خود کشی یا قتل کئ تفتیشی تبدیل معاملہ گھمبیر

(اسلام آباد:( سردار ظہیر، انوسٹیگیشن سیل ، )اسلام آباد کے تھانہ سیکرٹریٹ کی حدود میں معروف کاروباری شخصیت رحمت خان کی ہلاکت کا معاملہ ایک ماہ گزرنے کے باوجود معمہ بن گیا۔ قتل یا خودکشی؟ پولیس تفتیش تاحال کسی منطقی انجام تک نہ پہنچ سکی۔ کیس کی اہم ترین کڑی “پوسٹ مارٹم رپورٹ” بالآخر ایک ماہ بعد پولیس کو موصول ہو گئی، جس سے کیس میں اہم پیش رفت کی امید پیدا ہو گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق، الحمد فارمیسی کے مالک اور معروف تاجر رحمت خان کی لاش
28
اپریل کو ان کے گھر سے ملی تھی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ جب رحمت خان کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا تو وہ مبینہ طور پر زندہ تھے، جبکہ طبی شواہد اور فارنزک سائنس کے مطابق سر پر گولی لگنے کے بعد کسی انسان کا ہسپتال پہنچنے تک زندہ رہنا انتہائی ناگزیر اور حیران کن ہے۔ ہائی پروفائل کیس میں مقامی پولیس کی تفتیش اور سنجیدگی پر کئی سوالیہ نشان کھڑے ہو گئے ہیں:تفتیشی افسران کی بار بار تبدیلی: 28 اپریل سے یکم جون تک، یعنی محض ایک ماہ کے دوران اس کیس کے تین تفتیشی افسران تبدیل کیے جا چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پہلے تفتیشی قیصر تھے، جن کے بعد یہ کیس حنیف نامی افسر کو سونپا گیا، اور اب حنیف کی جگہ ایک تیسرے تفتیشی افسر کو تعینات کر دیا گیا ہے۔پوسٹ مارٹم سے پہلے ہی خودکشی کا دعویٰ: ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق تفتیشی افسر حنیف نے پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے سے قبل ہی مبینہ طور پر اس واقعے کو “خودکشی” قرار دے دیا تھا، جس سے پولیس کی جانبداری کا شبہ گہرا ہوتا
ہے۔فارنزک ٹیم کو نہ بلانا: ذرائع کے مطابق یہ لرزہ خیز واقعہ صبح 4:00 سے 4:30 کے درمیان پیش آیا۔ جب پولیس موقع واردات پر پہنچی تو گھر کا دروازہ کھلا ہوا تھا، لیکن مبینہ طور پر کرائم سین سے شواہد اکٹھے کرنے کے لیے فارنزک ٹیم کو طلب ہی نہیں کیا گیا، جو کہ تفتیش میں ایک مجرمانہ غفلت کی طرف اشارہ ہے۔موقف سے ایس ایچ او کا گریزاس تمام صورتحال اور فارنزک ٹیم کو نہ بلائے جانے کے سنگین الزام پر موقف جاننے کے لیے جب تھانہ سیکرٹریٹ کے ایس ایچ او سلیم سے فون اور واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، تو انہوں نے کال اٹھانے سے گریز کیا اور تاحال ان کا کوئی موقف سامنے نہیں آ سکا۔معروف تاجر کی موت قتل تھی یا خودکشی؟ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد اب عوام اور مقتول کے لواحقین یہ دیکھنے کے منتظر ہیں کہ نئے تفتیشی افسر اس کیس کو کسی انجام تک پہنچاتے ہیں یا یہ معاملہ بھی سرد خانے کی نذر ہو جائے گا۔