جیل سپرنٹنڈینٹ کے اکاؤنٹ میں

پانچ بینک اکاؤنٹس میں ایک ارب 15 کروڑ روپے:
گرفتار سابق جیل سپرنٹنڈنٹ کے اعترافِ جرم سے پنجاب جیل خانہ جات کی سب سے بڑی مبینہ کرپشن اسکینڈل کا انکشاف

سابق سی ای او حیدر چٹھہ کی رہائی کے لیے 50 لاکھ روپے رشوت لینے کا اعتراف، اینٹی کرپشن نے رپورٹ محکمہ داخلہ اور پنجاب جیل خانہ جات کو بھجوا دی، نئی ایف آئی آر کا امکان

رپورٹ: رانا تصدق حسین

گوجرانوالہ: پنجاب کے محکمہ جیل خانہ جات میں مبینہ طور پر سامنے آنے والے اب تک کے سب سے بڑے مالیاتی کرپشن اسکینڈل کا پردہ اس وقت چاک ہوگیا جب گرفتار سابق جیل سپرنٹنڈنٹ کے دورانِ تفتیش اہم انکشافات سامنے آئے، جبکہ تحقیقات کے دوران گزشتہ چند ماہ کے دوران پانچ بینک اکاؤنٹس میں مجموعی طور پر ایک ارب 15 کروڑ روپے کی خطیر رقوم کی منتقلی کا سراغ بھی مل گیا۔

سرکاری اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (ACE) کی رپورٹ کے مطابق گرفتار سابق جیل سپرنٹنڈنٹ نے دورانِ تفتیش اہم انکشافات کیے ہیں، جن کے بعد اینٹی کرپشن حکام نے باضابطہ طور پر اپنی رپورٹ محکمہ داخلہ پنجاب اور انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات کو بھجواتے ہوئے فوری محکمانہ اور قانونی کارروائی کی سفارش کی ہے۔

اینٹی کرپشن کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ گرفتار افسر کے ریکارڈ شدہ بیان اور سامنے آنے والے نئے شواہد کی بنیاد پر نئی ایف آئی آر درج کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

پانچ اکاؤنٹس میں ایک ارب 15 کروڑ روپے کا مالیاتی سراغ:

اینٹی کرپشن کے حاصل کردہ دستاویزات کے مطابق سابق جیل سپرنٹنڈنٹ کے زیرِ استعمال پانچ بینک اکاؤنٹس میں گزشتہ چند ماہ کے دوران مجموعی طور پر ایک ارب 15 کروڑ روپے کی رقوم منتقل ہوئیں۔

ذرائع کے مطابق تحقیقات کے دوران ان تمام بینک اکاؤنٹس کو منجمد کر دیا گیا ہے جبکہ ان میں ہونے والی تمام مالیاتی لین دین کی تفصیلات بھی محفوظ کرلی گئی ہیں۔

ایک BPS-18/19 افسر کے اکاؤنٹس میں اتنی بڑی رقوم کی موجودگی نے آمدن کے ذرائع، مبینہ کک بیکس، رشوت ستانی اور جیل کے نظام میں ممکنہ طور پر جاری منظم بھتہ خوری اور مالی بے ضابطگیوں کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

اینٹی کرپشن حکام اب اس بات کا تعین کر رہے ہیں کہ یہ رقوم کہاں سے آئیں، کن افراد یا اداروں سے وصول کی گئیں، کس مقصد کے لیے استعمال ہوئیں اور ان کے پیچھے مبینہ طور پر کون سا نیٹ ورک کام کر رہا تھا۔

رہائی کے لیے 50 لاکھ روپے رشوت لینے کا اعتراف:

تحقیقات میں ایک انتہائی اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب سابق جیل سپرنٹنڈنٹ نے اینٹی کرپشن کے سامنے ریکارڈ کیے گئے اپنے بیان میں سابق سی ای او کارپوریشن حیدر چٹھہ کی رہائی میں سہولت فراہم کرنے کے عوض 50 لاکھ روپے رشوت وصول کرنے کا اعتراف کیا۔

تحقیقاتی حکام کے مطابق گرفتار افسر کی جانب سے رشوت وصول کرنے کا اعتراف سامنے آچکا ہے، تاہم اس رقم کا اگلا مالیاتی سراغ تاحال سامنے نہیں آیا کہ مبینہ طور پر یہ رقم مزید کن افراد تک پہنچی۔

اینٹی کرپشن نے اب تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے مبینہ طور پر اس پورے نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ رشوت کی رقم کس کس شخص تک پہنچی اور غیر قانونی رہائی کے عمل میں مزید کون کون سے سہولت کار یا اہلکار ملوث تھے۔

محکمہ داخلہ اور جیل خانہ جات کو کارروائی کی سفارش:

گرفتار افسر کے انکشافات کے بعد اینٹی کرپشن حکام نے محکمہ داخلہ پنجاب اور پنجاب جیل خانہ جات کو رپورٹ بھجوا دی ہے اور متعلقہ افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی، مالیاتی جانچ پڑتال اور اندرونی آڈٹ شروع کرنے کی سفارش کی ہے۔

اعلیٰ حکام کے مطابق نئے شواہد کی روشنی میں تحقیقات آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ مزید گرفتاریاں، ریکوریز اور محکمانہ برطرفیوں کا امکان موجود ہے۔

تحقیقاتی حکام اس امر کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ پانچ بینک اکاؤنٹس میں موجود ایک ارب 15 کروڑ روپے اور مبینہ طور پر وصول کی گئی رشوت کے درمیان کوئی براہِ راست یا بالواسطہ تعلق موجود ہے یا نہیں۔

پنجاب جیل خانہ جات میں پہلے بھی سنگین الزامات سامنے آچکے ہیں

پنجاب کے جیل نظام میں بدعنوانی، بااثر قیدیوں کے لیے خصوصی سہولیات اور غیر قانونی سرگرمیوں کے الزامات ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

2019 میں لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب کی مختلف جیلوں میں وی آئی پی سیلز، مبینہ بھتہ خوری کے نیٹ ورکس اور غیر قانونی سہولیات کے معاملے پر ازخود نوٹس لیا تھا۔

اس سے قبل 2014 کی جیل اصلاحات کمیشن کی رپورٹ میں بھی قیدیوں کی درجہ بندی، معافیِ سزا (Remission) اور قبل از وقت رہائی کے معاملات میں بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی تھی، خصوصاً Good Conduct Prisoners Probation Release Act, 1926 کے تحت ہونے والی رہائیوں کے حوالے سے۔

انتظامی بے ضابطگی سے منظم مالیاتی جرم تک؟

قانونی ماہرین کے مطابق موجودہ کیس کی نوعیت اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے کہ اس میں محض انتظامی غفلت یا محکمانہ بے ضابطگی کے بجائے ایک ارب روپے سے زائد کے بینک ٹریل اور مبینہ رشوت ستانی کے شواہد سامنے آئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر تحقیقات میں بینک اکاؤنٹس، رشوت کی وصولی اور غیر قانونی رہائی کے درمیان تعلق ثابت ہوجاتا ہے تو معاملہ Prisons Act, 1894 کے تحت کارروائی کے علاوہ منظم مالیاتی جرم کے دیگر قانونی پہلوؤں تک بھی پھیل سکتا ہے۔

اینٹی کرپشن حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور جیسے جیسے مالیاتی ریکارڈ، بینک ٹرانزیکشنز اور گرفتار افسر کے بیان کی روشنی میں مزید شواہد سامنے آئیں گے، مزید گرفتاریوں اور ریکوریوں کا امکان موجود ہے۔

تحقیقاتی ادارہ اب مبینہ طور پر صرف ایک افسر کے خلاف کارروائی تک محدود رہنے کے بجائے اس پورے مالیاتی اور انتظامی نیٹ ورک کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہا ہے جس کے ذریعے جیل کے نظام میں مبینہ طور پر غیر قانونی رہائیوں، رشوت اور بھاری مالیاتی لین دین کو ممکن بنایا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں