گوجرانوالہ میں وزیر داخلہ کا بڑا ایکشن
*محسن نقوی کا گوجرانوالہ میں بڑا ایکشن – ریجنل پاسپورٹ آفس وقت سے پہلے بند کرنے پر پورا عملہ برطرف*
*از قلم: رانا تصدق حسین*
*گوجرانوالہ -* وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے گوجرانوالہ میں بڑی انتظامی کارروائی کرتے ہوئے ریجنل پاسپورٹ آفس گوجرانوالہ کے پورے عملے کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا حکم دے دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بدھ، 27 اگست 2026 کو وزارت داخلہ، حکومت پاکستان کے ماتحت کام کرنے والے ریجنل پاسپورٹ آفس گوجرانوالہ کا اچانک دورہ کیا۔
دورے کے دوران وزیر داخلہ نے جو صورتحال دیکھی وہ انتہائی تشویشناک تھی:
دفتری اوقات سے قبل دفتر بند: سرکاری شیڈول کے مطابق دفتر شام 4:30 بجے تک کھلا رہنا تھا، تاہم 4:00 بجے ہی اسے تالے لگا کر بند کر دیا گیا تھا۔ دفتر میں مکمل صفائی جاری تھی اور ہر طرف چھٹی کا سماں تھا۔
شہریوں کی تذلیل: پاسپورٹ کے اجراء اور دیگر خدمات کے لیے آنے والے شہریوں کو اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی۔ دفتری اوقات کے باوجود انہیں گیٹ سے ہی واپس لوٹایا جا رہا تھا۔
عملہ غائب: معائنہ کے دوران پورے دفتر میں صرف ایک ملازم موجود پایا گیا۔ وہ ملازم بھی وزیر کے سوالات، قبل از وقت بندش، عملے کی غیر حاضری اور عوام کو داخلے سے روکنے کے حوالے سے کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکا۔
شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے محسن نقوی نے سوال کیا، “جب دفتر کا وقت 4:30 بجے تک ہے تو اسے 4:00 بجے کیوں تالا لگایا گیا ہے؟ کیا سرکاری دفاتر اس طرح چلائے جاتے ہیں؟”
عوامی خدمت کی فراہمی میں غفلت کا سخت نوٹس لیتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے فوری احکامات جاری کیے:
ڈیوٹی پر موجود تمام عملے کو فوری طور پر ان کے موجودہ عہدوں سے ہٹا دیا جائے۔
تمام ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف تادیبی کارروائی کا آغاز کیا جائے۔
قبل از وقت بندش اور بدانتظامی کی ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے باضابطہ انکوائری کی جائے۔
وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ عوام کو خدمات کی فراہمی میں غفلت پر زیرو ٹالرنس ہوگی اور عوامی سہولت کے لیے قائم کردہ سرکاری دفاتر کو اپنے مقررہ اوقات کار کے دوران مکمل طور پر فعال رہنا چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ شہریوں کو بغیر سنے واپس جانے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔
انکوائری رپورٹ کے بعد مزید کارروائی متوقع ہے۔