کفائیت شعاری ختم عوامی سوالات برقرار
*کفایت شعاری کے اقدامات واپس، مگر عوامی سوالات بدستور برقرار*
*رپورٹ: رانا تصدق حسین*
*اسلام آباد:* وزیرِاعظم شہباز شریف نے 9 مارچ کے بعد کابینہ ڈویژن کی جانب سے نافذ کیے گئے ایندھن کے تحفظ اور اضافی کفایت شعاری کے تمام اقدامات ختم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ تاہم 3 جون اور 10 جون کے نوٹیفکیشنز کے تحت مقرر کردہ مارکیٹوں اور تجارتی مراکز کے اوقاتِ کار بدستور نافذ العمل رہیں گے۔
سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق دکانوں، مارکیٹوں، شاپنگ مالز، بازاروں، جنرل اور ڈیپارٹمنٹل اسٹورز، شادی ہالز، تجارتی مراکز، تقریبات، ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس کے بند ہونے کے اوقات میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ مزید برآں 9 مارچ سے قبل وزارتِ خزانہ، کابینہ ڈویژن اور دیگر اداروں کی جانب سے نافذ کردہ کفایت شعاری کی پالیسیاں بھی برقرار رہیں گی۔
اگرچہ اس فیصلے کو حکومتی سطح پر ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم عوامی حلقوں میں اس حوالے سے متعدد سوالات جنم لے رہے ہیں۔ مہنگائی، پٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتیں، بجلی و گیس کے بڑھتے ہوئے بل، بھاری ٹیکسوں اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے نے عام آدمی کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ عوام یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر کفایت شعاری کے متعدد اقدامات ختم کیے جا رہے ہیں تو ایندھن اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کیوں نظر نہیں آ رہی۔
ملک بھر میں شفافیت، احتساب اور حکمرانی کے معیار کے حوالے سے بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ ناقدین کے مطابق احتسابی نظام کی رفتار سست دکھائی دیتی ہے جبکہ بدعنوانی، انتظامی کمزوریوں، اقربا پروری اور اختیارات کے مبینہ غلط استعمال سے متعلق سوالات مسلسل اٹھائے جا رہے ہیں۔
سرکاری اداروں اور ریاستی ملکیتی کمپنیوں کی کارکردگی بھی عوامی بحث کا اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔ مختلف حکومتوں کی جانب سے نجکاری، اصلاحات اور تنظیمِ نو کے متعدد اعلانات کے باوجود کئی ادارے آج بھی قومی خزانے پر بھاری بوجھ سمجھے جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اداروں کی بہتری اور قومی وسائل کے تحفظ کے لیے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
قانون کے یکساں نفاذ کے حوالے سے بھی سنجیدہ تحفظات سامنے آ رہے ہیں۔ خصوصاً اسلام آباد کے علاقے نور پور شاہان (بری امام) میں کم آمدن والے طبقات کے خلاف کی گئی کارروائیوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق ایک جانب کمزور اور محروم طبقات کی آبادیاں مسمار کی جاتی ہیں جبکہ دوسری جانب ایف۔6، جی۔6، جی۔7، جی۔8، جی۔9، جی۔10 اور جی۔11 سمیت مختلف علاقوں میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خلاف یکساں نوعیت کی کارروائیاں نظر نہیں آتیں۔ ایسے تاثرات عوام کے اعتماد کو متاثر کر سکتے ہیں۔
اسی طرح حج انتظامات کے حوالے سے بھی مختلف حلقوں کی جانب سے شکایات اور تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ متعدد عازمین نے رہائش، ٹرانسپورٹ، انتظامی امور، فلاحی خدمات اور وسائل کے استعمال سے متعلق آزادانہ آڈٹ، شفاف تحقیقات اور مؤثر اصلاحی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ حج آپریشن سے وابستہ اہلکاروں کی تعداد اور انتظامی کارکردگی بھی عوامی بحث کا حصہ بنی ہوئی ہے۔
کئی ناقدین یہ بھی مؤقف رکھتے ہیں کہ ایسے افراد جو ماضی میں مختلف الزامات، تنازعات یا عوامی تنقید کا سامنا کر چکے ہیں، آج بھی اہم سرکاری عہدوں پر موجود ہیں۔ اگرچہ ان معاملات کا فیصلہ صرف قانون اور متعلقہ ادارے ہی کر سکتے ہیں، تاہم یہ صورتحال شفاف تحقیقات، غیر جانبدار احتساب اور میرٹ کے فروغ کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
عام شہریوں کا احساس ہے کہ معاشی مشکلات، گورننس کے چیلنجز اور احتساب کے کمزور تاثر نے عوامی بے چینی میں اضافہ کیا ہے۔ ان کے نزدیک قومی اداروں پر اعتماد کی بحالی کے لیے مؤثر اصلاحات، مضبوط نگرانی کے نظام اور قانون کے بلاامتیاز نفاذ کی اشد ضرورت ہے۔
آئینِ پاکستان ہر شہری کو مساوات، بنیادی حقوق، شفاف حکمرانی اور عوامی عہدوں کے احتساب کی ضمانت دیتا ہے۔ عوام توقع رکھتے ہیں کہ ان آئینی اصولوں کا عملی اظہار صرف بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ زمینی حقائق میں بھی نظر آئے۔
ملک کی موجودہ صورتحال میں قوم کی نظریں تمام آئینی اداروں پر مرکوز ہیں۔ عوام توقع رکھتے ہیں کہ پارلیمان، عدلیہ، احتسابی ادارے، انتظامیہ، ریگولیٹری ادارے اور قومی سلامتی کے ادارے اپنی اپنی آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے قومی مفاد، ادارہ جاتی استحکام، شفافیت، میرٹ اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔
پاکستان کے عوام اب محض اعلانات نہیں بلکہ عملی نتائج چاہتے ہیں۔ وہ مہنگائی میں کمی، شفاف حکمرانی، مؤثر احتساب، قانون کے مساوی نفاذ، قومی وسائل کے تحفظ اور عوامی مشکلات کے حقیقی حل کے منتظر ہیں۔ قوم کی خواہش ہے کہ ریاستی نظام ایسا ہو جہاں عوامی عہدہ امانت سمجھا جائے، قومی وسائل کا تحفظ کیا جائے اور ہر شہری کو بلاامتیاز انصاف میسر ہو۔
قوم اب وعدوں سے زیادہ نتائج، نعروں سے زیادہ کارکردگی اور دعوؤں سے زیادہ عملی اقدامات کی منتظر ہے۔