این ایچ اے خود مختاری امدن قومی اثاثوں کے تحفظ ہر سوالات
*رائٹ سائزنگ یا پارلیمانی اختیار سے تجاوز؟*
*دو سرکاری مراسلوں نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے قانونی تشخص، خودمختاری، آمدن اور قومی اثاثوں کے تحفظ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے*
*تحریر: رانا تصدق حسین*
*اسلام آباد —* وفاقی حکومت کے ادارہ جاتی اصلاحاتی سیل، کابینہ ڈویژن اور وزارتِ مواصلات کی جانب سے وفاقی حکومت کی رائٹ سائزنگ کمیٹی کی تیسرے اور چوتھے مرحلے کی سفارشات پر عملدرآمد کے منصوبے طلب کرنے والے دو مراسلوں نے ایک بنیادی سوال کو جنم دیا ہے: کیا ایک انتظامی ہدایت پارلیمان کے منظور کردہ قانون پر بالادست ہو سکتی ہے؟
*ادارہ جاتی اصلاحاتی سیل کا مراسلہ نمبر ایف نمبر 1(202)/2024/آئی آر سی (فیز سوم و چہارم)، مورخہ 13 اپریل 2026ء کابینہ کی 26 مارچ 2026ء کی سمری پر غور اور متعلقہ سفارشات کی منظوری کا حوالہ دیتے ہوئے متعلقہ وزارتوں اور اداروں سے عملدرآمد کا منصوبہ طلب کرتا ہے،* جبکہ *وزارتِ مواصلات کے مراسلہ نمبر ایف نمبر 10(12)*/2025-انتظامیہ کے ذریعے نیشنل ہائی وے اتھارٹی سمیت متعلقہ اداروں سے ایسے منصوبے طلب کیے گئے۔
*مگر اصل قانونی نکتہ واضح ہے:*
کوئی سرکاری مراسلہ پارلیمان کے منظور کردہ قانون کا متبادل نہیں ہو سکتا۔
نیشنل ہائی وے اتھارٹی قومی شاہراہ اتھارٹی ایکٹ 1991ء کے تحت قائم ایک قانونی ادارہ ہے، جبکہ بعد ازاں اس کے قانونی ڈھانچے کو ریاستی ملکیتی اداروں سے متعلق قانون کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا۔ چنانچہ کابینہ، وزارت، اصلاحاتی سیل یا کوئی انتظامی کمیٹی صرف وہی اختیار استعمال کر سکتی ہے جو آئین اور قانون اسے دیتے ہیں۔
محض انتظامی خط و کتابت کے ذریعے کسی پارلیمانی قانون میں ترمیم، قانونی اختیارات کا خاتمہ، قانونی فرائض کی منتقلی، ادارے کے تشخص میں بنیادی تبدیلی یا قومی اثاثوں کے تصرف کی اجازت نہیں دی جا سکتی، جہاں قانون نے اس کے لیے مخصوص قانونی یا پارلیمانی طریقہ مقرر کر رکھا ہو۔
ریاستی ملکیتی اداروں کا قانون وزارت کی ملکیت کا پروانہ نہیں
ریاستی ملکیتی اداروں سے متعلق قانون کا مقصد بہتر انتظام، شفافیت، کارکردگی، مالی نظم و ضبط اور احتساب ہے۔ اس قانون کو کسی خودمختار قانونی ادارے کو وزارت کے عام ذیلی دفتر میں تبدیل کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو حکومت پہلے ہی اہم ریاستی ملکیتی ادارہ قرار دے چکی ہے۔ لہٰذا اس کے قانونی تشخص، افعال، افرادی قوت، آمدنی یا اثاثوں سے متعلق کسی بھی اقدام کی قانونی حیثیت واضح ہونا ناگزیر ہے۔
اگر رائٹ سائزنگ کی کوئی سفارش نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے قانونی ڈھانچے میں تبدیلی چاہتی ہے تو پارلیمان سے رجوع کرنا ہوگا۔ عملدرآمد کا منصوبہ قانون سازی کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔
*نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی رائٹ سائزنگ کون کر رہا ہے؟*
معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے مبینہ طور پر فیروگوسان نامی کمپنی کو رائٹ سائزنگ منصوبہ تیار کرنے کا کام دیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق کمپنی مطلوبہ منصوبہ مکمل کیے بغیر بھاری رقم کا بل پیش کرکے کام چھوڑ گئی۔
اس کے باوجود اب مبینہ طور پر ایک نیا عمل منصور اعظم، گریڈ 20، پاکستان آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سروس؛ حرا رضوان، گریڈ 18، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس؛ اور انصار، گریڈ 17، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ذریعے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
ان افسران کی تعیناتی، اختیارات، ذمہ داریاں، دائرۂ کار اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے قانونی و ریاستی ملکیتی ادارے کے مینڈیٹ سے ان کا تعلق واضح کیا جانا چاہیے۔
کسی خودمختار قانونی ادارے کے مستقبل کا فیصلہ ایسے انتظامی انتظام کے ذریعے نہیں ہونا چاہیے جس کی قانونی بنیاد ہی واضح نہ ہو۔
*قومی شاہراہ کونسل — نگرانی یا محض منظوری کی مہر؟*
قومی شاہراہ کونسل کی موجودہ تشکیل بھی فوری جائزے کی متقاضی ہے۔
اگر کونسل کے ارکان سیاسی بنیادوں پر منتخب یا وزیرِ مواصلات عبدالعلیم خان کی پسند و نامزدگی کے تحت مقرر کیے گئے ہیں تو ان کی اہلیت، سابقہ کارکردگی، حاضری، فیصلوں اور ادارے کو فراہم کردہ عملی خدمات کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جانا چاہیے۔
قومی شاہراہ کونسل کسی شخصیت یا وزارت کی خواہشات پر مہر تصدیق ثبت کرنے والا ادارہ نہیں ہو سکتی۔
جو ارکان اپنی ذمہ داریاں مؤثر طور پر ادا کرنے میں ناکام رہے ہوں، ان کی تقرریوں کا قانون کے مطابق جائزہ لیا جائے اور نااہل یا غیر مؤثر ارکان کو تبدیل کیا جائے۔
نگرانی کا ادارہ ربڑ اسٹیمپ بن جائے تو احتساب کا پورا ڈھانچہ بے معنی ہو جاتا ہے۔
*آمدنی، اثاثے اور انتظامی اختیارات — اصل سوال*
رائٹ سائزنگ کی اس کارروائی کے ساتھ کیریک سے متعلق حالیہ تحقیقات، ٹول پلازہ اسکینڈل، تاریخی جنرل پوسٹ آفس کی عمارت کو مبینہ طور پر نجی ریسٹورنٹ کے لیے تجارتی استعمال میں دینے، ایم ون کے سروس ایریاز کے معاملات اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ایم ون کے ایک مینٹیننس یونٹ/سروس ایریا کو مبینہ طور پر نجی ادارے کے حوالے کرکے سیاحتی تفریح گاہ میں تبدیل کرنے جیسے معاملات بھی جواب طلب ہیں۔
ان معاملات کو محض الزامات کے طور پر نہیں بلکہ دستاویزی تحقیقات کے ذریعے پرکھنے کی ضرورت ہے۔
*اور سب سے بنیادی سوال:*
سیکریٹری مواصلات کا نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی آمدنی سے کیا تعلق ہے؟
اگر وزارتِ مواصلات یا سیکریٹری مواصلات کو نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے آمدنی پیدا کرنے والے معاملات میں کوئی قانونی اختیار حاصل ہے تو متعلقہ قانونی شق سامنے لائی جائے۔
اگر کسی افسر یا فرد پر آمدنی، تجارتی رعایتوں، اثاثوں یا انتظامی فیصلوں میں قانونی اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے اثرانداز ہونے کا الزام ہے تو متعلقہ فائلیں حقیقت واضح کریں۔
*تقرریاں اور تبادلے بھی سوالیہ نشان*
نیشنل ہائی وے اتھارٹی میں تقرریوں اور تبادلوں کو مبینہ طور پر خرید و فروخت سے جوڑنے والے الزامات کہیں زیادہ سنگین ہیں۔
اگر کسی افسر کو اچانک عہدے سے ہٹایا جائے اور بعدازاں کسی مبینہ معاملے کی تکمیل کے بعد اسی عہدے یا اسی نوعیت کی ذمہ داری پر واپس لایا جائے تو تبادلے کے احکامات، فائلوں کی منظوری، نوٹنگ اور مالی شواہد سے حقیقت سامنے لائی جا سکتی ہے۔
الزام کو ثبوت کے بغیر جرم قرار نہیں دیا جا سکتا، لیکن قابلِ اعتبار الزام کو صرف خاموشی کے ذریعے ختم بھی نہیں کیا جا سکتا۔
*قومی اثاثے کس کے لیے؟*
تاریخی سرکاری عمارتیں، شاہراہوں کے سروس ایریاز، مینٹیننس یونٹس، اراضی، تجارتی مقامات اور دیگر اثاثے کسی افسر، وزارت یا سیاسی شخصیت کی ذاتی ملکیت نہیں۔
*یہ پاکستان کے عوام کی ملکیت ہیں۔*
اگر کسی اثاثے کو تجارتی استعمال کے لیے دیا گیا ہے تو عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کی مالیت کیا تھی، نیلامی کیسے ہوئی، معاہدہ کس نے منظور کیا، ریاست کو کتنی آمدنی حاصل ہوئی اور فیصلہ کس قانونی اختیار کے تحت کیا گیا۔
*قائمہ کمیٹی اب کیا کرے؟*
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کو چاہیے کہ دونوں مراسلوں، کابینہ کی اصل سمری، رائٹ سائزنگ کی مکمل سفارشات، نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے عملدرآمدی منصوبے، متعلقہ تعیناتی احکامات، اختیارات اور اثاثوں سے متعلق تمام معاملات کا ریکارڈ طلب کرے اور انہیں قومی شاہراہ اتھارٹی ایکٹ 1991ء، ریاستی ملکیتی اداروں سے متعلق قانون اور دیگر قابلِ اطلاق قوانین کی روشنی میں پرکھے۔
قومی احتساب بیورو، وفاقی تحقیقاتی ادارہ، آڈیٹر جنرل اور دیگر متعلقہ اداروں کو بھی جہاں شواہد موجود ہوں وہاں قومی اثاثوں، آمدنی، خریداری، معاہدوں اور انتظامی فیصلوں کی آزادانہ جانچ کرنی چاہیے۔
*قلم کا فرض — خاموشی نہیں،*
*سوال:*
صحافت کا فرض کسی کو ثبوت کے بغیر مجرم قرار دینا نہیں؛ مگر اقتدار سے وہ سوال پوچھنا ضرور ہے جنہیں پوچھنے سے طاقتور حلقے گریز کرتے ہیں۔
اگر سب کچھ قانون کے مطابق ہے تو دستاویزات سب کو مطمئن کر دیں گی۔
اگر کہیں قانون شکنی ہوئی ہے تو ذمہ داری کا تعین ہونا چاہیے۔
*کیونکہ:*
نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی آمدنی عوام کا پیسہ ہے، اس کے اثاثے قومی ملکیت ہیں اور اس کا قانونی مینڈیٹ کسی انتظامی مراسلے سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
ایک سرکاری مراسلہ عملدرآمد کا منصوبہ طلب کر سکتا ہے؛ مگر وہ پارلیمان کا قانون نہیں بن سکتا۔
اب اصل امتحان حکومت کا نہیں، قانون کی بالادستی، پارلیمانی نگرانی اور قومی مفاد کے محافظ اداروں کا ہے۔
*اگر وہ واقعی پاکستان کی فکر رکھتے ہیں تو قلم کو اپنا فرض ادا کرنا ہوگا، اداروں کو اپنا اور پارلیمان کو اپنا اختیار۔*