پنجاب جیل خانہ جات اصلاحات کے نئے دور کا اغاز

*پنجاب جیل خانہ جات میں اصلاحات کے نئے دور کا آغاز: میاں محمد سالک جلال کی قیادت میں نظم و ضبط، فلاح اور بہتری کا عزم*

*تحریر: رانا تصدق حسین*

*لاہور:* پنجاب جیل خانہ جات کے محکمہ میں اصلاحات کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے جہاں میاں محمد سالک جلال نے سابق آئی جی جیل خانہ جات میاں فاروق نذیر کی مدتِ ملازمت کی تکمیل کے بعد باضابطہ طور پر بطور انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات پنجاب ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔

چارج سنبھالتے ہی میاں محمد سالک جلال نے محکمہ جیل خانہ جات میں مثبت تبدیلی، پیشہ ورانہ معیار، ادارہ جاتی نظم و ضبط اور قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک جامع اصلاحاتی وژن پیش کیا ہے۔

نئے آئی جی جیل خانہ جات نے واضح کیا ہے کہ قیدیوں کے بنیادی حقوق، بہتر رہائشی سہولیات، صحت، صفائی، اصلاحی سرگرمیوں اور بحالی کے اقدامات کو خصوصی اہمیت دی جائے گی تاکہ جیلیں صرف سزا کی جگہ نہ رہیں بلکہ اصلاح اور مثبت تبدیلی کے مراکز بن سکیں۔

انہوں نے جیل عملے کی تربیت، پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے، سیکیورٹی نظام کو مزید مؤثر بنانے اور انتظامی معاملات میں بہتری کے لیے بھی خصوصی اقدامات پر زور دیا ہے۔

میاں محمد سالک جلال ادارہ جاتی نظم و ضبط اور “صحیح آدمی کو صحیح جگہ” کے اصول کے مضبوط حامی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ محکمہ کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے میرٹ، قابلیت، جواب دہی اور ذمہ داری کے اصولوں پر سختی سے عمل درآمد ضروری ہے تاکہ ہر افسر اور اہلکار اپنی صلاحیتوں کے مطابق بہترین خدمات انجام دے سکے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ بامعنی اصلاحات کے ذریعے نہ صرف قیدیوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائی جائے گی بلکہ جیل ملازمین کے لیے بھی بہتر، باوقار اور پیشہ ورانہ ماحول یقینی بنایا جائے گا۔

نئے آئی جی جیل خانہ جات کی قیادت میں متوقع اصلاحات میں سیکیورٹی کے جدید تقاضوں کا نفاذ، عملے کی تربیت، انتظامی نظام کی بہتری، قیدیوں کی فلاح اور اصلاحی نظام کو مزید مؤثر بنانا شامل ہے۔

میاں محمد سالک جلال کا وژن واضح ہے کہ انسانی ہمدردی، سخت ادارہ جاتی نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ معیار کو یکجا کر کے پنجاب جیل خانہ جات کو ایک جدید اور مثالی اصلاحی نظام میں تبدیل کیا جائے۔

محکمہ جیل خانہ جات پنجاب میں ان کی آمد سے امید پیدا ہوئی ہے کہ ان کی قیادت میں نہ صرف انتظامی بہتری آئے گی بلکہ قیدیوں اور جیل عملے دونوں کے لیے ایک مثبت اور تعمیری ماحول بھی تشکیل پائے گا۔

پیغام واضح ہے: نظم و ضبط کے ذریعے اصلاح، پیشہ ورانہ مہارت کے ذریعے ترقی اور خلوصِ خدمت کے ذریعے حقیقی تبدیلی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں