لائف ریزیڈنشیا سکینڈل نیب انکوائری اہم مرحلے میں

*لائف ریزیڈنشیا اسکینڈل:*

*اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے صدر کی نیب طلبی کا امکان، وِسل بلوئرز آگے آئیں، تحقیقات دیگر ہاؤسنگ سکیموں تک پھیلنے کا امکان*

*رپورٹ: رانا تصدق حسین*

*اسلام آباد:* قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے لائف ریزیڈنشیا ہاؤسنگ منصوبے کے خلاف شروع کی گئی انکوائری اہم مرحلے میں داخل ہوگئی ہے، جس کے نتیجے میں منصوبے سے مبینہ طور پر وابستہ افراد، بشمول اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ICCI) کے صدر، کو طلب کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ نیب کی تحقیقات اور بعد کی قانونی کارروائی پر منحصر ہوگا۔
نیب نے 20 جون 2026 کو عوامی نوٹس جاری کرتے ہوئے متاثرہ سرمایہ کاروں کو ہدایت کی کہ وہ 30 دن کے اندر اپنی شکایات، دعوے اور متعلقہ دستاویزی شواہد جمع کرائیں تاکہ پلاٹوں کے نام پر مبینہ فراڈ، سرمایہ کاروں سے رقوم وصول کرنے اور قبضہ نہ دینے کے الزامات کی مکمل تحقیقات کی جا سکیں۔
نیب کے مطابق انکوائری میں عوام کو سرمایہ کاری پر آمادہ کرنے، رقوم وصول کرنے، انہیں مبینہ طور پر اپنے پاس رکھنے اور وعدے کے مطابق پلاٹوں کا قبضہ نہ دینے جیسے معاملات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تاحال کسی بھی فرد یا ادارے کی قانونی ذمہ داری کا تعین نہیں ہوا اور تحقیقات جاری ہیں۔
دوسری جانب اسلام آباد چیمبر آف کامرس اور اسلام آباد رئیلٹرز ایسوسی ایشن کے صدر سردار طاہر محمود نے عوامی طور پر مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کا لائف ریزیڈنشیا سے کوئی تعلق نہیں۔
تاہم متعدد شکایت کنندگان اور بعض ذرائع اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اس منصوبے میں برابر کے شریک تھے۔ یہ دعوے اس وقت نیب کی تحقیقات کا حصہ ہیں اور ان کی تصدیق یا تردید قانونی عمل کے بعد ہی ممکن ہوگی۔
سینئر صحافی احسان بخاری نے بھی اپنی رپورٹ میں منصوبے کی انتظامیہ کے حوالے سے سرفراز سیال اور سردار طاہر محمود کے نام سامنے لائے، جبکہ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سرفراز سیال ملک چھوڑ چکے ہیں۔ اس دعوے کی بھی سرکاری سطح پر تصدیق ہونا باقی ہے۔
شکایت کنندگان کے مطابق منصوبے کی انتظامیہ نے مبینہ طور پر ایسی فائلیں فروخت کرکے سرمایہ کاروں سے اربوں روپے وصول کیے جبکہ ان کے پاس نہ مطلوبہ زمین موجود تھی اور نہ ہی ہاؤسنگ سوسائٹی کے لیے درکار قانونی منظوری۔ ان الزامات کی چھان بین نیب کر رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق نیب اوپن فائل ٹرانزیکشن کے کاروبار کا بھی جائزہ لے رہا ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تحقیقات کا دائرہ دیگر ہاؤسنگ سکیموں تک بھی وسیع ہو سکتا ہے جہاں سرمایہ کار مختلف نوعیت کی شکایات کرتے رہے ہیں۔
ملزمان کی جانب سے ان مخصوص الزامات پر ابھی تک تفصیلی عوامی جواب سامنے نہیں آیا۔ کسی بھی فرد کی قانونی ذمہ داری کا فیصلہ صرف نیب کی تحقیقات اور بعد ازاں عدالتوں کی کارروائی کے بعد ہی ہوگا۔
اسلام آباد کے کاروباری حلقوں میں اس معاملے نے غیر معمولی توجہ حاصل کی ہے کیونکہ پہلی مرتبہ کسی ممتاز رئیلٹر کے اسلام آباد چیمبر آف کامرس کا صدر بننے کے بعد اس نوعیت کے تنازع نے جنم لیا ہے۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ محض لاتعلقی کا بیان دینا کافی نہیں بلکہ تمام حقائق تحقیقات کے سامنے آنے چاہئیں تاکہ ذمہ داری کا تعین غیر جانبدارانہ انداز میں ہو سکے۔
مبصرین کے مطابق اس انکوائری سے نووا سٹی، بلیو ورلڈ سٹی اور دیگر ہاؤسنگ منصوبوں سے متعلق موصول ہونے والی شکایات کے جائزے کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔ تاہم ان منصوبوں سے متعلق تمام الزامات اپنی الگ قانونی حیثیت رکھتے ہیں اور جب تک متعلقہ فورمز پر ثابت نہ ہوں انہیں ثابت شدہ حقائق تصور نہیں کیا جا سکتا۔
اس سے قبل بھی نیب اسلام آباد کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی (ICHS) میں مبینہ لینڈ اسکینڈل کی تحقیقات کے دوران سابق عہدیداروں اور متعلقہ لینڈ ڈیلرز کو گرفتار کر چکا ہے۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے کہ ملک کا احتسابی ادارہ بالآخر متحرک ہوا ہے اور ایسے افراد سے بھی جواب طلبی شروع کر رہا ہے جو خود کو قانون سے بالاتر یا احتساب سے مستثنیٰ سمجھتے رہے۔ تاہم احتساب کا عمل مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور صرف شواہد کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہیے۔
ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ اگر متعلقہ ہاؤسنگ سوسائٹیاں یا کسی بھی فرد کے پاس اپنے مؤقف کی تائید میں مضبوط دستاویزی شواہد موجود ہیں تو انہیں بھی اسی جذبے، اہمیت اور نمایاں انداز میں عوام کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ عوام کو یکطرفہ نہیں بلکہ مکمل اور متوازن تصویر میسر آ سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں