مذکورہ ہاؤسنگ سوسائٹی کے معاملات پر کوئی انتظامی اختیار ہے، نہ مالی نگرانی، نہ قانونی ذمہ داری اور نہ ہی کسی قسم کی عملی یا ادارہ جاتی وابستگی۔
اعلامیے میں اس خدشے کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ سرکاری ادارے کا نام استعمال ہونے کی وجہ سے عوام میں یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ یہ منصوبہ حکومتی سرپرستی یا ضمانت کا حامل ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اسی لیے شہریوں کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی ہاؤسنگ منصوبے میں سرمایہ کاری، پلاٹ کی خریداری یا مالی لین دین سے قبل متعلقہ ریگولیٹری اداروں سے رجسٹریشن، زمین کی ملکیت، لے آؤٹ پلان، این او سی، ترقیاتی منظوریوں اور دیگر تمام قانونی دستاویزات کی مکمل تصدیق ضرور کریں۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق یہ وضاحت صرف عوامی مفاد کے تحفظ، ممکنہ غلط فہمیوں کے خاتمے اور شہریوں کو مالی نقصان سے بچانے کے لیے جاری کی گئی ہے تاکہ لوگ صرف کسی سرکاری نام کی بنیاد پر سرمایہ کاری نہ کریں بلکہ مکمل قانونی جانچ پڑتال کے بعد فیصلہ کریں۔
اب سب سے بڑا سوال: سیکٹر E-16 کا مستقبل کیا ہوگا؟
کابینہ ڈویژن کی اس واضح لاتعلقی کے بعد سب سے اہم سوال سیکٹر E-16 اور اسی نام سے وابستہ دیگر منصوبوں کی قانونی اور انتظامی حیثیت کے بارے میں پیدا ہو گیا ہے۔
اگر وفاقی حکومت خود یہ واضح کر رہی ہے کہ اس کا مذکورہ ہاؤسنگ سوسائٹی سے کوئی تعلق نہیں، تو پھر متعلقہ ریگولیٹری اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عوام کو واضح طور پر آگاہ کریں کہ سیکٹر E-16 کی موجودہ قانونی حیثیت کیا ہے، اس منصوبے کے تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہیں یا نہیں، اور ہزاروں الاٹیز، رہائشیوں اور سرمایہ کاروں کے حقوق کس طرح مکمل طور پر محفوظ رہیں گے۔
یہ وضاحت بذاتِ خود سیکٹر E-16 کو غیر قانونی قرار نہیں دیتی اور نہ ہی اس سے الاٹیز یا رہائشیوں کے قانونی حقوق خودکار طور پر متاثر ہوتے ہیں، تاہم اس نے ایسے اہم قانونی، انتظامی اور ریگولیٹری سوالات ضرور پیدا کر دیے ہیں جن کا شفاف اور بروقت جواب دینا ناگزیر ہے۔
چند بنیادی سوالات جن کا جواب عوام جاننا چاہتے ہیں
– اگر ہاؤسنگ سوسائٹی کا کابینہ ڈویژن سے کوئی تعلق نہیں تو “کابینہ ڈویژن” کا نام استعمال کرنے کی اجازت کس نے دی؟
– اگر اجازت موجود نہیں تھی تو اتنے طویل عرصے تک اس نام کا استعمال کیوں جاری رہا؟
– کیا اس نام کے استعمال سے عوام میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ منصوبہ حکومتِ پاکستان کی سرپرستی یا نگرانی میں ہے؟
– کیا منصوبے کے لیے تمام قانونی منظوریوں، رجسٹریشن، این او سیز، زمین کی ملکیت اور ترقیاتی اجازت ناموں کی تکمیل متعلقہ قوانین کے مطابق ہوئی؟
– ہزاروں حقیقی الاٹیز اور رہائشیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے حکومت اور ریگولیٹری ادارے کیا اقدامات کریں گے؟
شفاف ریگولیٹری جائزہ وقت کی اہم ضرورت
ماہرین کے مطابق کابینہ ڈویژن کی حالیہ وضاحت کے بعد متعلقہ ریگولیٹری اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس معاملے کا مکمل اور شفاف جائزہ لیں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ سرکاری ادارے کا نام استعمال کرنا متعلقہ قوانین کے مطابق تھا یا نہیں، اور اگر کسی مرحلے پر کوئی قانونی یا انتظامی بے ضابطگی سامنے آتی ہے تو اس کا ازالہ قانون کے مطابق کیا جائے۔
اگر کسی مجاز ادارے کی تحقیقات میں کسی قانون، ضابطے یا عوامی اعتماد کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ اسی طرح اگر کسی مرحلے پر احتساب یا فوجداری نوعیت کے شواہد سامنے آتے ہیں تو متعلقہ ادارے، بشمول نیب یا ایف آئی اے، اپنے قانونی دائرۂ اختیار کے مطابق کارروائی کرنے کے مجاز ہوں گے۔ تاہم تاحال کسی بھی ادارے کی جانب سے اس معاملے میں کسی باضابطہ تحقیقات یا انکوائری کا اعلان نہیں کیا گیا۔
اصلاح بھی، احتساب بھی، اور عوام کا تحفظ بھی
عوامی مفاد کا تقاضا ہے کہ ایک جانب اگر سرکاری نام کے استعمال، قانونی حیثیت یا ریگولیٹری تقاضوں سے متعلق کسی بھی ابہام کو دور کرنے کے لیے اصلاحی اقدامات ضروری ہوں تو وہ فوری کیے جائیں، جبکہ دوسری جانب ان ہزاروں شہریوں کے حقوق کا بھی مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے جنہوں نے نیک نیتی کے ساتھ اپنی عمر بھر کی جمع پونجی اس منصوبے میں سرمایہ کاری کی۔
کابینہ ڈویژن کی حالیہ وضاحت محض ایک اعلامیہ نہیں بلکہ متعلقہ اداروں کے لیے ایک اہم موقع بھی ہے کہ وہ مکمل شفافیت کے ساتھ عوام کو حقائق سے آگاہ کریں، قانونی حیثیت واضح کریں، جہاں ضرورت ہو اصلاحی اقدامات کریں، اور اگر کسی قسم کی بے ضابطگی ثابت ہو تو قانون کے مطابق بلاامتیاز احتساب کو یقینی بنائیں، تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور مستقبل میں کسی شہری کو صرف کسی سرکاری نام یا تاثر کی بنیاد پر سرمایہ کاری کے لیے گمراہ نہ کیا جا سکے۔