مہنگائی ۔انسان کب تک زندہ ۔خصوصی رپنرٹ

بڑھتی مہنگائی جمود کا شکار تنخواہیں عام شہری کب تک زندہ رہ سکے گا
تحریر: رانا تصدق حسین
اسلام آباد: یہ ایک تکلیف دہ اور ناگزیر سوال ہے جو آج پاکستان کے ہر گھر میں گونج رہا ہے کہ جب مہنگائی انسان کی زندہ رہنے کی صلاحیت کو کچل رہی ہو تو تنخواہوں میں کم از کم کتنا اضافہ ہونا چاہیے۔
زمینی حقائق نہایت تلخ ہیں۔
تنخواہ دار طبقہ کو سال میں صرف ایک بار اضافہ ملتا ہے وہ بھی عموماً 5 فیصد سے 10 فیصد تک اگر مل جائے تو جبکہ پٹرول بجلی گیس اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں سال بھر بار بار اضافہ کیا جاتا ہے جس کے باعث آمدن جمود کا شکار اور اخراجات بے قابو ہو چکے ہیں۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق 2023 میں مہنگائی کی شرح 29 فیصد سے تجاوز کر گئی جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطحوں میں سے ایک ہے۔
2024 اور 2025 میں بھی مہنگائی مسلسل دوہرے ہندسوں میں برقرار رہی جس نے عام آدمی کی قوت خرید کو مسلسل کمزور کیا۔
ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
2021 کے بعد سے پٹرول کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 80 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے جو عالمی تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ پالیسی معاہدوں کا نتیجہ ہے۔
پٹرول کی قیمتوں کا ہر پندرہ دن بعد تعین کیا جاتا ہے اور ایک ہی مرتبہ میں 10 سے 20 روپے فی لیٹر اضافہ معمول بنتا جا رہا ہے۔
ہر اضافہ ایک سلسلہ وار اثر پیدا کرتا ہے جس سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھتے ہیں، اشیائے خور و نوش مہنگی ہوتی ہیں اور مجموعی طور پر زندگی گزارنے کی لاگت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
بجلی کے نرخ بھی اسی روش پر گامزن ہیں جہاں فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز اور گردشی قرضے کے دباؤ کے تحت بار بار اضافہ کیا جا رہا ہے جس نے بنیادی سہولیات کو عوام کی بڑی تعداد کے لیے ناقابل برداشت بنا دیا ہے۔
تاریخی طور پر پاکستان نے مہنگائی کا سامنا کیا ہے مگر اس نوعیت کی مسلسل اور ساختی مہنگائی پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔
1990 کی دہائی اور 2000 کی ابتدائی برسوں میں مہنگائی عموماً ایک ہندسے میں رہتی تھی جس سے معمولی تنخواہی اضافے بھی معیار زندگی برقرار رکھنے کے لیے کافی ہوتے تھے۔
تاہم گزشتہ دہائی خصوصاً 2018 کے بعد سے ساختی مہنگائی نے جڑ پکڑ لی ہے جہاں قیمتیں مسلسل بڑھتی ہیں مگر آمدن اس رفتار کا ساتھ نہیں دے پاتی۔
معاشی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ موجودہ حالات میں صرف قوت خرید برقرار رکھنے کے لیے سالانہ تنخواہوں میں کم از کم 15 فیصد سے 25 فیصد تک اضافہ ناگزیر ہے۔
اس حد سے کم اضافہ درحقیقت اضافہ نہیں بلکہ خاموش تنخواہی کٹوتی ہے جو لاکھوں افراد کو مالی بحران کی طرف دھکیل رہی ہے۔
آمدن اور اخراجات کے درمیان بڑھتا ہوا فرق عوام میں شدید بے چینی اور مایوسی کو جنم دے رہا ہے۔
یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ کفایت شعاری صرف عوام پر مسلط کی جا رہی ہے جبکہ مراعات یافتہ طبقات، سیاستدان اور اعلیٰ بیوروکریسی بدستور قومی خزانے سے بے لگام فوائد حاصل کر رہے ہیں۔
اگر یہ عدم توازن برقرار رہا تو پاکستان کو بڑھتی ہوئی عدم مساوات، گرتی ہوئی پیداواری صلاحیت اور بڑھتے ہوئے سماجی انتشار جیسے خطرناک نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اب سوال صرف ریلیف کا نہیں بلکہ بقا کا ہے اور ذمہ داری براہ راست پالیسی سازوں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ نظام کے ٹوٹنے سے پہلے فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔