سپریم کورٹ کا حکم نظر ثانی کا تازہ چیلنج
*عمران خان کے ہسپتال منتقلی کے معاملے نے مساوی انصاف، عدالتی اختیار اور قیدیوں کے طبی حقوق کا بڑا سوال اٹھا دیا*
*حکومت کا سپریم کورٹ کے نجی ہسپتال منتقلی کے حکم پر نظرثانی کا تازہ چیلنج، عمران خان کو شفا کے بجائے پمز لے جایا گیا، طبی طور پر فٹ قرار دے کر اڈیالہ واپس منتقل، ملک بھر کے قیدیوں کے لواحقین کا یکساں طبی سہولیات کے لیے واضح آئینی فیصلے کا مطالبہ*
*تحریر :رانا تصدق حسین*
*اسلام آباد:* پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کو اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے نجی ہسپتال شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم پر پیدا ہونے والا تنازع جمعہ کے روز مزید سنگین اور وسیع تر آئینی و قانونی بحث میں تبدیل ہوگیا۔ ایک جانب حکومت نے مذکورہ حکم کو قانونی و آئینی اعتبار سے ناقص اور امتیازی قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں تازہ نظرثانی درخواست دائر کردی، دوسری جانب عمران خان کو شفا انٹرنیشنل کے بجائے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز یعنی پمز لے جایا گیا، جہاں ماہر ڈاکٹروں نے ان کا طبی معائنہ کیا اور حکومت کے مطابق انہیں طبی طور پر فٹ قرار دے کر صبح تقریباً پانچ بجے دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔
اسی دوران ملک بھر کی مختلف جیلوں میں قید افراد کے لواحقین نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر عمران خان کو طبی ضرورت کی بنیاد پر خصوصی ماہرین سے معائنہ، علاج اور مناسب طبی سہولت حاصل کرنے کا قانونی و آئینی حق حاصل ہے تو یہی حق پاکستان کی ہر جیل میں قید ہر ایسے شخص کو بھی بلاامتیاز حاصل ہونا چاہیے جسے اس کی طبی حالت کے مطابق خصوصی علاج درکار ہو۔
قیدیوں کے لواحقین نے وفاقی آئینی عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے پر ایک واضح، جامع اور قابل اطلاق فیصلہ صادر کیا جائے تاکہ کسی قیدی کو سیاسی وابستگی، عہدے، شہرت، مالی حیثیت یا اثر و رسوخ کی بنیاد پر ترجیح نہ ملے، تاہم کسی عام قیدی کو محض اس وجہ سے ضروری طبی علاج سے بھی محروم نہ رکھا جائے کہ وہ سیاسی طور پر بااثر یا معروف نہیں۔
*یوں عمران خان کا ہسپتال منتقلی کا معاملہ اب محض ایک قیدی کے علاج یا ایک ہسپتال تک محدود نہیں رہا بلکہ مساوی انصاف، قیدیوں کے بنیادی حقوق، عدالتی اختیار، جیل انتظامیہ، حکومتی اختیارات اور طبی سہولیات تک مساوی رسائی کا ایک وسیع تر آئینی سوال بن چکا ہے۔*
جمعہ کے روز کے اقدامات نے معاملے کی نوعیت بدل دی
جمعہ کے روز سب سے اہم پیش رفت اسلام آباد کے چیف کمشنر کی جانب سے سپریم کورٹ میں تازہ نظرثانی درخواست دائر کرنا ہے۔ اس سے قبل حکومت کی نظرثانی درخواست سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے بعض اعتراضات کے باعث واپس کردی تھی، جس میں حلف نامے، حقائق کی پیش کش اور پیپر بکس سے متعلق اعتراضات شامل تھے۔
رجسٹرار آفس نے حکومت کو ہدایت کی تھی کہ اعتراضات دور کرکے درخواست دوبارہ دائر کی جائے۔
تازہ درخواست سے واضح ہوگیا ہے کہ حکومت معاملے کو محض دفتری یا طریقہ کار کی سطح پر ختم کرنے کے بجائے سپریم کورٹ کے سامنے اس کے بنیادی قانونی نکات پر باقاعدہ بحث کرنا چاہتی ہے۔
اسی دوران عمران خان کو 20 اور 21 اگست کی درمیانی شب شفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز لے جایا گیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے مطابق ان کا معائنہ آنکھوں کے ماہر، ماہر امراض قلب اور فزیشن سمیت ماہر ڈاکٹروں نے کیا اور انہیں طبی طور پر فٹ قرار دیا گیا۔
*حکومت کے مطابق عمران خان کو صبح تقریباً پانچ بجے دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔*
عطا تارڑ نے یہ بھی بتایا کہ شفا انٹرنیشنل کے ڈاکٹرز پمز میں ہونے والے طبی معائنے میں موجود تھے جبکہ عمران خان کی ہمشیرہ عظمیٰ خان بھی معائنے کے دوران موجود رہیں۔
حکومت کے مطابق شفا انٹرنیشنل منتقل نہ کرنے کا فیصلہ سکیورٹی خدشات کے باعث کیا گیا کیونکہ شفا ہسپتال کے اطراف اور راستے میں تحریک انصاف کے کارکنوں کی موجودگی کے باعث سکیورٹی صورتحال پیچیدہ ہوگئی تھی۔
تحریک انصاف نے حکومت کے اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر مکمل عمل نہیں کیا گیا کیونکہ عدالت نے مخصوص طور پر شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کی ہدایت کی تھی۔
*سپریم کورٹ کا حکم شفا انٹرنیشنل کے لیے تھا*
*یہ نکتہ اس پورے تنازع کا مرکزی قانونی پہلو بن چکا ہے۔*
سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم میں عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے، ماہر ڈاکٹروں سے معائنہ اور علاج کرانے کے لیے طبی انتظامات کی ہدایت کی گئی تھی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اسے عمران خان کے طبی علاج پر کوئی اعتراض نہیں اور نہ ہی حکومت نے ضروری علاج کی مخالفت کی ہے۔
اس کا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ ایک سزا یافتہ قیدی کو عدالتی حکم کے ذریعے نجی ہسپتال منتقل کرنے کا راستہ اختیار کیا گیا، جبکہ قیدیوں کے طبی علاج اور جیل سے باہر ہسپتال منتقل کرنے کے لیے پہلے سے باقاعدہ قانونی اور انتظامی طریقہ کار موجود ہے۔
یوں اصل قانونی سوال یہ بن گیا ہے کہ کیا ایک قیدی کا مناسب طبی علاج حاصل کرنے کا حق اسے اپنی پسند کے نجی ہسپتال میں علاج کرانے کا بھی خودکار حق دیتا ہے، یا جیل انتظامیہ اور ریاست کو طبی ضرورت، سکیورٹی اور دستیاب سہولیات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہسپتال کے انتخاب کا اختیار حاصل ہے؟
*حکومت کی تازہ نظرثانی درخواست میں بنیادی قانونی اعتراضات*
*اسلام آباد کے چیف کمشنر کی جانب سے دائر تازہ نظرثانی درخواست آئین کے آرٹیکل 188 اور سپریم کورٹ رولز 2025 کے آرڈر 28 کے رولز 1 اور 2 کے تحت دائر کی گئی ہے۔*
*درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 18 اگست کا حکم بنیادی قانونی اور طریقہ کار کی خامی کا شکار ہے کیونکہ ایک سزا یافتہ قیدی کو ہسپتال منتقل کرنے کے لیے مقررہ قانونی طریقہ کار کو نظرانداز کیا گیا۔*
حکومت کے مطابق یہ بنیادی قانونی خامی حکم پر نظرثانی کی متقاضی ہے۔
*درخواست میں پاکستان پریزن رولز 1978 کے رول 197 کا بھی حوالہ دیا گیا ہے اور مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جیل قوانین میں قیدیوں کے علاج، معائنے اور ضرورت پڑنے پر جیل سے باہر ہسپتال منتقل کرنے کا باقاعدہ طریقہ موجود ہے۔*
*حکومت کے مطابق قیدیوں کے علاج کے لیے جیل ہسپتال اور ضرورت کے مطابق سول یا ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں علاج کا قانونی بندوبست موجود ہے اور اس عمل کے لیے مخصوص حفاظتی و انتظامی شرائط بھی مقرر ہیں۔*
*حکومت کا سب سے اہم نکتہ:*
*مساوی سلوک*
حکومت نے اپنی نظرثانی درخواست میں معاملے کو محض جیل انتظامیہ کا مسئلہ قرار دینے کے بجائے مساوی سلوک اور قانون کی نظر میں برابری کا سوال بھی قرار دیا ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اگر عمران خان کو خصوصی عدالتی حکم کے تحت نجی ہسپتال منتقل کیا جاسکتا ہے تو دیگر اسی نوعیت کے قیدی بھی یہی سہولت طلب کرسکتے ہیں۔
اگر ایک قیدی کو اپنی پسند کے نجی ہسپتال میں علاج کی اجازت دی جائے تو پھر لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، ملتان، سکھر یا ملک کی کسی بھی دوسری جیل میں موجود کسی دوسرے قیدی کو اسی نوعیت کی درخواست دینے سے روکنے کی قانونی بنیاد کیا ہوگی؟
حکومت نے اسی خدشے کو سامنے رکھتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس نوعیت کا حکم دیگر قیدیوں کی جانب سے اسی طرح کے ریلیف کے مطالبات کا دروازہ کھول سکتا ہے۔
*عام قیدیوں کے لواحقین نے بھی برابری کا سوال اٹھا دیا*
اس تنازع کا سب سے اہم نیا پہلو ملک بھر میں قید عام قیدیوں کے لواحقین کی جانب سے سامنے آیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان کو طبی ضرورت کے مطابق ماہر ڈاکٹروں سے معائنہ، خصوصی علاج اور مناسب ہسپتال تک رسائی کا حق حاصل ہے تو یہی حق کسی بھی دوسرے قیدی کو بھی حاصل ہونا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی آئینی عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے پر واضح اور قابل عمل اصول وضع کیا جائے تاکہ ملک کی تمام جیلوں میں قید افراد کے طبی حقوق کے بارے میں کوئی ابہام باقی نہ رہے۔
*ان لواحقین کا کہنا ہے کہ ان کا مطالبہ عمران خان کو خصوصی رعایت دینے کا نہیں بلکہ ہر قیدی کو یکساں قانونی تحفظ فراہم کرنے کا ہے۔*
*ان کے مطابق نہ عمران خان کو سیاسی حیثیت کی بنیاد پر اضافی سہولت ملنی چاہیے اور نہ ہی کسی عام قیدی کو سیاسی عدم اہمیت، غربت، وسائل کی کمی یا کمزور قانونی نمائندگی کے باعث ضروری علاج سے محروم کیا جانا چاہیے۔*
*مساوی علاج کا مطلب ایک جیسا علاج نہیں*
قیدیوں کے طبی حقوق سے متعلق اس بحث میں ایک بنیادی فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔
قانون کے سامنے برابری کا مطلب یہ نہیں کہ ہر قیدی کو اس کی طبی حالت سے قطع نظر بالکل ایک ہی علاج دیا جائے۔
ایک قیدی کو آنکھوں کے ماہر کی ضرورت ہوسکتی ہے، دوسرے کو امراض قلب کے ماہر کی، تیسرے کو سرجری اور چوتھے کو کسی مخصوص نفسیاتی یا دیگر طبی ماہر کی ضرورت ہوسکتی ہے۔
اس لیے مساوی سلوک کا منطقی مطلب یہ ہے کہ ہر قیدی کو اس کی حقیقی طبی ضرورت کے مطابق مناسب اور ضروری علاج تک یکساں رسائی حاصل ہو۔
اصولی طور پر کسی قیدی کو صرف اس کے سیاسی یا سماجی مرتبے کی وجہ سے اضافی طبی سہولت نہیں ملنی چاہیے، لیکن کسی عام قیدی کو محض اس لیے ضروری علاج سے بھی محروم نہیں کیا جاسکتا کہ وہ معروف یا بااثر نہیں۔
*جیل قوانین کا مقصد کیا ہے؟*
حکومت کی نظرثانی درخواست میں پاکستان پریزن رولز پر انحصار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ قیدیوں کی زندگی اور معمولات کو قانون کے تحت منظم کرنے کا بنیادی مقصد ان کی حفاظت، جیل کے نظم و ضبط اور بیرونی اثرات سے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ نجی ہسپتالوں سے غیر محدود رابطے کی اجازت قیدیوں کو مختلف بیرونی عوامل کے سامنے لاسکتی ہے اور جیل انتظامیہ کے لیے سکیورٹی اور نظم و ضبط کے مسائل پیدا کرسکتی ہے۔
تاہم دوسری جانب یہ بنیادی اصول بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ جیل قوانین ریاست کو قیدی کو ضروری طبی علاج سے محروم رکھنے کا اختیار نہیں دیتے۔
ریاست جب کسی شخص کو اپنی تحویل میں لیتی ہے تو اس کی بنیادی صحت اور حفاظت کی ذمہ داری بھی ریاست ہی پر عائد ہوتی ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ آیا موجودہ جیل نظام ہر طبی صورتحال میں مطلوبہ علاج فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اگر کسی مخصوص صورت میں جیل یا سرکاری طبی نظام میں مطلوبہ سہولت دستیاب نہ ہو تو قانون کے تحت متبادل راستہ کیا ہوگا۔
ضابطہ فوجداری کی دفعہ 561 اے بھی زیر بحث
حکومت نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 561 اے کے تحت حاصل اختیارات کے استعمال پر بھی اعتراض اٹھایا ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ اس دفعہ کے تحت حاصل اختیارات کو جیل انتظامیہ سے متعلق مخصوص قانونی طریقہ کار کو نظرانداز کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
نظرثانی درخواست میں پریزنز ایکٹ 1894، پریزنرز ایکٹ 1900 اور پاکستان پریزن رولز 1978 کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جیل انتظامیہ سے متعلق معاملات کے لیے قانون میں مخصوص طریقہ کار موجود ہے۔
اگر عدالت نے اس مؤقف کو تسلیم کیا تو مستقبل میں جیل انتظامیہ کے معاملات میں عدالتی مداخلت کی حدود زیادہ واضح ہوسکتی ہیں۔
دوسری جانب اگر عدالت اس کے برعکس اصول وضع کرتی ہے تو یہ قرار دیا جاسکتا ہے کہ جب عام قانونی طریقہ کار کسی قیدی کے بنیادی حقوق کے مؤثر تحفظ میں ناکام ہو تو عدالت اپنے آئینی اور قانونی اختیارات استعمال کرسکتی ہے۔
فریق متعلقہ کو سنے بغیر حکم جاری ہونے کا اعتراض
حکومت نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ 18 اگست کے حکم سے براہ راست متاثر ہونے والے اسلام آباد کے چیف کمشنر اور انتظامیہ کو کیا حکم جاری ہونے سے قبل مؤثر طور پر سنا گیا تھا۔
حکومت کے مطابق حکم کے نتیجے میں اسلام آباد انتظامیہ پر سکیورٹی اور انتظامی ذمہ داریاں عائد ہوتی تھیں، اس لیے متعلقہ اتھارٹی کو مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے تھا۔
یہ اعتراض آئین میں دیے گئے منصفانہ سماعت اور مناسب قانونی کارروائی کے اصول سے بھی جڑا ہوا ہے۔
رجسٹرار آفس کے اعتراضات نے حکومت کی قانونی کوشش ختم نہیں کی
حکومت کی پہلی نظرثانی درخواست سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے 20 اگست کو بعض اعتراضات کے باعث واپس کی تھی۔
اعتراضات میں حلف نامے، حقائق کی درست انداز میں پیش کش اور پیپر بکس سے متعلق امور شامل تھے۔
حکومت کو اعتراضات دور کرکے درخواست دوبارہ دائر کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
اس درخواست کی واپسی کو حکومت کے قانونی مؤقف پر عدالتی فیصلہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
جمعہ کو تازہ درخواست دائر کیے جانے سے واضح ہے کہ حکومت اصل قانونی نکات پر سپریم کورٹ سے باقاعدہ فیصلہ چاہتی ہے۔
پمز منتقلی نے ایک نیا قانونی محاذ کھول دیا
جمعہ کی رات عمران خان کو پمز منتقل کرنے اور پھر اڈیالہ واپس لے جانے کے واقعے نے تنازع میں ایک نیا پہلو شامل کردیا ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ عمران خان کو ماہر ڈاکٹروں کے معائنے کی سہولت فراہم کرکے عدالتی حکم کی روح کے مطابق طبی انتظام کیا گیا۔
تحریک انصاف اور عمران خان کے اہل خانہ کا مؤقف ہے کہ عدالت نے شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کی واضح ہدایت کی تھی، اس لیے پمز لے جانا اور چند گھنٹوں بعد واپس جیل منتقل کرنا حکم پر مکمل عمل درآمد نہیں۔
*یوں اب دو بنیادی سوالات عدالت کے سامنے آسکتے ہیں:*
کیا 18 اگست کا نجی ہسپتال منتقلی کا حکم نظرثانی کے ذریعے واپس یا تبدیل کیا جانا چاہیے؟
اور کیا پمز میں معائنہ اور بعد ازاں اڈیالہ منتقلی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کے عدالتی حکم پر مکمل عمل درآمد تصور کیا جاسکتا ہے؟
سکیورٹی جواز کی آزادانہ جانچ بھی ضروری
حکومت نے شفا انٹرنیشنل منتقل نہ کرنے کی بنیادی وجہ سکیورٹی خدشات کو قرار دیا ہے۔
اگر واقعی خفیہ اطلاعات یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی رپورٹس کی بنیاد پر شفا ہسپتال منتقل کرنا خطرناک سمجھا گیا تھا تو ان خدشات کی نوعیت، متعلقہ ادارے کی سفارش اور فیصلے کی قانونی بنیاد بھی اس تنازع میں اہم ہوسکتی ہے۔
تاہم محض سیاسی بیانات کی بنیاد پر کسی سکیورٹی دعوے کو حتمی حقیقت نہیں سمجھا جاسکتا۔
اسی طرح کسی طبی ادارے یا اس سے وابستہ افراد کے بارے میں سیاسی وابستگی یا سکیورٹی سے متعلق الزامات بھی قابل اعتماد شواہد کے بغیر حتمی حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیے جاسکتے۔
شفا انٹرنیشنل کی ادارہ جاتی غیر جانب داری پر بھی سوالات
دوسری جانب شفا انٹرنیشنل ہسپتال کی ادارہ جاتی غیر جانب داری سے متعلق بھی بعض الزامات اور سوالات سامنے آئے ہیں، جن میں یہ دعویٰ بھی شامل ہے کہ ادارے سے وابستہ بعض طبی ماہرین سیاسی وابستگی یا ہمدردی رکھتے ہیں۔
تاہم دستیاب مواد میں ان الزامات کی آزادانہ اور قابل اعتماد تصدیق موجود نہیں اور انہیں حتمی حقیقت قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
اسی طرح کسی ہسپتال کو کسی مخصوص نسلی یا قومی گروہ کا مرکز قرار دینے کے دعوے کو بھی انتہائی احتیاط سے دیکھا جانا چاہیے۔ کسی ڈاکٹر کی قومیت، نسل، علاقائی تعلق یا پیشہ ورانہ وابستگی بذات خود سیاسی وابستگی، پیشہ ورانہ بدعنوانی یا سکیورٹی خطرے کا ثبوت نہیں ہوسکتی۔
اگر کسی مخصوص ڈاکٹر یا طبی ماہر کے بارے میں سیاسی سرگرمی، مفادات کے ٹکراؤ، قانون شکنی یا سکیورٹی سے متعلق کوئی باقاعدہ شکایت، انٹیلی جنس رپورٹ یا قانون نافذ کرنے والے ادارے کا قابل اعتماد ان پٹ موجود ہے تو اس کی آزادانہ اور شواہد کی بنیاد پر تحقیقات متعلقہ مجاز اداروں کو کرنی چاہئیں۔
اصل تحقیق کا محور یہ ہونا چاہیے کہ کیا کسی بھی منتخب طبی ادارے میں عمران خان کو آزادانہ، شفاف، ماہر اور پیشہ ورانہ طور پر جواب دہ علاج فراہم کیا جاسکتا ہے اور کیا یہی معیار پاکستان کے ہر قیدی کے لیے بھی دستیاب ہوگا؟
طبی طور پر فٹ قرار دینا قانونی تنازع ختم نہیں کرتا
حکومت نے عمران خان کو طبی طور پر فٹ قرار دیے جانے کو اہم قرار دیا ہے۔
تاہم طبی طور پر فٹ قرار دینا پورے قانونی تنازع کو خود بخود ختم نہیں کرتا۔
ایک قیدی کسی خاص وقت پر طبی طور پر مستحکم یا فٹ ہوسکتا ہے لیکن اس کے باوجود اسے کسی مستقل بیماری کے باعث مسلسل نگرانی یا علاج کی ضرورت ہوسکتی ہے۔
اسی طرح پمز میں کیا گیا طبی معائنہ طبی لحاظ سے مناسب ہوسکتا ہے، لیکن اس کے باوجود یہ الگ قانونی سوال برقرار رہتا ہے کہ آیا یہ اقدام اس عدالتی حکم کے مطابق تھا جس میں شفا انٹرنیشنل کا نام لیا گیا تھا۔
اس لیے طبی صحت، علاج کا معیار اور عدالتی حکم پر عمل درآمد تین الگ الگ سوالات ہیں۔
دائیں آنکھ کی بیماری بھی تنازع کا اہم پس منظر
عمران خان کی صحت سے متعلق حالیہ تنازع میں ان کی دائیں آنکھ کی بیماری مرکزی حیثیت رکھتی ہے جسے سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن، یعنی سی آر وی او، قرار دیا گیا ہے۔
*اس سے قبل بھی انہیں آنکھ کے علاج کے لیے پمز لے جایا جاچکا ہے۔*
حکومت کا کہنا ہے کہ جب بھی ضرورت ہوئی انہیں مناسب طبی سہولیات فراہم کی گئیں اور آئندہ بھی فراہم کی جائیں گی۔
دوسری جانب تحریک انصاف اور عمران خان کے اہل خانہ علاج کے انتظامات کی شفافیت، مناسبیت اور آزادی پر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔
متضاد دعووں کے باعث ایسے معاملات کے لیے ایک آزاد، ماہر طبی اور شفاف قانونی نظام وضع کرنے کی ضرورت مزید نمایاں ہوگئی ہے۔
*عام قیدیوں کے لواحقین کا مطالبہ فیصلہ کن بن سکتا ہے*
*پاکستان کی مختلف جیلوں میں قید افراد کے اہل خانہ کے لیے اس پورے تنازع کا بنیادی سوال انتہائی سادہ ہے:*
*اگر کسی قیدی کو سنگین طبی مسئلہ درپیش ہو تو کیا ماہر علاج تک اس کی رسائی اس کی شناخت اور حیثیت پر منحصر ہونی چاہیے؟*
لواحقین کا مطالبہ ہے کہ عدالت واضح کرے کہ کسی قیدی کو صرف اس لیے ضروری طبی علاج سے محروم نہیں کیا جاسکتا کہ وہ سیاسی طور پر بااثر، معروف یا مالی طور پر مستحکم نہیں۔
وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ اگر کسی مخصوص طبی بیماری کے لیے مطلوبہ ماہر یا سہولت سرکاری ہسپتال یا جیل کے طبی نظام میں دستیاب نہ ہو تو نجی ہسپتال سے علاج کی اجازت کے لیے واضح، شفاف اور یکساں معیار مقرر کیا جائے۔
ایسا نظام ایک طرف بااثر قیدیوں کے لیے خصوصی طبی راستہ بننے سے روک سکتا ہے اور دوسری جانب عام قیدیوں کو طبی غفلت سے تحفظ دے سکتا ہے۔
*پورے ملک کے قیدیوں کے لیے ممکنہ تاریخی فیصلہ*
سپریم کورٹ کے سامنے موجود معاملہ اس لیے اہم ہے کہ اس کے اثرات عمران خان تک محدود نہیں رہیں گے۔
*اگر عدالت بنیادی آئینی اصول واضح کرتی ہے تو پاکستان بھر کی جیلوں میں قیدیوں کے طبی علاج، ماہر ڈاکٹروں سے رجوع، جیل سے باہر ہسپتال منتقلی اور ایسے معاملات میں عدالتی مداخلت کے لیے ایک جامع قومی معیار وضع ہوسکتا ہے۔*
*عدالت کو یہ واضح کرنا پڑ سکتا ہے کہ قیدی کو طبی ضرورت کے مطابق ماہر علاج حاصل کرنے کا قابل نفاذ حق حاصل ہے یا نہیں، جیل کے اندر دستیاب طبی سہولت کی ناکافی ہونے کا فیصلہ کون کرے گا، سول یا نجی ہسپتال میں منتقلی کب ممکن ہوگی، نجی ہسپتال کا انتخاب قیدی کرے گا یا جیل انتظامیہ، متنازع طبی معاملات میں آزاد میڈیکل بورڈ کی ضرورت ہوگی یا نہیں اور قیدی کے ذاتی معالج کا قانونی کردار کیا ہوگا۔*
اسی طرح یہ سوال بھی اہم ہوگا کہ کیا سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر انتظامیہ عدالت کے حکم میں متعین ہسپتال تبدیل کرسکتی ہے اور اگر ایسا کرنا ضروری ہو تو کیا پہلے عدالت سے اجازت یا وضاحت حاصل کرنا لازم ہے۔
*سب سے اہم سوال یہ ہوگا کہ کیا یہی اصول ہر قیدی پر بلاامتیاز لاگو ہوگا۔*
*اب بنیادی سوال سے فرار ممکن نہیں*
حکومت کہتی ہے کہ کسی قیدی کو ترجیحی سلوک نہیں ملنا چاہیے۔
تحریک انصاف کہتی ہے کہ عمران خان کو وہ طبی سہولت ملنی چاہیے جس کا حکم سپریم کورٹ نے دیا ہے۔
*اور عام قیدیوں کے لواحقین اب کہہ رہے ہیں:*
*قانون سب کے لیے ایک جیسا نافذ کیا جائے۔*
یہی مطالبہ اس پورے تنازع کا سب سے اہم اور دور رس نتیجہ ثابت ہوسکتا ہے۔
اگر قانون ایک قیدی کے لیے غیر معمولی طبی سہولت کی اجازت دیتا ہے تو عدالت کو اس استثنا کی واضح، معروضی اور قانونی بنیاد بھی متعین کرنا ہوگی۔
اور اگر قانون ترجیحی طبی سلوک کی اجازت نہیں دیتا تو ریاست کی ذمہ داری ہوگی کہ سنگین طبی مسائل میں مبتلا عام قیدیوں کو بھی تمام ضروری طبی سہولیات ایک شفاف اور یکساں نظام کے تحت فراہم کرے۔
*عمران خان سے ہر قیدی تک:* *اصل آئینی امتحان*
*اس تنازع کو محض تحریک انصاف اور وفاقی حکومت کے درمیان سیاسی کشمکش تک محدود نہیں کیا جانا چاہیے۔*
*اس کے مرکز میں ایک ایسا آئینی اصول موجود ہے جو جیل میں موجود ہر شخص پر یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔*
*قید کسی شخص کی آزادی سلب کرتی ہے، اس کے انسانی وقار اور ضروری طبی علاج کے حق کو ختم نہیں کرتی۔*
*اسی طرح کسی قیدی کی سیاسی مقبولیت یا عہدہ اسے ایسے خصوصی حقوق خود بخود فراہم نہیں کرسکتا جو عام قیدی کو حاصل نہ ہوں۔*
*اب عدلیہ کے سامنے اصل چیلنج ایک ایسا اصول وضع کرنا ہے جو بیک وقت واضح، منصفانہ اور سب کے لیے یکساں ہو۔*
*نہ سیاست کی بنیاد پر خصوصی رعایت، نہ غربت کی بنیاد پر محرومی، نہ اثر و رسوخ کی بنیاد پر استثنا، نہ گمنامی کی وجہ سے علاج سے انکار۔*
*اگر سپریم کورٹ قیدیوں کے طبی علاج کے لیے شفاف، یکساں اور ملک گیر قابل اطلاق اصول وضع کرتی ہے تو عمران خان کے ہسپتال منتقلی کا موجودہ تنازع ایک وسیع تر آئینی تحفظ کی بنیاد بن سکتا ہے جس کا فائدہ پاکستان کی ہر جیل میں موجود ہر ایسے قیدی کو پہنچے گا جسے طبی ضرورت کے مطابق علاج درکار ہے۔*
*اب اصل سوال صرف یہ نہیں کہ عمران خان کا علاج کہاں ہونا چاہیے۔*
*اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے آئین اور قوانین کے تحت ہر قیدی، اس کی شناخت، حیثیت اور اثر و رسوخ سے قطع نظر، طبی انصاف کے یکساں معیار کا حقدار ہے؟*