وزارت داخلہ سے متعلق اڈیٹر جنرل کی رپورٹ ۔اسلام اباد ٹوڈے
*پارلیمانی احتساب، شفافیت اور قانون کی بالادستی کا اہم امتحان*
*سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سے غیرجانبدارانہ کارروائی کی توقع*
*تحریر: رانا تصدق حسین*
*اسلام آباد:* آڈیٹر جنرل پاکستان (AGP) کی وزارتِ داخلہ سے متعلق حالیہ آڈٹ رپورٹ نے ایک مرتبہ پھر سرکاری مالیاتی نظم و نسق، شفافیت اور احتساب کے نظام پر اہم سوالات اٹھا دیے ہیں، جن پر ماہرین کے مطابق پارلیمانی سطح پر سنجیدہ غور و خوض ناگزیر ہے۔
آڈٹ رپورٹ میں مبینہ مالی اور خریداری کے معاملات سے متعلق ایسے نکات کی نشاندہی کی گئی ہے جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ خریداری اور اخراجات کے پورے عمل کا مزید جائزہ لیا جانا ضروری ہے تاکہ ذمہ داری کا درست تعین کیا جا سکے اور یہ دیکھا جا سکے کہ آیا تمام اخراجات قانون، مالیاتی قواعد اور سرکاری خریداری کے ضوابط کے مطابق ہوئے یا نہیں۔
واضح رہے کہ آڈیٹر جنرل کی آڈٹ آبزرویشنز کسی فرد یا ادارے کے خلاف جرم ثابت نہیں کرتیں بلکہ وہ ایسے نکات کی نشاندہی کرتی ہیں جن کی وضاحت، تصدیق اور ضرورت پڑنے پر اصلاحی اقدامات متعلقہ فورمز کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔
اس تناظر میں یہ معاملہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے لیے ایک اہم امتحان کی حیثیت اختیار کر گیا ہے تاکہ وہ اپنے آئینی اور پارلیمانی کردار کے مطابق آڈٹ اعتراضات کا مکمل جائزہ لے کر حقائق عوام کے سامنے لا سکیں۔
ماہرین کے مطابق بروقت سماعت، ریکارڈ کا غیرجانبدارانہ جائزہ، ذمہ داری کا شفاف تعین اور آڈٹ سفارشات پر مؤثر عملدرآمد نہ صرف عوامی اعتماد کو مضبوط کرے گا بلکہ حکومتی اداروں کی ساکھ میں بھی اضافہ ہوگا۔
اس پورے عمل کا مقصد کسی ادارے کو تنقید کا نشانہ بنانا نہیں بلکہ اداروں کو مزید مضبوط، شفاف اور جوابدہ بنانا ہے تاکہ مستقبل میں عوامی وسائل کے استعمال پر کسی قسم کے سوالات جنم نہ لیں۔
جمہوری نظام میں یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ عوام کا پیسہ ایک مقدس امانت ہے، جس کے ہر روپے کا حساب قانون، پارلیمنٹ اور عوام کے سامنے دینا لازم ہے۔
اس حوالے سے مؤقف جاننے کے لیے قادر یار تیوانہ، ڈائریکٹر جنرل (میڈیا)، وزارتِ داخلہ سے رابطہ کیا گیا، تاہم ہفتہ کی شام خبر فائل کیے جانے تک ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر متعلقہ پارلیمانی کمیٹیاں اس معاملے کا مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ جائزہ لے کر آڈیٹر جنرل کی سفارشات پر مناسب کارروائی کو یقینی بناتی ہیں تو یہ اس امر کا واضح ثبوت ہوگا کہ پاکستان میں احتساب شخصیات نہیں بلکہ اصولوں، قانون اور آئین کے مطابق ہوتا ہے، کیونکہ قانون کی نظر میں کوئی بھی فرد یا عہدہ بالاتر نہیں۔